30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہر وہ کلام بھی شامل ہے جس سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا پانے کا ارادہ کیا جائے۔ حدیث میں ہے کہ’’ ابن آدم کا سارا کلام اُس کے خلاف ہے ، اُس کے حق میں نہیں سوائے اُس کلام کے جس میں نیکی کی دعوت دی گئی ہو یا بُرائی سے منع کیا گیا ہو یا اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر کیا گیا ہو۔ ‘‘ ایک اورحدیث میں نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت ابو اَیوب اَنصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے فرمایا : “ کیا میں تمہیں ایسے صدقے کے بار ے میں نہ بتاؤں جسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اُس کا رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپسند کرتے ہیں؟ وہ یہ ہے کہ جب لوگ جھگڑا کریں تو تم اُن میں صلح کرواؤ اور جب ایک دوسرے سے دُور ہوں تو انہیں قریب کرو۔ “ امام اَوزاعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : “ اللہ عَزَّوَجَلَّ کو اِس قدم سے زیادہ محبوب کوئی قدم نہیں جو لڑنے والوں کے درمیان صلح کرنے کے لیے اُٹھے اور جو دو لڑنے والوں کے درمیان صلح کروائے ، اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس کے لیے جہنم سے براءَت لکھ دیتا ہے۔ “ ([1])
اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتا ہے :
وَ الصُّلْحُ خَیْرٌؕ- (پ۵ ، النساء : ۱۲۸)
ترجمۂ کنزالایمان : اور صلح خوب ہے۔
علامہ نووی نے اِس آیت کا صرف ایک جزء بیان فرمایا ہے ، پوری آیت مبارکہ یوں ہے :
وَ اِنِ امْرَاَةٌ خَافَتْ مِنْۢ بَعْلِهَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یُّصْلِحَا بَیْنَهُمَا صُلْحًاؕ-وَ الصُّلْحُ خَیْرٌؕ-وَ اُحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّؕ-وَ اِنْ تُحْسِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا(۱۲۸)
ترجمۂ کنزالایمان : اور اگر کوئی عورت اپنے شوہر کی زیادتی یا بے رغبتی کا اندیشہ کرےتو اُن پر گناہ نہیں کہ آپس میں صلح کرلیں اور صلح خوب ہےاور دل لالچ کے پھندے میں ہیں اور اگر تم نیکی اور پرہیزگاری کرو تو اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔
اِس آیت مبارکہ میں زوجین یعنی میاں بیوی کے درمیان صلح کا بیان ہے۔
تفسیرِرُوحُ البیان میں ہے : ’’زوجین کے درمیان صلح کا ہوجانا جُدائی ، بُرے سُلوک اور لڑائی جھگڑے سے بہتر ہے۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ صلح بھلائیوں میں سے ایک بھلائی ہے جس طرح جھگڑا بُرائیوں میں سے ایک بُرائی ہے۔ ‘‘([2])
اَبُوْ مُحَمَّد حُسَیْن بِنْ مَسْعُوْد بَغَوِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اِس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : ’’یعنی شوہر کا بیوی کو اختیار کرنے کے بعد بیوی کا اُس کے گھر پر قیام پذیر رہنا اور اپنے نان و نفقہ وغیرہ حقوق میں سے بعض حقوق چھوڑ کر مصالحت کرنا اِن دونوں کے درمیان فُرقت سے بہتر ہے۔ ‘‘([3])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِكُمْ۪- (پ۹ ، الانفال : ۱)
ترجمۂ کنزالایمان : تو اللہسے ڈرو اور اپنے آپس میں میل (صلح صفائی) رکھو۔
تفسیر کبیر میں ہے : اِس آیت مبارکہ میں دو بحثیں ہیں : (1)’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے عذاب سے ڈرو ، اُس کی نافرمانی مت کرو ، اپنے مابین ہونے والے جھگڑے کو چھوڑدواور اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تمہیں جو حکم دیں اُس پر راضی رہو۔ ‘‘(2)’’تمہارے درمیان جو زبانی کلامی اختلاف ہے ، اسے ختم کرو(یعنی آپس میں صلح کرلو)۔ ‘‘([4])تفسیر ِخازن میں ہے : ’’یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی فرمانبرداری کرتے ہوئے اُس سے ڈرو اور اُس کی مخالفت سے ڈرو اور مالِ غنیمت میں لڑائی اور جھگڑا چھوڑدو۔ اپنے حال کی اِصلاح کرو ، مالِ غنیمت کے معاملے کو اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اُس کے رسول کے سپرد کرکے اپنے درمیان مالِ غنیمت کی وجہ سے پیدا ہونے والے جھگڑے کو ختم کردو۔ ‘‘([5])
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْكُمْ (پ۲۶ ، الحجرات : ۱۰)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع