دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 3 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

جس نے مجھے خوش کیا اُس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کو خوش کیا اور جس نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کو خوش کیا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اُسے جنت میں داخل کرے گا۔   “ ([1])

اپنے مسلمان بھائی کی حاجت روائی کو سب سے افضل اَعمال میں شمار فرمایا گیا ہے۔ چنانچہ حضرت سیدنا عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا : ’’سب سے افضل عمل مؤمن کے دل میں خوشی داخل کرناہے خواہ اُس کی ستر پوشی کرکے ہو یا اُسے شکم سیر کرکے یا اُس کی حاجت پوری کرنے کے ذریعے ہو۔ ‘‘([2])

ایک روایت میں ہے کہ ’’تم میں سے جو کوئی اپنے بھائی کی حاجت پوری کرنے کے لئے چلے تو یہ عمل میری اِس مسجد(یعنی مسجدِنبوی) میں دومہینے اِعتکاف کرنے سے افضل ہے۔ ‘‘([3])

مسلمان حاجت رَوا  اورمشکل کشا ہے:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حدیث پاک میں ایک مسلمان کی اپنے دوسرے مسلمان بھائی کی حاجت روائی اور مدد کرنے کا بیان ہے ، اِس سے معلوم ہوا کہ ہر مسلمان اپنے دوسرے مسلمان بھائی کی حاجت روائی یعنی اس کی حاجت کو پورا اور مشکل کشائی یعنی اُس کی مشکل کو دُور کرسکتا ہے بلکہ ایسا کرنا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حکم پر عمل کرنا ہے ، لہٰذا کسی مسلمان کو ’’حاجت رَوا ‘‘یا ’’مُشکل کشا‘‘ کہنا بلکل درست ہے۔ واضح رہے کہ حقیقی حاجت رَوا اور مشکل کشا فقط رب تعالیٰ ہے البتہ اُس کی عطا اور فضل وکرم سے اُس کے بندے آپس میں ایک دوسرے کے حاجت رَوا اور مشکل کشا ہیں۔ مُفَسِّر شہِیر ،  مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’سُبْحَانَ اللہ! کیسا پیارا وعدہ ہے ، مسلمان بھائی کی تم مددکرو اللہ تمہاری مدد کرے گا ، مسلمان کی حاجت روائی تم کرو اللہ تمہاری حاجت روائی کرے گا۔ معلوم ہوا کہ بندہ بندے کی حاجت روائی کر سکتا ہے ، یہ شرک نہیں ، بندہ بندے کا حاجت روا مشکل کشا ہے۔ ‘‘([4])

مسلمان کی تکلیف دور کرنے کی فضیلت:

حدیثِ پاک میں ارشاد ہوا کہ جو کسی مسلمان کی دُنیوی تکلیف کو دور کرے گا تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس کی قیامت کی تکالیف میں سے ایک تکلیف دور فرمائےگا ، پیارے اسلامی بھائیو! یقیناً یہ ایک نفع بخش تجارت ہے بلکہ ایسی تجارت ہے جس میں نفع ہی نفع ہے ، دنیامیں کسی مسلمان کی تکلیف کو دُور کرنا بہت آسان ہے ، لیکن کل بروزِقیامت بندے کو جوتکالیف ملیں گی وہ بہت شدید ہوں گی ، قیامت کا ایسا ہولناک دن ہوگا جس میں ہرشخص کو اپنی فکر ہوگی کہ کسی طرح میں نجات پاجاؤں ، ماں اپنی اولاد سے دُور بھاگے گی ، باپ بیٹے سے جان چھڑائے گا ، الغرض کل کوئی کسی کا نہ ہوگا ، ہرشخص اپنے حساب وکتاب کے خوف سے اپنے اپنے اعمال کے مطابق پسینے میں شرابور ہوگا ، تانبے کی دہکتی ہوئی زمین پر کھڑے ہو کر حساب دینا ہوگا ، یقیناً اِس کی ہم میں سکت نہیں ، لہٰذا دنیا میں رہتے ہوئے مسلمانوں کی تکالیف کو دُور کیجئے تاکہ کل قیامت کی تکالیف سے نجات پاسکیں ، کسی بھی مسلمان کی تکلیف دُور کرنے والوں کوجنت کی وادیوں میں رب تعالیٰ کے جوارِرَحمت یعنی اُس کے قُرب میں رہنے کی سعادت نصیب ہوگی۔ چنانچہ دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۸۸ صفحات پر مشمل کتاب ’’سایہ عرش کس کس کوملے گا؟‘‘صفحہ ۵۵ پر ہے : ’’حضرت سیِّدُنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!جنت کی وادیوں میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے جوارِرحمت (یعنی قُرب)میں کون ہوگا؟‘‘سرکارِ والا تَبار ، شفیعِ روزِ شُمار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’جومیری سنت کو زندہ کرے اورمیرے پریشان اُمَّتِی کی تکلیف دور کرےگا۔ ‘‘

مسلمان کی پردہ پوشی کرنےکی فضیلت:

حدیث پاک میں یہ بھی فرمایا گیا کہ جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی تو کل بروزِقیامت اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔ کسی بھی مسلمان کے عیوب پر مطلع ہونے کے بعد اُس کی پردہ پوشی کرنا سعادت کی بات ہے ، اَحادیث مبارکہ میں مسلمان کی پردہ پوشی کرنے کی بہت فضیلت بیان فرمائی گئی ہے۔ چنانچہ مسلمان کی پردہ پوشی کرنے سے متعلق تین فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ملاحظہ کیجئے : (1) ’’جو اپنے بھائی کے کسی عیب کو دیکھ لے او راس کی پردہ پوشی کرے تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اُسے اُس پردہ پوشی کی وجہ سے جنت میں داخل فرمائے گا۔ ‘‘([5]) (2) ’’جو اپنے بھائی کی پردہ پوشی کرے گا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ قیامت کے دن اُس کی پردہ پوشی فرمائے گا اور جو اپنے بھائی کے راز کھو لے گا اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُس کا راز



[1]   شعب الایمان ، باب فی التعاون علی البر والتقوی  ،  ۶ / ۱۱۵ ،  الحدیث :  ۷۶۵۳۔

[2]   التر غیب والترھیب  ، کتاب البروالصلۃ  ،  باب التر غیب فی قضاء حوائج المسلین ۔ ۔ ۔ الخ  ، ۳  /  ۲۶۵ ،  حدیث :  ۱۹۔

[3]   التر غیب والترھیب  ، کتاب البر والصلۃ  ،  باب التر غیب فی قضاء حوائج المسلمین ۔ ۔ ۔  الخ ،  ۳  /  ۲۶۳ ،  حدیث :  ۸۔

[4]   مرآۃ المناجیح ، ۶ / ۵۵۱۔

[5]   معجم کبیر ،  مسند عقبہ بن عامر ،  ۱۷ / ۲۸۸ ،  حدیث : ۷۹۵۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن