دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 3 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

شرمندہ ہو اور معافی کا طلبگار ہو ، حاکمِ وقت کو بھی چاہیے کہ وہ اس کو معاف کردے لیکن جو غلط کام پر مُصِر ہو اس کی سفارش نہیں کی جائے گی اور حاکمِ وقت بھی اس کو معاف نہ کرے تاکہ لوگ اس سے باز رہیں۔ حدود میں شفاعت کرنا جائز نہیں۔ ‘‘([1])

ایسے شخص  کی سفارش کرنا سخت منع ہے جس پر کسی گناہ کے سبب حد واقع ہونے کا فیصلہ ہوگیا ہو یا کسی مسلمان کی حق تلفی ہوتی ہو۔ غزوۂ فتح مکہ کے دوران قبیلہ مخزومیہ کی ایک عورت نے چوری کی تو اس کے قبیلہ کے لوگ بولے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اس کی سفارش کون کرے گا؟ حضرت سیدنا اُسامہ بن زیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جو رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لاڈلے ہیں ان کے سوا سفارش کی جرأت کون کرسکتا ہے؟چنانچہ وہ لوگ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس سفارش طلب کرنے آئے۔ جب حضرت سیدنا اُسامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس عورت کے متعلق سفارش کی تو سرکارِ مدینہ ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا چہرہ انور متغیر ہوگیا ، اور ارشاد فرمایا : ’’تم مجھ سے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی حدود میں سے ایک حد کے متعلق سفارش کر رہے ہو ۔ ‘‘حضرت سیدنا اسامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میرے لیے مغفرت طلب فرمائیے۔ ‘‘ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے خطبہ دیا ، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حمد و ثناء بیان کی اور ارشاد فرمایا : “ اے لوگو! تم سے پہلی قومیں اِس لیے ہلاک ہوگئیں کہ جب اُن میں سے کوئی معزز آدمی چوری کرتا تو وہ اُس کو چھوڑ دیتے اور اگر کوئی کمزور یعنی غریب آدمی چوری کرتا تو اُس پر حد قائم کرتے۔ اُس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی جان ہےاگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتی تو میں اُس کا ہاتھ کاٹ دیتا۔ “ پھر اُس عورت کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ ([2])

ناجائز سفارشات کاسیلاب، لمحۂ فکریہ:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آج کل ہمارے معاشرے میں سفارش کا رُجحان بہت عام ہے ، ایک معمولی کام سے لے کر کسی بھی بڑے کام میں سفارش جُزو لازم کی حیثیت اختیار کرچکی ہے ، بڑے بڑے شہروں ، دِینی ودُنیوی تقریباً تمام اداروں میں سفارش کا کلچر عام ہوچکا ہے ،  کسی کو کوئی نوکری لینی ہو تو اس کے لیے سفارش ، کسی ادارے میں داخلہ لینا ہوتو اس کے لیے سفارش ، کوئی فارم جمع کروانا ہوتو اس کے لیے سفارش ،  کوئی بل جمع کروانا ہوتو اس کے لیے سفارش ، کوئی پروجیکٹ لینا ہوتو اس کےلیے سفارش ، کوئی زمین خریدنی ہوتو اس کےلیے سفارش ، کوئی اِدارہ ، اِنسٹیٹیوٹ ، اسکول ، کالج ، یونیورسٹی ، فیکٹری وغیرہ کھولنی ہو تو اس کےلیے سفارش ، اپنے موجودہ عہدے سے اوپر کے عہدے کے لیے ترقی کرنی ہوتو اس کےلیے سفارش ، کوئی دکان کھولنی ہوتو اس کےلیے سفارش ، کوئی مکان بیچنا ہوتو اس کے لیے سفارش ، الغرض کوئی کام بغیر سفارش کے نہیں ہوتا۔ یاد رکھیے ، اگر سفارش کسی اہل شخص کے لیے ہے یا کسی جائز کام کے لیے ہے یا کسی کا صحیح حق دلانے کے لیے ہے یا کسی کو ظلم سے بچانے کے لیے ہے یا اس کے علاوہ کوئی بھی ایسی صورت ہے کہ جس میں شرعاً سفارش کرنے کی اجازت ہے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں بلکہ بسا اوقات تو ایسی سفارش کرنا مستحب اور باعث اجروثواب ہے۔ لیکن اگر سفارش کسی نااہل شخص کے لیے ہو ، یا کسی ناجائز کام کے لیے ہو یا کسی کو ناجائز حق دلانے کے لیے ہو یا اِس سفارش میں کسی دوسرے مسلمان کی حق تلفی ہو ، اس پر ظلم ہوتا ہو ، یا کسی ایسےشخص کے حق میں سفارش کی جس پر حد واجب ہو چکی یا اس کے علاوہ کوئی بھی ایسی صورت ہو جس کی شرعاًاجازت نہیں تو ایسی سفارش کرنا ناجائز وحرام ، گناہ کبیرہ اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ ناجائز سفارشات میں دنیا وآخرت دونوں کی تباہی وبربادی مقدر ہے ، ناجائز سفارشات معاشرے کے بگاڑ کا بہت بڑا سبب ہیں ، ناجائز سفارشات محبتوں کو مٹاتی اور نفرتوں کو بڑھاتی ہیں ، ناجائز سفارشات قابل اور اَہل لوگوں کے ضائع ہونے کا بہت بڑا سبب ہیں ، ناجائز سفارشات رِزق میں تنگی کا باعث ہیں ،  الغرض ناجائز سفارشات میں کوئی بھلائی نہیں ،  یقیناً سمجھداری اسی میں ہے کہ ناجائز سفارشات کو ترک کرکے فقط جائز سفارشات ہی کی جائیں ، اِس سے اَہل اور باصلاحیت لوگ سامنے آئیں گے۔ اِس کی برکت سے ایک بہترین ، پُراَمن اور ترقی یافتہ معاشرے کے قیام میں مدد ملے گی۔  اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ

مدنی گلدستہ

’’پنجتن‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور

اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول

   (1)تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں ، ایک جسم کی مانند ہیں ، سب  کو چاہیے کہ ایک دوسرے کی خیرخواہی اورمدد کریں۔

   (2)اگر کسی مسلمان بھائی کی شرعاً جائز سفارش کے ذریعے مددکرنی پڑے تو اُس کی مدد کرنی چاہیے۔

   (3)اگر کوئی شخص اہل ہو یا کسی کا جائز حق دلانا ہو یا کسی کی ایسی خطا معاف کروانی ہو جس پر وہ شرمندہ ہے اور اس پر شرعی حد بھی نہیں ہے تو ایسے افراد کے حق میں سفارش کرنا بالکل جائز ہے۔

   (4)نااہل کے لیے ، ظالم کے لیے ، کسی مسلمان کا حق تلف کرنے کے لیے یا حُدُودُ اللہ کو معاف کروانے کے لیے سفارش کرنا حرام ہے۔

 



[1]   اکمال المعلم  ،  کتاب البر والصلۃ ،  باب استحباب الشفاعۃ فیما لیس بحرام ،  ۸ / ۱۰۷ ،  تحت الحدیث : ۲۶۲۷۔

[2]   بخاری ،  کتاب المغازی ،  باب :  ۵۵ ،  ۳ / ۱۰۸ ،  حدیث : ۴۳۰۴۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن