دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 3 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

عَنْ اُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ بْنِ اَبِي مُعِيْط ٍقَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:لَيْسَ الْكَذَّابُ الَّذِي يُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ فَيَنْمِي خَيْرًا اَوْ يَقُوْلُ خَيْرًا. ([1])وَفِیْ رِوَایَۃِ مُسْلِـمٍ زِیَادَۃٌ قَالَتْ : وَلَمْ اَسْمَعْهُ يُرَخِّصُ فِيْ شَيْءٍ مِمَّا يَقُوْلُهُ النَّاسُ اِلَّا فِيْ ثَلَاثٍ تَعْنِي:الْحَرْبَ وَالْاِصْلَاحَ  بَيْنَ النَّاسِ وَحَدِيْثَ الرَّجُلِ امْرَاَتَهُ وَحَدِيْثَ الْمَرْاَةِ زَوْجَهَا. ([2])

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدَتُنا اُمِّ کُلثوم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے مروی ہے کہ میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے سنا : ’’ وہ شخص جھوٹا نہیں جو لوگوں کے درمیان صلح کروادے (کیونکہ) وہ اچھی نیت کے ساتھ بات پہنچاتا ہے یا اچھی بات کہتا ہے۔ ‘‘مسلم کی روایت میں الفاظ زائد ہیں کہ سیدتنا اُمّ کلثوم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں : “ میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو کسی ایسی بات کے بارے میں اجازت دیتے ہوئے نہیں سنا جسے لوگ جھوٹ بولتے ہیں مگر تین صورتوں میں( اجازت دی ہے) جنگ میں ، لوگوں میں صلح کراتے وقت اور شوہر کا بیوی کو اور بیوی کا شوہر کو خوش کرنے کے لیے جھوٹ بولنا۔ ‘‘

جھوٹ اور توریہ کی تعریف:

(1)’’واقع کے خلاف خبر دینے کو جھوٹ کہتے ہیں۔ ‘‘([3]) اور (2) توریہ یہ ہے کہ متکلم اپنے کلام سے وہ معنیٰ مراد لے جو ظاہر کے خلاف ہوں۔ ([4]) اسے آسان لفظوں میں یوں سمجھیے  ایک لفظ کے دو معانی ہوں ایک قریب یعنی مشہور اور دوسرا بعید یعنی غیر مشہور ، بولنے والا بعید معنیٰ مراد لے اور سننے والے کے ذہن میں قریبی معنیٰ کا وہم ڈالےجیسے کسی کو کھانے کے لیے بلایا ، وہ کہتا ہے : میں نے کھانا کھالیا۔ اس کے ظاہری معنیٰ یہ ہیں کہ ابھی کا کھانا کھالیا ہے مگر وہ یہ مراد لیتا ہے کہ کل کھالیا ہے۔

تین جگہوں پر خلاف واقعہ بات کرنا جائزہے:

مُفَسِّر شہِیر ،  مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تین موقعہ پر خلافِ واقعہ بات کہہ دینے کی اجازت دی کہ اُن کا انجام بہت اچھا ہے۔  یعنی جہاد میں اگر مسلمان کمزور ہوں کفار قوی ، پھر مسلمان کہیں کہ ہم بڑے طاقتور ہیں تم کو فنا کردیں گے ہمارے پاس سامان جنگ بہت ہے۔ جس سے کفار کا حوصلہ پست ہو بالکل جائز ہے کہ یہ اگرچہ ہے تو جھوٹ مگر ہے جنگی تدبیر۔ جن مسلمانوں میں آپس میں لڑائی ہو ان میں جھوٹ بول کر صلح کرادے کہ ہر ایک تک دوسرے کی دل خوش کن بات گھڑ کر سنادے کہ وہ تمہاری بڑی تعریف کرتا تھا ، تم سے مل جانے کا خواہش مند ہے وغیرہ وغیرہ۔ زوجین میں سے کوئی دوسرے سے اپنی بہت محبت ظاہرکرے حالانکہ اسے اتنی محبت نہ ہو یا اپنی بیوی سے زیور کا وعدہ کرے مگر بنوا  نہ سکے ، یہ سب اگرچہ ہے جھوٹ ، مگر ہے جائز کہ اِس میں معاشرے کی اِصلاح ہے۔ ‘‘([5])

عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’حدیثِ مذکور میں میاں بیوی کو جھوٹ بولنے کی جو اجازت دی گئی ہے اُس سےمراد یہ ہے کہ وہ محبت کے اِظہار کے لیے ، ایک دوسرے کو منانے یا خوش کرنے کے لیے جھوٹ بول سکتے ہیں نہ کہ دھوکہ دینے کے لیے کیونکہ دھوکہ دینا تو باجماعِ مسلمین حرام کام ہے۔ ‘‘([6])

صلح کروانے کے لیے خلاف واقعہ بات کہنا:

فقیہ اعظم ، حضرت علامہ ومولانا مفتی شریف الحق امجدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اس حدیث سے اقتضاءً یہ ثابت ہوتا ہے کہ دو فریق میں صلح کرانے کے لیے خلاف واقعہ ایسی بات کہنے کی اجازت ہے جس سے صلح میں مدد ملے۔ مگر بعض علما ءیہ فرماتے ہیں کہ جھوٹ کسی حال میں جائز نہیں اس سے مراد توریہ ہے یعنی ایسی ذو معانی بات کہنی جس میں سچ کا بھی پہلو ہو۔ لیکن تحقیق یہ ہے کہ جنگ اور  زوجین میں میل جول کرانے اور فریق میں صلح کروانے نیز اپنی یا کسی مسلمان کی جان ، مال ، عزت آبرو بچانے کے لیے خلافِ واقعہ بات کہنی جائز بلکہ مستحب ہے حتی کہ بعض صورتوں میں واجب مگر اس وقت جب کہ توریہ سے بھی کام نہ چلے اور خلافِ واقعہ بات کہے بغیر چارہ کار نہ ہواور اگر توریہ سے کام چل جائے تو خلافِ واقعہ بات کہنے کی اجازت نہیں۔ ‘‘([7])

صلح کروانے والا جھوٹا نہیں:

حدیثِ مذکور میں اُس شخص کے جھوٹا ہونے کی نفی کی گئی ہے جو لوگوں کے درمیان صلح کروانے کے لیے خلافِ واقعہ بات کرے۔ اُس کے جھوٹا نہ ہونے کا کیا مطلب ہے؟ اس کی وضاحت کرتے ہوئے عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : “ یعنی اُس پر جھوٹ کا گناہ نہیں۔ دو لڑنے والوں میں صلح کروانے والا اُن میں صلح کی نیت سے



[1]   بخاری ،  کتاب الصلح  ،  باب لیس الکاذب الذی یصلح بین الناس ، ۲  / ۲۱۰ ،  حدیث : ۲۶۹۲۔

[2]   مسلم ،  کتاب البر والصلۃ  ،  باب تحریم الکذب وبیان المباح منہ ،  ص ۱۴۰۴حدیث : ۲۶۰۵۔

[3]   التعریفات للجرجانی ،  ص۱۲۹۔

[4]   التعریفات للجرجانی ،  ص۵۱۔

[5]   مرآۃ المناجیح ، ۶ / ۶۱۰ ملتقطاً۔

[6]   شرح مسلم  ،  کتاب البر والصلۃ  ،  باب تحریم الکذب وبیان المباح منہ  ،  ۸ / ۱۵۸ ،  الجزءالسادس عشر ۔

[7]   نزہۃ القاری ، ۳ / ۸۴۸۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن