دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 3 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

   (5)جائز سفارش ضرور کرنی چاہیے کہ جائز سفارش کرنے والے کو ہر حال میں اس کی اچھی نیت کا ثواب ملے گا اگرچہ اس کی سفارش قبول ہو یا نہ ہو۔

          اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ مسلمانوں کو آپس میں اتفاق اور اتحاد نصیب فرمائے ، ایک دوسرے کی مدد کرنے اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں کام آنے کا جذبہ عطا فرمائے ، جائز سفارش کرنے اور ناجائز سفارش سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔                       آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر : 247                                                                                                حُضُور عَلَیْہِ السَّلَام کی سِفارِش

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي قِصَّةِ بَرِيْرَةَ وَزَوْجِهَا قَالَ: قَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ رَاجَعْتِهِ  قَالَتْ: يَا رَسُوْلَ اللَّهِ تَاْمُرُنِيْ؟ قَالَ:اِنَّمَا اَشْفَعُ قَالَتْ:لَا حَاجَةَ لِيْ فِيْهِ.([1])

ترجمہ : حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے حضرت سیدتنا بریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا اور اُن کے شوہر کے واقعے کے بارے میں مروی ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیدتنا بریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے فرمایا : “ کاش تم اپنے سابقہ شوہر کی طرف رُجوع کرلیتیں۔ “ حضرت سیدتنا بریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے عرض کی : “ یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کیا آپ مجھے حکم ارشاد فرما رہے ہیں؟ “ فرمایا : “ میں تو سفارش کر رہا ہوں۔ “ حضرت سیدتنا بریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے عرض کی : “ مجھے اُن کی ضرورت نہیں۔ “

حدیث پاک کا پس منظر:

حضرت سیدتنا بریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا اور آپ کے شوہر کا واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ حضرت سیدتنا بریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا ایک انصاری کی باندی تھیں ، آپ کے شوہر کا نام مغیث تھا ، یہ بنی مطیع  میں سے کسی کے غلام تھے ، مغیث شکل وصورت کےاعتبار سے خوبصورت نہ تھے۔ حضرت سیدتنا بریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو اُمّ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے خرید کر آازاد کردیا ۔ یہ شرعی قاعدہ ہے کہ جب کسی باندی کو آزاد کیا جاتا ہے تو اسے اختیار دے دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے شوہر جس کے نکاح میں وہ غلامی میں تھی اُسی کے نکاح میں رہے یا پھر اُسے چھوڑ دے ، اُسے خیارِ عتق کہتے ہیں۔ جب حضرت سیدتنا بریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکو خیارِ عتق ملا تو انہوں نے اپنے شوہر مغیث کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا ۔ جب اُن کے شوہر مغیث کو معلوم ہوا تو وہ بہت غمگین ہوئے۔ بعد ازاں رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیدتنا بریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے سفارش کی کہ وہ اپنے شوہر سے رجوع کرلیں۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیدتنا بریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے جو سفارش کی اُس کی حکمت بیان کرتے ہوئے مُفَسِّر شہِیر ،  مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’یعنی تمہارے لیے ثواب اور دِین و دُنیا کی بہتری اس میں ہے کہ تم نکاح فسخ نہ کرو اور اپنا حق فسخ استعمال نہ کرو۔ ‘‘([2])

حدیث پاک سے حاصل ہونے والے فوائد:

عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی فرماتے ہیں کہ اِس حدیث سے چند فوائد حاصل ہوئے : (1) حاکِم ، عالِم یا خلیفہ وقت کا رِیاعا کی ضرورت کے لیے سفارش کرنا جائز ہے۔ (2)حاکِم یا امام پر کوئی حرج نہیں کہ وہ فریقین میں سے جس فریق کا حق ثابت ہوچکا ہے اُس سے درخواست کرے کہ وہ اپنا حق وصول کرنے میں تاخیر کرے یا دوسرے فریق کے لیے اپنا حق چھوڑدے۔ (3) اگر کسی شخص سے ایسا کام کرنے کو کہا جائے جس کا کرنا اُس پر واجب نہیں تو اُس کے لیے جائز ہے کہ وہ سوال کرنے والے کو منع کردے خواہ درخواست گزار حاکِم ، عالِم یا کوئی اور مُعَزز ہستی ہوکیونکہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیدتنا بریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو کچھ نہ کہا جب انہوں نے آپ کی سفارش کو قبول نہ کیا ۔ (4) (نکاح اور شادی وغیرہ کے معاملے میں)کسی مسلمان کو  اُس کی بد صورتی ، بُرے اَخلاق یا کسی ایسی چیز کی وجہ سے طبعی طور پرناپسند کرنا جائز ہے جس سے عموماً لوگ نفرت کرتے ہیں ۔ ([3])

رسولُ اللہ کے حکم اور سفارش میں فرق ہے:

مُفَسِّر شہِیر ،  مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک سے چند مسئلے معلوم ہوئے : (1)ایک یہ کہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے کسی اُمَّتی کی شفاعت دوسرے اُمَّتی سے کرسکتے ہیں۔ (2) دوسرے یہ کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حکم اور سفارش میں فرق ہے۔ (3)تیسرے یہ کہ حکمِ رسول ماننا لازم ہے سفارشِ رسول ماننا واجب نہیں بلکہ اُمَّتی کو اختیار ہے جیسے نبی کی رائے کہ اِس کا بھی یہ ہی حکم ہے۔ ‘‘([4])

مدنی گلدستہ

 



[1]   بخاری ،  کتاب الطلاق ،  باب شفاعۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی زوج بریرۃ ،  ۳ /  ۴۸۹ ،  حدیث : ۵۲۸۳۔

[2]   مرآۃ المناجیح ، ۵ / ۶۴۔

[3]   عمدۃ القاری ،  کتاب الطلاق ،  باب شفاعۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی زوج بریرۃ  ،  ۱۴ / ۲۸۵ ،  تحت الحدیث : ۵۲۸۳۔

[4]   مرآۃ المناجیح ، ۵ / ۶۴۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن