30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہونے کی وجہ سے اطمینان حاصل ہوتا ہے ۔ یہ بھی کہاگیا ہے کہ سکینہ سے مراد ایک فرشتہ ہے جو مؤمن کے دل پر نازل ہوتا ہےا ور اسے بھلائی کا حکم دیتا ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ سکینہ سے مراد رحمت ، وقار ، سکون اور خشیت ہے۔ ([1])
تلاوت کے لیے مسجد میں جمع ہونا جائزہے :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ بالا حدیث پاک سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مساجد میں تلاوت قرآن کریم ، اجتماع ذکر ونعت ، تعلیم وتعلم یعنی ہر وہ اجتماع جس میں علم دِین سیکھنے سکھانے کا سلسلہ ہو یہ تمام یا اس جیسے دیگر اجتماعات کا مسجد میں قائم کرنا بالکل جائز ہے۔ حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَھَّاب فرماتے ہیں : ’’لوگوں کا تلاوتِ قرانِ مجید کی خاطِر مساجد میں جمع ہونامباح یعنی بالکل جائِز ہےاوربسا اَوقات یہ اجتماعِ تعلیم و تعلم یعنی علمِ دِین سیکھنے سکھانے کے لیے بھی ہوتاہے۔ ‘‘([2])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیث پاک تو ببانگ دہل ہمیں یہ پیارے مدنی پھول ارشاد فرمارہی ہے کہ اپنے مسلمان بھائی کی تکلیف کو دورکرو تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہاری تکالیف کو دور فرمائےگا ، اپنے بھائی پر کشادگی کرو اللہ عَزَّ وَجَلَّ دونوں جہاں میں تمہیں کشادگی عطا فرمائےگا ، جب تک تم اپنے بھائی کی مدد کرتے رہو گےاللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہاری مدد فرماتا رہے گا۔ لیکن کیا ہم نے کبھی اپنا محاسبہ کیا؟ کبھی اپنے دیگر مسلمان بھائیوں کے بارے میں سوچا کہ کہیں انہیں کوئی تکلیف تو لاحق نہیں ہے؟ کہیں وہ تنگدستی کی حالت میں تو نہیں ہیں؟ کہیں انہیں ہماری مدد کی ضرورت تو نہیں ہے؟ اگر ہم ایسی مدنی سوچ رکھتے ہیں تو صد کروڑ مرحبا اور اگر نہیں تو لمحہ فکریہ ہے ، کاش !ہم بھی اپنے دیگر مسلمان بھائیوں کے دُکھ درد میں شریک ہونے والے بن جائیں ، اُن کی مدد کرنے والے بن جائیں ، اُن کی تکالیف کو دُور کرنے والے بن جائیں ، کاش! مسلمان بھائیوں کی حاجت روائی کو ہم اپنا شعار بنالیں۔
حجۃ الاسلام حضرت سیدنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی اِحیاء العلوم میں ایک واقعہ نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنے دوست کے دروازے پر دستک دی۔ اس نے دروازہ کھولا اور پوچھا : ’’ کیسے آناہوا؟‘‘اس نے کہا : ’’مجھ پر چارسو درہم قرض ہیں ، میری مدد کرو۔ ‘‘اس نے چارسو درہم اپنے اس مقروض دوست کے حوالے کردیے اور پھر روتا ہوا جب گھروالوں کے پاس واپس آیا ، تو اس کی زوجہ نے کہا : ’’اگر آپ کو اپنے وہ دراہم دوست کو دینا اتنا ہی ناگوار تھا تو آپ انہیں نہ دیتے۔ ‘‘اس نے کہا : ’’اے نیک بخت! میں اِس لیے نہیں رو رہا ہوں کہ میں نے اپنے چار سودرہم اپنے دوست کو دے دیے بلکہ میں تو اس لیے رورہا ہوں کہ میں اپنے دوست کے حال سے اتنا بے خبر ہوں کہ وہ مَقروض ہوگیا اور مجبور ہو کر میرے دروازے پر چلا آیا۔ ‘‘([3])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!پہلے کے لوگوں میں کس قدر دوسروں کی تکلیف کا اِحساس اور اُن کی حاجت روائی کا جذبہ ہواکرتاتھا۔ افسوس!اِس دور میں دوست تو دُور کی بات خونی رشتوں یعنی بہن بھائیوں کے حالات سے عدم واقفیت عام ہوچکی ہے ، اِس بات کی قطعاً پرواہ نہیں کی جاتی کہ بہن بھائی ، والدین عزیزواَقارب ، دوست اَحباب کیسے حالات میں جی رہے ہیں؟ بس یہی خواہش ہے کہ مجھے آسائشوں بھری زندگی نصیب ہوجائے ، میں پُرسکون زندگی گزاروں ، مجھے کسی قسم کی کوئی تکلیف نہ ہو ، میرے بچے بھوکے نہ سوئیں۔ کاش! ہم اِس پیاری حدیث پاک پر عمل کرنے والے بن جائیں ، اپنے دیگر مسلمان بھائیوں کی حاجت روائی کرنے والے بن جائیں ، اُن کی تکالیف کو دور کرنے والے بن جائیں ، اُن کی مدد کرنے والے بن جائیں ، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ اِس حدیث پاک پر عمل کی برکت سے دنیاوآخرت کی بھلائیاں نصیب ہوں گی۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ عمل کی توفیق عطافرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
” گنبدخضرا“کے آٹھ حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے8مدنی پھول
(1)جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کی دُنیوی تکلیف کو دور کرے گا اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی اُخروی تکالیف میں سے ایک تکلیف کو دور فرمائے گا۔
(2)جو اپنے کسی مسلمان بھائی پر اُس کی تنگدستی کی حالت میں کشادگی کرے گا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ دونوں جہاں میں اُس پر کشادگی فرمائے گا۔
(3)جو دنیا میں اپنے کسی مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کرے گا اللہ عَزَّ وَجَلَّ قیامت میں اُس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔
(4)جو اپنے کسی مسلمان بھائی کی مدد کرے گا اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُس کی مدد فرمائے گا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع