30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تُصَلِّيَ بِالنَّاسِ حِينَ اَشَرْتُ اِلَيْكَ؟ فَقَالَ اَبُو بَكْرٍ: مَا كَانَ يَنْبَغِي لِابْنِ اَبِي قُحَافَةَ اَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ([1])
ترجمہ : حضرت سیدنا ابو العباس سہل بن ساعدی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ خبر پہنچی کہ بنی عَمرو بن عوف کے درمیان کوئی جھگڑا ہےتو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماُن کے درمیان صلح کروانےکے لیے کچھ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے ساتھ تشریف لے گئے ، وہاں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو تاخیر ہوگئی اور(یہاں)نماز کا وقت ہوگیا۔ حضرت سیدنا بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ حضرت سیدنا ابو بکرصدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس آئے اور عرض کی : ’’اے ابو بکررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ!حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تو وہیں ٹھہر گئے ہیں اور یہاں نماز کا وقت ہوگیا ہے ، کیا آپ لوگوں کو نماز پڑھادیں گے؟ سَیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : ’’اگر تم چاہتے ہو تو پڑھادیتے ہیں۔ ‘‘ پھر سیدنا بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اقامت کہی ، سیدنا صدیق اکبررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ آگے بڑھے اور تکبیر کہہ کر نماز شروع کردی۔ بقیہ لوگوں نے بھی آپ کی اقتداء میں تکبیر کہہ کر نماز شروع کردی۔
(بعد ازاں) رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف لے آئے اور صفوں میں چلتے ہوئے پہلی صف میں آکر مل گئےلوگوں نے تصفیق (یعنی ایک ہاتھ کی پشت پر دوسرا ہاتھ مارنا) شروع کردی۔ سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُجب نماز میں ہوتے تو کسی جانب متوجہ نہ ہوتے لیکن جب تصفیق زیادہ ہوئی تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ متوجہ ہوئے اور دیکھا کہ رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم موجود ہیں مگررسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو اپنی جگہ پر کھڑے رہنے کا اشارہ فرمایا۔ سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نےاپنے ہاتھ اُٹھائے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حمد بیان کی۔ پھر اُلٹے قدم پیچھے آئے اور صف میں کھڑے ہوگئے ۔ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آگے بڑھے اور لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشادفرمایا : “ اے لوگو! تمہیں کیا ہوا کہ جب تمہیں نماز میں کوئی معاملہ پیش آتا ہے تو تم تصفیق کرتے ہو؟تصفیق کا حکم تو عورتوں کے لیے ہے ، لہٰذا جب تم میں سے کسی کو نماز میں کوئی معاملہ درپیش ہو تو اسے چاہیے کہ وہ سُبْحَانَ اللہ کہے ، کیونکہ جب کوئی شخص سُبْحَانَ اللہ سنے گا تو وہ تمہاری طرف متوجہ ہوجائے گا۔ “ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سیدنا صدیق اکبررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے فرمایا : “ اے ابو بکر!جب میں نے تمہیں اشارہ کردیا تھا تو پھر تمہیں کس چیز نے لوگوں کو نماز پڑھانے سے روکا؟ “ سیدنا صدیق اکبررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی : ’’ یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ابو قحافہ کے بیٹے کی یہ جرأت نہیں کہ وہ رسولِ خدا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے آگے کھڑے ہوکر نماز پڑھائے۔ ‘‘
مسلمانوں کے درمیان صلح کروانا:
مذکورہ حدیث پاک کے ابتدائی حصے میں اِس بات کا بیان ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قبیلہ بنی عَمرو بن عَوف کے درمیان صلح کروانے کے لیے تشریف لے گئے۔ علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا مقصود بھی یہی حصہ ہے کیونکہ اس حدیث پاک میں مسلمانوں کے درمیان صلح کروانے کا بیان ہے اور یہ باب بھی مسلمانو ں کے درمیان صلح کروانے کا ہے۔ اس لیے علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے یہ حدیث مبارکہ اس باب میں بیان فرمائی ہے۔ عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی فرماتے ہیں کہ انصار کے دو قبیلے تھے اَوس اور خزرج۔ بنو عَمرو بن عوف یہ قبیلہ اَوس کی ایک شاخ ہے۔ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وہاں جانے کا سبب یہ تھا کہ اہل قباء آپس میں لڑ پڑے یہاں تک کہ انہوں نے ایک دوسرے پر پتھر برسائے۔ جب یہ خبر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو پہنچی تو ارشاد فرمایا : “ چلو ہم اُن کے درمیان صلح کروادیں۔ “ ([2])
حدیث سے ماخوذ چند اَہم اُمور کا بیان:
(1) حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قبیلہ بنی عَمرو بن عوف کے درمیان صلح کروانے کے لیے ظہر کی نماز کے بعد تشریف لے گئے اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی غیر موجودگی میں امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حکم سے ہی نماز عصر پڑھائی ، کیونکہ آپ نے سَیِّدُنَا بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ارشاد فرمایا تھا : ’’ اگر عصر کا وقت ہو جائے اورمیں نہ آؤں تو ابو بکر کو حکم دینا کہ وہ نماز پڑھائیں۔ ‘‘ ([3])
(2) امیر المؤمنین حضرت سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو یہ عظیم سعادت حاصل ہوئی کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی غیر موجودگی اور موجودگی دونوں حالتوں میں مسلمانوں کی امامت فرمائی۔
(3) تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی موجودگی وغیر موجودگی دونوں صورتوں میں نماز کا خصوصی اہتمام فرمایا کرتے تھے۔
(4) عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی فرماتے ہیں : ’’جب لوگوں نے تصفیق کی تو سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنی نماز میں مشغول رہے اور اُن کی طرف متوجہ نہ ہوئےکیونکہ وہ جانتے تھے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے نماز میں اِدھر اِدھر متوجہ ہونے سے منع فرمایا ہےپھر جب لوگوں نے بہت زیادہ تصفیق شروع کردی تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اُن
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع