دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 3 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

(5)بُرائی سے منع نہ کرنے کا وبال

قرآنِ کریم میں ارشادہوتاہے :

لُعِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى لِسَانِ دَاوٗدَ وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَؕ-ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ(۷۸) كَانُوْا لَا یَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْهُؕ-لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ(۷۹) (پ۶ ، المائدۃ : ۷۹ ، ۷۸)    

ترجمۂ کنزالایمان : لعنت کئے گئے وہ جنہوں نے کفر کیا بنی اسرائیل میں داؤد اور عیسٰی بن مریم کی زبان پر یہ بدلہ ان کی نافرمانی اورسرکشی کاجوبُری بات کرتے آپس میں ایک دوسرے کو نہ روکتے ضرور بہت ہی بُرے کام کرتے تھے۔

اِس آیتِ مبارکہ میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے بنی اسرائیل پر لعنت کرنے کی وجہ بیان فرمائی ہےکہ وہ اپنی قوم میں سے کسی کو گناہ کرتا دیکھتے تو اسے اس گناہ سے روکتے نہ تھے جس کی بناء پر اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے ان کے انبیاء  عَلَیْہِمُ السَّلَامکے ذریعے ان پر لعنت فرمائی۔ جلیل القدر مُفَسِّرِ قرآن علامہ طبری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی لکھتے ہیں کہ حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے اِس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا :  ’’بنی اسرائیل پر ہر زبان میں لعنت کی گئی ، حضرتِ سَیِّدُنا موسٰی عَلَیْہِ السَّلَامکےزمانے میں اُن پر تورات میں لعنت کی گئی ، حضرتِ سَیِّدُنا داود عَلَیْہِ السَّلَامکےزمانے میں اُن پرزبورمیں لعنت کی گئی ، حضرتِ سَیِّدُنا عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کے زمانے میں اُن پر انجیل میں لعنت کی گئی اور حضور سرورِ دوعالَم ، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے زمانے میں اُن پر قرآنِ پاک میں لعنت کی گئی۔ ‘‘حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’بنی اسرائیل میں سےایک شخص نے اپنےکسی بھائی کوگناہ کرتےہوئےدیکھا تو اسےسختی سےمنع کیا اور جب دوسرےدن اسےگناہ کرتے ہوئے دیکھا تو اسے اس گناہ سےمنع نہ کیا بلکہ اس کے ساتھ میل جول اور کھانے پینےمیں مشغول ہو گیا۔ تو اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ان لوگوں کے دلوں کو ایک دوسرے کی طرح کردیا (یعنی نیک لوگوں کے دلوں  کوبھی گناہ گاروں کے دل کی طرح سیاہ کردیا ) اوران  پران کے نبی حضرتِ سَیِّدُنا داود عَلَیْہِ السَّلَام اور حضرتِ سَیِّدُنا عیسیٰ بن مریم عَلَیْہِمَا السَّلَام کی زبانوں سےلعنت کی۔ ‘‘پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’اس ذات کی قسم! جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے ، تم ضرور نیکی کا حکم دیتے رہنا اور برائی سےمنع کرتےرہنا اور ضروربرائی کرنےوالوں کےہاتھ کو پکڑ لینا اور اسے حق پر عمل کرنے کے لیے مجبور کردینا  ورنہ اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہارےدلوں کوبھی ایک دوسرے کی طرح کردےگا اورتم پربھی اسی طرح لعنت کرےگا جس طرح ان پرلعنت کی۔ ‘‘([1])

(6)ہدایت و گمراہی رب کی طرف سے ہے

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :

وَ قُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ- فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآءَ فَلْیَكْفُرْۙ-       (پ۱۵ ، الکھف : ۲۹)

ترجمۂ کنزالایمان : اور فرما دو کہ حق تمہارے رب کی طرف سے ہے تو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے۔

سردارانِ کفار کی ایک جماعت نے سید عالَم ، نورِمجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے عرض کیا کہ ہمیں غرباء اور شکستہ حالوں کے ساتھ بیٹھتے ہوئے شرم آتی ہے ، اگر آپ انہیں اپنی صحبت سے جدا کردیں تو ہم اسلام لے آئیں اور ہمارے اسلام لانے سے خلقِ کثیر اِسلام لے آئے گی۔ اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔ ([2])

جلیل القدر مُفَسِّر ِقرآن علامہ طبری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیاِس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ  اپنے نبی حضرت محمد مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسےاِس بات کا تذکرہ فرماتاہےکہ وہ لوگ جن کے دِل ہماری یادسے غافل ہیں اور وہ اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں ، آپ اُن سے فرما دیجئے : اے لوگو! حق تمہارے رب ہی کی طرف سے ہے اور اسی کی طرف سے نیکی کی توفیق دینا اور چھیننا ہے اور اسی کے ہاتھ میں ہدایت اور گمراہی ہے ، وہ تم میں سے جسے چاہتاہےسیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتاہےتو وہ ایمان لے آتاہےاور جسے چاہتاہے ہدایت سے گمراہ کردیتاہےتو وہ کفر کرتاہے۔ (رب تعالیٰ کی مرضی اور اس کے حکم کے بغیر)ہدایت وگمراہی دینے کااختیارمیرے پاس نہیں اور نہ ہی تمہاری خواہشات کی وجہ سے ان غریب صحابہ کو دور کرنے کا اختیار ہے جو حق کی پیروی کرتے ہیں اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ پر اور جو اس نے مجھ پر نازل کیاہے اس پر ایمان لاتے ہیں۔ پس اگر تم چاہو تو ایمان لاؤاور چاہو تو کفر کرواور بے شک اگر تم کفر کرتے ہو تو تمہارے رب نے تمہارے انکار کے سبب ایسی آگ تیار کر رکھی ہے کہ جس کی دیواریں تمہارا احاطہ کیے ہوئے ہیں اور اگر تم اس پر ایمان لاتے ہو اور اس کی اطاعت گزاری والے اعمال کرتے ہوتوبیشک تمہارے لیے وہ ہے جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اپنے اطاعت گزاروں کے لیےوصف بیان کیاہے۔ ‘‘([3])

آیت مبارکہ کی باب سے مناسبت:

 



[1]   تفسیر طبری ،  پ۶ ، المائدۃ ، تحت الایۃ : ۷۸  ، ۴ / ۶۵۷ ، ۶۵۶ملتقطاً۔

[2]   خزائن العرفان ، پ۱۵ ، الکہف ، تحت الایۃ : ۲۹۔

[3]   تفسیر طبری ،  پ۱۵ ، الکھف  ،  تحت الایۃ : ۲۹ ، ۸ / ۲۱۶۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن