30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
’’شفاعت‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)حاکِم اپنی رعایا کے لیے جائز سفارش کرسکتا ہے۔
(2)حاکِم کا فریقین میں سے ایک فریق سے دوسرے فریق کے لیے سفارش کرنا جائز ہے۔
(3)معزز ہستی کی طرف سے کی گئی سفارش کو قبول کرنے یا نہ کرنے کا اختیار ہے۔
(4)نکاح اور شادی وغیرہ کے معاملات میں کسی ظاہری عیب کی وجہ سے دوسرے کو پسند نہ کرنے کی شرعی طورپر ممانعت نہیں ہے۔
(5)حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حکم اور سفارش میں فرق ہے ، آپ کے حکم کی اِتباع کرنا اس پر عمل کرنا ضروری ہے جبکہ سفارش پر عمل کرنا مستحب ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے مسلمان بھائیوں کے حق میں فقط جائز سفارشات کرنے اور ناجائز سفارشات سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
باب نمبر : 31 لوگوں کے درمیان صُلْح کروانے کا بیان
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اِسلام اُخوت اور بھائی چارے کا درس دینے والا دِین ہے ، یہ اپنے ماننے والےمسلمانوں کو آپس میں میل جول قائم رکھنے اور امن و سلامتی کے ساتھ رہنے کا درس دیتا ہے ، اِسلام میں جہاں والدین کے حقوق کا بیان ہے تو وہیں اَولاد کے حقوق کا بھی تفصیلی ذکر ہے ، جہاں زَوجَین کے حقوق کا بیان ہے تو وہیں رشتہ داروں کے حقوق کا بھی ذکر موجود ہے ، حتی کہ اِسلام میں پڑوسیوں کے حقوق بھی تفصیل سے بیان فرمائے گئےہیں ، الغرض مسلمان آپس میں متفرق نہ ہوں اِس لیے صلہ رحمی کے فضائل اور قطع تعلقی کی وعیدیں بھی بیان فرمائی گئیں ہیں تاکہ مسلمان ایک متحد قوم بن کر رہیں اور اگر بتقاضائے بشریت پھر بھی کوئی ایک دوسرے سے کسی بات پر جھگڑ پڑے تو دوسرے مسلمانوں کو اُن کے مابین صلح کروانے کا درسِ عظیم دیا گیا ہے ، مسلمانوں کے مابین صلح کروانے کے قرآن وسنت میں کثیر فضائل بیان فرمائے گئے ہیں۔ رِیاض الصالحین کایہ باب بھی لوگوں کے درمیان صُلح کروانے کے بارے میں ہے۔ علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے اِس باب میں 4آیات اور4اَحادیثِ مبارکہ بیان فرمائی ہیں۔ پہلے آیاتِ مبارکہ اور ان کی تفسیر ملاحظہ کیجئے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتا ہے :
لَا خَیْرَ فِیْ كَثِیْرٍ مِّنْ نَّجْوٰىهُمْ اِلَّا مَنْ اَمَرَ بِصَدَقَةٍ اَوْ مَعْرُوْفٍ اَوْ اِصْلَاحٍۭ بَیْنَ النَّاسِؕ- (پ۵ ، النساء : ۱۱۴)
ترجمۂ کنزالایمان : ان کے اکثر مشوروں میں کچھ بھلائی نہیں مگر جو حکم دے خیرات یا اچھی بات یالوگوں میں صلح کرنے کا۔
تفسیر رُوحُ البیان میں ہے : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ارشاد : “ جولوگوں میں صلح کرنے کا حکم دے۔ “ یعنی جب لوگوں کے درمیان لڑائی جھگڑا ہو تو شریعت کی حدود کا خیال رکھتے ہوئے اُن کے درمیان صلح کروائے۔ حدیث شریف میں ہے : “ کیا میں تمہیں ایسی نیکی کی خبر نہ دوں جو (نفلی) نماز اور صدقہ سے افضل ہے؟ “ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی : ’’ کیوں نہیں! ضرور اِرشاد فرمائیے۔ ‘‘فرمایا : “ لڑنے والوں میں صلح کروانا۔ آپس میں بغض رکھنا مونڈنے والا ہے ۔ میری مُراد یہ نہیں کہ سر مُونڈنے والا ہے بلکہ اِس سے مراد یہ ہے کہ دِین کو جڑ سے اکھاڑنے والا ہے۔ “ حضرت سیدنا ابو ایوب اَنصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : “ کیا میں تمہیں ایسے صدقے کے بارے میں نہ بتاؤں جو تمہارے لیے سُرخ اُونٹوں کو صدقہ کرنےسے بہتر ہے؟ “ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی : ’’کیوں نہیں۔ ‘‘ فرمایا : “ جب لوگ آپس میں جھگڑا کریں تو اُن میں صلح کرواؤ اور جب ایک دوسرے سے دُور ہوں تو اُنہیں ایک دوسرے کے قریب کرو۔ “ ([1])
اللہ و رسول کا پسندیدہ صدقہ:
تفسیرِقرطبی میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فرمان : ’’لوگوں میں صلح کرنے کا حکم دے۔ ‘‘کے تحت لکھا ہے : ’’یہاں لوگوں کے درمیان جس قسم کے بھی جھگڑے ہوتے ہیں جیسے قتل ، لوگوں کے جان و مال اور عزت و آبرو کےجھگڑے اورہر وہ چیز جس میں مسلمانوں کے درمیان اِختلاف اور فتنہ و فساد واقع ہو اُن سب میں اُن کے مابین صلح کروانامُراد ہے۔ اور اِس میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع