30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی طرف متوجہ ہوکر فرماتے : ’’اے لوگو!سفارش کرو اَجر پاؤگےاور اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے نبی کی زبان پر وہی جاری کرتا ہے جو وہ پسند فرماتا ہے۔ ‘‘ ایک روایت میں ہے : “ جو وہ چاہتا ہے۔ “
عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی فرماتے ہیں : ’’معنیٰ یہ ہیں کہ تم میں سے بعض بعض کی سفارش کریں تو اِس میں تمہارے لیے اَجر ہے۔ جب تم نے مجھ سے کسی حاجت مند کی سفارش کی اور میں نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قضا کے مطابق اُس کی حاجت کو پورا کردیا تو تمہیں بھی اَجر ملے گا۔ ‘‘سفارش کرنا مستحب ہے قرآن و حدیث میں اِس کی ترغیب دلائی گئی ہے چنانچہاللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے :
مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً یَّكُنْ لَّهٗ نَصِیْبٌ مِّنْهَاۚ- (پ۵ ، النساء : ۸۵)
ترجمۂ کنزالایمان : جو اچھی سفارش کرے اُس کے لیے اُس میں سے حصہ ہے۔
رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : “ جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ بھی اس کی مدد فرماتا رہتا ہے۔ ‘‘([1])
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’اِس حدیث پاک میں بھلائی کرنے ، بھلائی کا سبب بننے ، کسی کی مصیبت پر مطلع ہونے کی صورت میں اُس کی سفارش کرنے اور کمزور کی مدد کرنے پر اُبھارا گیا ہے کیونکہ ہر کسی کی افسر تک رسائی نہیں ہوتی اور ہر شخص اپنی بات دوسرے کو سمجھانے پرقادر نہیں ہوتا ( تو جو افسر تک پہنچ رکھتے ہیں اور دوسرے کی بات سمجھا سکتے ہیں وہ سفارش کریں اور حاجت مند کا مسئلہ حل کروادیں)لیکن جن کاموں کی سفارش کرنا جائز نہیں وہ اِس حدیث میں داخل نہیں۔ ‘‘([2])(مثلا ًکسی نا اہل کو منصب دلوانے کی سفارش یا گناہ کے کام کی سفارش یا ایسی سفارش جس سے دوسرے مسلمان کی حق تلفی ہوتی ہو۔ )
سفارش کرنے والے کو ہر حال میں ثواب ملے گا:
مذکورہ حدیث میں مسلمان کی سفارش کرنے والے کو ثواب کی بشارت دی گئی ہےکیا مسلمان کی سفارش کرنے والے کو ہر حال میں ثواب ملے گا؟ چنانچہ عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی حدیث پاک کے اِن الفاظ (اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے نبی کی زبان پر وہی جاری کرتا ہے جو وہ پسند فرماتا ہے)کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’یہ اِس بات کا بیان ہے کہ جس نے سفارش کی اسے ہر حال میں ثواب ملے گا خواہ اُس کی سفارش قبول ہو یا نہ ہو۔ کسی بڑے کو اپنے سے چھوٹے آدمی سے سفارش کرنے سے گریز نہیں کرنا چاہیےاور اگر وہ اُس کی سفارش قبول نہ کرے تو اسے ایذا بھی نہیں دینی چاہیے بے شک حضور نبی پاک ، صاحب لَولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیدتنا بریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے سفارش کی کہ وہ اپنے سابقہ شوہر سے رجوع کرلیں لیکن انہوں نے معذرت کرلی۔ ‘‘([3])
“ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے نبی کی زبان پر وہی جاری کرتا ہے جو وہ پسند کرتا ہے۔ “ اِس کی شرح کرتے ہوئے عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’یعنی اپنے علمِ ازلی کے مطابق جس کا ارادہ کرتا ہےکہ اس کی سفارش کا معاملہ ہوگا ، اس کی مراد حاصل ہوگی یا نہیں وغیرہ ۔ پس سفارش اور اُس پر مرتب ہونے والا ثواب مطلوب ہےجو کہ سفارش کرنے پر ہر حال میں ملے گا خواہ علمِ الٰہی میں اُس کا حُصُول مقدر ہو یا نہ ہو۔ ‘‘([4])
سفارش کی مختلف صورتوں کا بیان:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ حدیث میں مسلمان کی سفارش کرنے کی ترغیب دی گئی ہے ، سفارش کرنے کی مختلف صورتیں ہیں ، بعض صورتوں میں سفارش جائز اوربعض میں ناجائز۔ چنانچہ اکمال المعلم میں ہے : ’’قاضی یا بادشاہ کے پاس حاجت مندوں کی سفارش کرنا مستحب ہے اور اس پر اجر بھی ہے ، اس کی دلیل مذکورہ حدیث اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کا یہ فرمان عالیشان ہے :
مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً یَّكُنْ لَّهٗ نَصِیْبٌ مِّنْهَاۚ- (پ۵ ، النساء : ۸۵)
ترجمۂ کنزالایمان : جو اچھی سفارش کرے اس کے لیے اس میں سے حصہ ہے۔
حدیث پاک میں اس بات کا بیان ہے کہ مسلمان کی قول یا فعل سے مدد کرنے پر اجر ہے اگر کسی سے کوئی لغزش ہوجائے اور اس پر حد نہ ہو تو اس کی سفارش کرنا جائز ہے جبکہ وہ اس پر
[1] عمدۃ القاری ، کتاب الزکاۃ ، باب التحریض علی الصدقۃ والشفاعۃ فیھا ، ۶ / ۴۱۰ ، تحت الحدیث : ۱۴۳۲۔
[2] دلیل الفالحین ، باب فی الشفاعۃ ، ۲ / ۴۲ ، تحت الحدیث : ۲۴۷۔
[3] عمدۃ القاری ، کتاب الزکاۃ ، باب التحریض علی الصدقۃ والشفاعۃ فیھا ، ۶ / ۴۱۰ ، تحت الحدیث : ۱۴۳۲۔
[4] دلیل الفالحین ، باب فی الشفاعۃ ، ۲ / ۴۲ ، تحت الحدیث : ۲۴۷۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع