30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(5)حقیقی مددگار اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی ہے اور اُس کی عطا سے اُس کے بندے بھی ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں، اور اُس کے بندوں میں کسی کو حاجت روا یا مشکل کشا کہنا بالکل جائز ہے۔
(6)علم کے حصول کے لیے کسی راستے پر چلنے والے کے لیے جنت کا راستہ آسان کردیا جاتا ہے۔
(7)اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے گھر میں تلاوتِ قرآنِ مجید، اجتماعِ ذِکرونعت اور تعلیم وتعلم کی مجالس منعقد کرنا بالکل جائز امر اور بڑے ثواب کا باعث ہےاور یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے گھروں کو آباد کرنا ہے۔
(8)ہمیں چاہیے کہ اپنے دیگر مسلمان بھائیوں کی خبرگیری بھی کرتے رہا کریں، اور اگر انہیں کسی چیز کی حاجت ہو تو اُن کی حاجت رَوائی اور مدد بھی کریں۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے مسلمان بھائیوں کی خیر خواہی کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، اُن کی حاجت روائی کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، اُن کی تکالیف کو دُور کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، اُن کی مدد کرنے کی طاقت وقوت عطا فرمائے ، علم دِین حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، تلاوتِ قرآنِ مجید ، اجتماعِ ذکرونعت ، اور علمِ دِین حاصل کرنے کے لیے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے گھرمیں مجالس ومحافل منعقد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو!قرآن وحدیث میں تمام مسلمانوں کو ایک دوسرے کا بھائی قرار دیا گیا ہے ، مسلمانوں کے مابین اس دینی رشتے کو قائم کرنے کی بنیادی وجہ بھی یہ ہے کہ تمام مسلمان آپس میں اتحاد واتفاق ، پیار ومحبت سے رہیں ، ایک مسلمان اپنے دوسرے مسلمان بھائی کی تکالیف کو اپنی تکالیف سمجھے ، اسے جب کوئی پریشانی لاحق ہو تو اسے دور کرنے کی کوشش کرے۔ اگر وہ بذاتِ خود اپنے مسلمان بھائی کا مسئلہ حل کرسکتا ہے تو خود حل کرے ورنہ کسی ایسے مسلمان بھائی سے اُس کے مسئلے کو حل کرنے کی سفارش کرے جو اُسے حل کرسکتا ہو۔ کسی مسلمان بھائی کی مدد کرنے کےلیے دوسرے مسلمان بھائی سے سفارش کرنا بھی دراصل اُسی کی مدد کرنا ہےجبکہ وہ سفارش شرعی طور پر جائز ہو۔ ریاض الصالحین کا یہ باب بھی سفارش کے بارے میں ہے ، علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے اِس باب میں 1آیت اور2اَحادیث مبارکہ بیان فرمائی ہیں۔ پہلے آیت اور اس کی تفسیرملاحظہ کیجئے۔
مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً یَّكُنْ لَّهٗ نَصِیْبٌ مِّنْهَاۚ- (پ۵ ، النساء : ۸۵)
ترجمۂ کنزالایمان : جو اچھی سفارش کرے اس کے لیے اس میں سے حصہ ہے۔
تفسیرِ خازِن میں ہے : ’’سفارش کا مطلب یہ ہے کہ اِنسان کسی حاجت مند کے لیے بذاتِ خود سفارش کرے یہاں تک کہ اُس کے مسئلے کے لیے جس سے سفارش کی جائے اُس کے پاس اُس کے ساتھ حاضر ہو۔ اِس قول کے پیشِ نظر مذکورہ آیت میں شفاعت سے اِنسان کا کسی ضرورت مند کو نفع پہنچانا یا اُسے کسی مصیبت سے خلاصی دِلانے کے لیے سفارش کرنا مُراد ہے۔ ‘‘([1]) تفسیرروحُ البیان میں ہے : ’’آیت مبارکہ میں ’’حصہ‘‘سے مراد سفارش کرنے کا ثواب اوروہ اجر ہے جو بھلائی کا سبب بنا۔ شفاعتِ حسنہ سے مراد یہ ہے کہ مسلمان کے حق کی رعایت کرتے ہوئے اُس سے شر کو دُور کیا جائےیا اُسے نفع پہنچایا جائے اور یہ کاماللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کے لیے ہو اِس پر کسی قسم کی رشوت نہ لی جائے اور جس کام کی سفارش کی جائے وہ جائز ہو ، نہ تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حدود میں سے کسی حد سے متعلق ہو اور نہ ہی وہ کسی بندے کا حق ہو۔ ‘‘([2])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 246 سفارش کرنے پر ثواب
عَنْ اَبِيْ مُوْسَى الْاَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِذَا اَتَاهُ طَالِبُ حَاجَةٍ اَقْبَلَ عَلَى جُلَسَائِهِ فَقَالَ اشْفَعُوْا تُؤْجَرُوْا وَيَقْضِي اللَّهُ عَلٰى لِسَانِ نَبِيِّهِ مَا اَحَبَّ.([3]) وَفِیْ رِوَایَۃٍ مَا شَاءَ. ([4])
حضرت سیدنا ابو موسٰی اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ جب کوئی حاجت مند بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوتاتو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے ہم نشین
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع