30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ظاہر کردے گا یہا ں تک کہ وہ اپنے گھر ہی میں رُسوا ہوجائے گا۔ ‘‘([1]) (3) ’’جس نے کسی کی پر دہ پوشی کی گو یا اُس نے زندہ دفن کی گئی بچی کوزندہ کردیا ۔ ‘‘([2])
پردہ پوشی سے متعلق اہم مدنی پھول:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اگرچہ اسلام میں اپنے کسی بھی مسلمان بھائی کے عیوب کی پردہ پوشی کی ترغیب دلائی گئی ہے لیکن بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے گناہوں پر پردہ ڈالنے کی ممانعت ہے۔ چنانچہ حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّاب فرماتے ہیں : ’’ایسے لوگ جن کی غلطیوں یا گناہوں پر کئی مرتبہ پردہ ڈالا گیالیکن اِس کے باوجودانہوں نے گناہ ترک نہ کیے تو ایسوں کا پردہ چاک کرنا واجب ہے کیونکہ بارباراُن کی پردہ پوشی اُن کے گناہوں پر مُعاوَنت کے مُترادِف ہے۔ پردہ اُس معصیت کا ہے جو گزر چکی ہو۔ اگر کوئی شخص اپنے سامنے کسی کو معصیت کرتے ہوئے دیکھے اور اُس کو روکنے پر قادر ہو تو اُسے روکنا واجب ہے اور اگر وہ اُس پر قادر نہ ہو تو اُس معاملے کوحکام بالا(سلطان یاقاضی)کے پاس لے جائے ۔ ‘‘([3])
مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’ اگر کوئی حیا دار آدمی ناشائستہ حرکت خفیہ کر بیٹھے پھر پچھتائے تو تم اسے خفیہ سمجھا دو کہ اُس کی اصلاح ہوجائے اسے بدنام نہ کرو ، اگر تم نے ایسا کیا تو اللہ قیامت میں تمہارے گناہوں کا حساب خفیہ ہی لے گاتمہیں رُسوانہ کرے گا۔ ہاں جو کسی کی ایذا کی خفیہ تدبیریں کر رہا ہو ، یا خفیہ حرکتوں کا عادی ہوچکا ہو ، اُس کا اِظہار ضرورکردو تاکہ وہ شخص اِیذا سے بچ جائے ، یا یہ توبہ کرے یہ قیدیں ضرور خیال میں رہیں۔ غرضیکہ صرف بدنامی سے کسی کو بچانا اچھا ہے مگر اُس کے خفیہ ظلم سے دوسرے کو بچانا ، یا اُس کی اِصلاح کرنا بھی اچھا ہے ، یہ فرق خیال میں رہے۔ یہاں(صاحبِ)مرقات نے فرمایا کہ جو مسلمان کی ایک عیب پوشی کرے رب تعالیٰ اس کی سات سو(700)عیب پوشیاں کرےگا لہذا کُرْبَۃٌ کی تنوین تعظیمی ہے اور سَتَرَہُ اللہُ میں سترمطلق بمعنیٰ کامل ہے ربّ تعالیٰ کی عطائیں ہمارے خیالات سے وراء ہیں۔‘‘([4])
’’مدینہ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)تمام مسلمان آپس میں دِینی بھائی ہیں اور یہ دِینی رشتہ دُنیوی رشتے سے بہت قوی ہے۔
(2)تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ ایک دوسرے کی حاجت روائی کریں، ایک دوسرے کی تکالیف کو دور کریں، اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہماری قیامت کی تکالیف کو دور فرمائے گا۔
(3)اسلام ایک ایسا پیارا مذہب ہے جو اپنے ماننے والوں کو اَخوت وبھائی چارے، باہم حاجت روائی، معاونت اور ایک دوسرے کی تکالیف کو دُور کرنے کا درس دیتا ہے، یقیناً یہ تمام اُمور ایک پراُمن معاشرے کے قیام میں بہترین مُعاون کی حیثیت رکھتے ہیں۔
(4)حقیقی حاجت رَوا اور مشکل کشا رب تعالیٰ ہی ہے، مگر اُس نے اپنے بندوں کو ایک دوسرے کی حاجت روائی اور مشکل کشائی کی طاقت وقوت عطا فرمائی ہے، اِس لیے مسلمان بھی ایک دوسرے کے حاجت رَوا اور مشکل کشا ہوسکتے ہیں، لہٰذا کسی مسلمان کو حاجت رَوا یا مشکل کشا کہنے میں کوئی حرج نہیں۔
(5)کسی بھی مسلمان کے عیوب کی پردہ پوشی کرنا مسلمان کی شان ہے، ربّ تعالیٰ کی سنت ہے مگر جن عیوب کی پردہ پوشی سے کسی مسلمان یا دیگر مسلمانوں کا نقصان ہوتا ہواُن کو ظاہر کرنے کی شرعاً اجازت ہے،بلکہ بعض صورتوں میں ضروری ہے، کسی کو غلط کام یا گناہ کرتا دیکھیں اور اسے روکنے پر قادر ہوں تو فی الفور اُسے اُس گناہ سے روکنا واجب ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے مسلمان بھائیوں کی حاجت رَوائی اور مشکل کشائی کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، اُن کی تکالیف کو دُور کرنے اور اُن کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حديث نمبر : 245 مؤمن کی تکلیف دُور کرنے کی فضیلت
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًاسَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ اَخِيهِ وَمَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا لَى الْجَنَّةِ وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ ملَّا نَزَلَتْ عَلَيْهِمْ السَّكِينَةُ ، وَغَشِيَتْهُمْ الرَّحْمَةُ وَحَفَّتْهُمْ الْمَلَائِكَةُ وَذَكَرَهُمْ اللَّهُ فِيْمَنْ عِنْدَهُ وَمَنْ بَطَّا َبِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ. ([5])
[1] ابن ماجہ ، کتاب الحدود ، باب الستر علی المؤمن ، ۳ / ۲۱۹ ، حدیث : ۲۵۴۶۔
[2] ابن حبان ، کتاب البروالصلۃ ، باب الجار ، ۱ / ۳۶۷ ، حدیث : ۵۱۸۔
[3] اکمال المعلم ، کتاب البر والصلۃ ، باب تحریم الظلم ، ۸ / ۴۹ ، تحت الحدیث : ۲۵۸۰۔
[4] مرآۃ المناجیح ، ۶ / ۵۵۱۔
[5] مسلم ، کتاب الذکر والدعاوالتوبۃ والاستغفار ، باب فضل الاجتماع علی تلاوۃ القرآن ، ص۱۴۴۷ ، حدیث : ۲۶۹۹۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع