30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ترجمۂ کنزالایمان : مسلمان مسلمان بھائی ہیں تو اپنے دو بھائیوں میں صلح کرو۔
تفسیر ِقرطبی میں ہے : اِس آیتِ مبارکہ میں تین اہم مسائل کا بیان ہے : (1)’’تمام مسلمان دِین اور حُرمت میں بھائی بھائی ہیں نہ کہ نسب میں۔ اِسی لیے کہاجاتا ہے کہ دِینی رشتہ نسبی(خونی) رشتے سے زیادہ مضبوط ہوتا ہے کیونکہ نسبی رشتہ دِینی مخالفت سے ختم ہوجاتا ہے جبکہ دِینی رِشتہ نسبی مخالفت سے ختم نہیں ہوتا۔ ‘‘(2) ’’جن دو مسلمانوں کے درمیان جھگڑا ہوجائےاُن میں صلح کرواؤ۔ ‘‘(3)تیسرا مسئلہ یہ ہے کہ اِس آیت میں اور اِس سے پہلے والی آیت میں اِس بات کی دلیل ہے کہ بَغاوَت اِیمان کو زائل نہیں کرتی کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اُن لوگوں کو اُن کی سرکشی کے باوجود مؤمن کے نام سے پکارا ہے۔ ([1])
تفسیرِ طبری میں ہے : ’’جب دو مسلمان آپس میں لڑیں تو اُنہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اُس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا حکم یاد دلاؤ۔ ‘‘([2])
مُفَسِّر شہِیر حَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’یعنی لڑنے بھڑنے والے بھی مؤمن ہیں اور ہر مؤمن ، مؤمن کا بھائی ہے ، لہذا اِن میں ہر طرح سے صُلح کی کوشش کرو۔ ‘‘([3])
تفسیر ِکبیر میں ہے : دو گروہوں کی لڑائی میں صلح کروانے پر اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ڈرنے کا حکم نہیں فرمایا جبکہ یہاں دو بندوں میں صلح کروانے میں فرمایا : “ اللہ سے ڈرو۔ “ حالانکہ وہ معاملہ زیادہ اہم ہے وہاں ڈرنے کا حکم فرمانا چاہیے تھا؟ اِس کا فائدہ یہ ہے کہ دو گروہوں کے لڑنے میں جو خرابی اور نقصان ہوتا ہے اُس سے تمام لوگ متاثر ہوتے ہیں اور وہاں ہر شخص صلح کروانے کی کوشش کرتا ہے ، ہر شخص چاہتا ہے کہ جلد اَز جلد معاملہ سلجھ جائے ، اِس لیے وہاں ڈرنے کا حکم نہ دیا جبکہ دو شخصوں کی لڑائی میں سب لوگ متاثر نہیں ہوتے بلکہ بعض اَوقات توکچھ لوگ اپنے مَفاد کے لیے اُن کے درمیان جھگڑے کو مزید بڑھاتے ہیں ، اِس لیے وہاں فرمایا کہ صلح کرواؤ اور اللہ سے ڈرو۔ یا پھر اُس کی وجہ یہ ہے کہ اِس میں اِس طرف اِشارہ ہے کہ صلح کروانے والے باہم جھگڑنے سے اپنے آپ کو بچائیں ، (ایسا نہ ہو کہ صلح کروانےوالے خود لڑبیٹھیں) اِس لیے فرمایا : اور اللہ سے ڈرو۔ ‘‘([4])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 248 دومُسَلمانوں میں اِنصاف کرنا صدقہ ہے
عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُوۡلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ سُلَامَى مِنَ النَّاسِ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ كُلَّ يَوْمٍ تَطْلُعُ فِيۡهِ الشَّمْسُ تَعْدِلُ بَيْنَ الْاِثْنَيْنِ صَدَقَةٌ وَتُعِيۡنُ الرَّجُلَ فِي دَابَّتِهِ فَتَحْمِلُهُ عَلَيْهَا اَوْ تَرْفَعُ لَهُ عَلَيْهَا مَتَاعَهُ صَدَقَةٌ وَالْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌوَبِكُلِّ خَطْوَةٍ تَمْشِيۡهَا اِلَى الصَّلَاةِ صَدَقَةٌ وَتُمِيۡطُ الْاَذٰى عَنِ الطَّرِيۡقِ صَدَقَةٌ. ([5])
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’انسان کے ہر جوڑ پر صدقہ ہے ، ہر روز جس دِن سورج طلوع ہوتا ہے دو شخصوں کے درمیان اِنصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا صدقہ ہے ، کسی شخص کو اُس کی سواری پر سوار ہونے میں مدد کرنا یا اُس کا سامان اٹھا کرسواری پررکھ دینا بھی صدقہ ہے ، اچھی بات کہنا بھی صدقہ ہے ، نماز کے لئے جانے والا ہر قدم بھی صدقہ ہے ، راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا بھی صدقہ ہے۔ ‘‘
عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیاِس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں : ’’ہاتھوں اور پیروں کی ہڈیوں کو سُلامٰی کہتے ہیں۔ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی ہڈیاں اُس کے وجود کا اصل ہیں اور اُن سےبہت سے فوائد حاصل ہوتے ہیں کیونکہ انہیں کے ذریعے انسان چلتا پھرتا ہے ، یہ ہڈیاں انسان پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نعمتوں میں سے بہت بڑی نعمتیں ہیں تو انسان پر واجب ہے کہ وہ ہر نعمت کے بدلے میں شکر ادا کرے۔ لہٰذا جس طرح اس کو نعمت دی گئی ہے اس طرح وہ صدقہ کرے (اور یہ انسان کے لیے بہت مشکل ہے کہ ہر ہر نعمت کے بدلے صدقہ کرے) ، اس لیے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے بندوں پر کرم کیا کہ لوگوں کے درمیان عدل کرنے کو صدقہ کے مشابہ کردیا۔ ‘‘ مسلم کی روایت میں ہے سُلامٰی کا مطلب ہے انسانی ہڈیاں ، اور یہ تقریباً تین سو ساٹھ (360)ہیں۔ علامہ قرطبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اس حدیث کے ظاہر کا تقاضا یہ ہے کہ انسان واجبی طور پر (تین سو ساٹھ مرتبہ)صدقہ کرے لیکن اللہ عَزَّوَجَلَّ نے بندوں پر تخفیف فرمائی اور مستحبات کو صدقے کے قائم مقام بنادیا۔ ‘‘([6])
[1] تفسیر قرطبی ، پ۲۶ ، الحجرات ، تحت الایۃ : ۱۰ ، جزء : ۱۶ ، ۸ / ۲۳۱۔
[2] تفسیر طبری ، پ۲۶ ، الحجرات ، تحت الایۃ : ۱۰ ، ۱۱ / ۳۸۹۔
[3] نورالعرفان ، پ۲۶ ، الحجرات ، تحت الآیۃ : ۱۰۔
[4] تفسیر کبیر ، پ۲۶ ، الحجرات ، تحت الایۃ : ۱۰ ، ۱۰ / ۱۰۶۔
[5] مسلم ، کتاب الزکاۃ ، باب بیان ان اسم الصدقۃیقع علی کل نوع من المعروف ، ص ۵۰۴ ، حدیث : ۱۰۰۹۔
[6] عمدۃ القاری ، کتاب الصلح ، باب فضل الاصلاح بین الناس والعدل بینھم ، ۹ / ۶۰۲ ، تحت الحدیث : ۲۷۰۷۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع