30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ حدیثِ پاک میں اس بات کا بیان ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دو جھگڑنے والے اَفراد میں فقط ایک مبارک جملے سے صلح کروادی۔ اس حدیثِ پاک کی باب سے یہی مناسبت ہے اور علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے اسے اس باب میں اسی وجہ سے ذکر فرمایا ہے کہ اس میں دو لڑنے والے افراد کے مابین صلح کروانے کا بیان ہے اور یہ باب بھی لڑنے والوں کے مابین صلح کروانے کا باب ہے۔
دلیل الفالحین میں ہے : ’’ اِن میں سے ایک شخص دوسرے سے قرض میں کچھ کمی کرنے اور اس سے اس معاملے میں نرمی اختیار کرنےکا کہہ رہا تھاتو دوسرے شخص نے کہا کہ خدا کی قسم! میں کوئی کمی نہیں کروں گا۔ ابن حبان کی روایت میں ہے کہ اس نے یہ بات تین دفعہ کہی تو رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اُن کے درمیان صلح کروانے کے لیے تشریف لائے اور استفسار فرمایا : “ کہاں ہے وہ شخص جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم کھاکر کہتا ہے کہ میں نیک کام نہیں کروں گا؟ “ نیک کام سے مراد اپنے بھائی کے ساتھ نرمی والا معاملہ اور قرض میں کمی کرنا۔ ‘‘([1])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
قرض دار کے ساتھ نرمی کرنے کا حکم:
عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’اس حدیث میں قرض دار کے ساتھ نرمی برتنے ، اچھا سلوک کرنے اور قرضے میں کمی کرنے پر اُبھارا گیا ہے۔ نیز اِس حدیث میں حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم کھانے سے منع فرمایا کیونکہ اِس میں بندے کا خود مختار اور اپنے اِرادے پربذاتِ خود قادر ہونے کا معنیٰ پایا جارہا ہے گویا کہ اُس نے حتمی طور پر فیصلہ کر لیا کہ میں یہ کام نہیں کروں گااور یہ فرقہ قدریہ کے عقائد کے مشابہ ہے جو کہ بندے کے خود مختار ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں کہ بندہ اپنے اَفعال کے بارے میں خود مختار ہے ، اس لیے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اُنہیں اِس پر تنبیہ فرمائی اور وہ فورا ًسمجھ گئے اور اپنی قسم سے رُجوع کرلیا اور کہا کہ اِس مقروض کے لیے وہی ہے جو یہ چاہےیعنی قرضے میں کمی اور نرمی(جو چاہے میں اُس کے لیے کردوں گا)۔ ([2])
قرض میں کمی یا نرمی کا سوال کرنا جائز ہے:
شارح حدیث علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک میں اس بات کی دلیل ہے کہ اس طرح کسی سے قرضے میں کمی یا نرمی کا سوال کرنا جائز ہے بشرطیکہ بہت زیادہ اِصرار نہ کرے اور اِہانت نفس (یعنی اپنے آپ کو ذلیل کرنا) نہ ہو یا ایذا کا اندیشہ نہ ہو بلکہ ضرورۃً ایسا سوال کرنا جائز ہے۔ اِس حدیث سے یہ بھی پتہ چلا کہ بھلائی کے کام کو ترک کرنے کی قسم کھانا مکروہ ہے اور اگر کسی نے نیکی کے کام کو نہ کرنے کی قسم کھائی تو اُس کے لیے مستحب ہے کہ وہ قسم توڑدے اور کفارہ ادا کرے ، نیز اِس حدیث سے یہ بھی پتہ چلا کہ مسجد میں قرض کا مطالبہ کرنا ، صاحب حق سے حق میں کمی یا نرمی کرنے کی سفارش کرنا ، دو لڑنے والوں میں صلح کرنا ، اُن کے درمیان میانہ روی کے ساتھ جھگڑا ختم کروانا اور نیکی کے کام میں سفارش کو قبول کرنا جائز ہے۔ ‘‘([3])
تنگ دست قرض دار کو مہلت دینے کی فضیلت:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا گیا ہے کہ آج کل لوگ مجبور وتنگدست قرض دار کے ساتھ بھی بہت ہی نارَوا سلوک کرتے ہیں ، اس کے ساتھ نرمی کرنے کے لیے بالکل تیار نہیں ہوتے ، وہ جہاں مل جائے اُس کی عزت پامال کرکے رکھ دیتے ہیں ، آئے دن اُس کے گھر کے چکر لگاتے ، دروازہ بجاتے ، گھر کے باہر کھڑے ہوکر اُسے باتیں سناتے ، بلکہ بعض بے باک لوگ تو گالیاں تک بَک جاتے اور اُس بے چارے ، لاچار ، غریب اور بے بس شخص کی عزت کا جنازہ نکالتے نظر آتے ہیں ۔ حالانکہ احادیث مبارکہ میں تنگدست ومجبور قرض دار کے ساتھ نرمی کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔ چنانچہ اِس ضمن میں تین فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ملاحظہ کیجئے : (1) “ جو دنیامیں تنگ دست کو آسانی فراہم کرےگا ، اللہ عَزَّوَجَلَّدنیا وآخرت میں اُس کے لئے آسانیاں پیدا فرمائے گا۔ “ ([4]) (2) “ جس نے تنگد ست کو مہلت دی یااُس کے قرض میں کمی کی ، اللہ عَزَّوَجَلَّ قیامت کے دن اُسے اپنے عر ش کے سائے میں جگہ دے گا جس دن اُس سائے کے علا وہ کوئی سایہ نہ ہوگا۔ “ ([5]) (3) “ جس نے کسی تنگ دست کو مہلت دی تو اُس کے لئے ہر روز اُس قرض کی مثل صدقہ کرنے کا ثواب ہے۔ “ راوی کہتے ہیں کہ پھر میں نے سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو فرماتے ہوئے سنا : “ جس نے کسی تنگ دست کو مہلت دی تو اُسے روزانہ اتناہی مال دو مرتبہ
[1] دلیل الفالحین ، باب فی اصلاح بین الناس ، ۲ / ۴۹ ، ۵۰ ، تحت الحدیث : ۲۵۱ملتقطاً۔
[2] شرح بخاری لابن بطال ، کتاب الصلح ، باب ھل یشیر الامام بالصلح ، ۸ / ۹۸۔
[3] شرح مسلم للنووی ، کتاب المساقاۃ ، باب استحباب الوضع من الدین ، ۵ / ۲۲۰ ، الجزء العاشر۔
[4] مسلم ، کتا ب الذکر والدعا ، باب فضل الاجتماع علی تلاوۃ القران ، ص ۱۴۴۷ ، حدیث : ۲۶۹۹۔
[5] ترمذی ، کتا ب البیوع ، با ب ماجاء فی انظار المعسروالرفق بہ ، ۳ / ۵۲ ، حدیث : ۱۳۱۰۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع