30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قرآنِ کریم میں ارشادہوتاہے :
وَ لْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ یَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَیْرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِؕ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(۱۰۴) ( پ۴ ، آل عمران : ۱۰۴)
ترجمۂ کنز الایمان : اور تم میں ایک گروہ ایسا ہونا چاہیے کہ بھلائی کی طرف بلائیں اور اچھی بات کا حکم دیں اور بُری سے منع کریں اور یہی لوگ مُراد کو پہنچے ۔
اَبُوْ جَعْفَرْ مُحَمَّد بِنْ جَرِیْر طَبری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اِس آیت مبارکہ کےتحت فرماتےہیں : ’’ اے مؤمنو! تم میں ایک ایسی جماعت ہوجولوگوں کوخیریعنی اسلام اوراس شریعت کی طرف بلائےجو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے بندوں کے لیے مشروع کی ہےاوروہ لوگوں کوبھلائی کاحکم دےیعنی انہیں حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور اُن کے اُس دِین کی پیروی کرنےکاحکم دے جووہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےپاس سے لائےہیں اورانہیں برائی سےمنع کرے یعنی ہاتھوں اورجسم کےاَعضاء سے جہاد کرتےہوئے انہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کےساتھ کفر کرنے سےاوررسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تکذیب کرنےسےاورجوکچھ آپ اللہ عَزَّوَجَلَّ کےپاس سے لائے ہیں اُسے جھٹلا نے سے منع کرے یہاں تک کہ وہ سرِتسلیم خم کر کے تمہاری اِتباع میں آجائیں : (وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(۱۰۴)) اور یہی لوگ فلاح پانے والےہیں یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےنزدیک یہی لوگ کامیاب ہیں اوراُس کی جنتوں میں باقی رہنے والے اوراُس کی نعمتوں سےلطف اندوز ہونےوالےہیں۔ ‘‘([1])
مُفَسِّرشہِیرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان مذکورہ آیتِ مبارکہ کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’اِس آیت کریمہ میں اللہتعالیٰ نے تین چیزوں کا مکلف فرمایا : بھلائی کی دعوت دینا ، اچھی باتوں کا حکم دینا ، بُری باتوں سے حتی الامکان روکنا ، اور اِن ہی تین چیزوں پر دارَین کی کامیابی کا وعدہ فرمایا ہے۔ ‘‘ مزید فرماتےہیں کہ ’’اے مسلمانو! نہ تو تم سب دنیا میں ہی مَشغول ہوجاؤکہ تبلیغ چھوڑدواور نہ ہی دنیا چھوڑکر مبلغ ہی بن جاؤ بلکہ تم میں ایک ایسی جماعت بھی رہنی ضروری ہے جو زندگی بھر تبلیغ اور دعوتِ خیر کرے ، پوری عالِم بنے اور اپنا مقصدِ زندگی اِسے بنائے کہ لوگوں کو اچھی باتوں کا حکم دے اور بری باتوں سے روکے ، سارے مسلمانوں میں یہ مبلغ علماء کی جماعت بہت ہی کامیاب ہے کہ دنیا میں بھی اِس کی عزت ہوگی اور آخرت میں بھی اِسے عظمت ملے گی ۔ ‘‘([2])اِس آیت کی مزیدتفسیر کے لیے باب نمبر20کی آیت نمبر4 ملاحظہ فرمائیں۔
(2) امربالمعروف ونہی عن المنکر کے سبب بہترین اُمَّت
اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتا ہے :
كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ ( پ۴ ، آل عمران : ۱۱۰)
ترجمۂ کنزالایمان : تم بہتر ہواُن سب اُمتوں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں بھلائی کا حکم دیتے ہو اور بُرائی سے منع کرتے ہو۔
مذکورہ آیت مبارکہ میں اللہ عَزَّ وَجَلَّنے حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اُمت کو سب سے بہترین اُمت قراردیا ہے لیکن اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ساتھ ہی اِس بات کی بھی صراحت فرمائی ہے کہ اِس اُمّت کو دیگر اُمتوں پر امتیازی حیثیت حاصل ہونے کی وجہ بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا ہے۔ چنانچہ اِمَام جَلَالُ الدِّیْن سُیُوْطِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی حضرت سیدنا مجاہد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے حوالے سے فرماتے ہیں : ’’ تم لوگوں میں سب سےبہترین امت اس شرط پرہوکہ تم بھلائی کاحکم دو اور برائی سےمنع کرو۔ ‘‘ حضرتِ سَیِّدُناعطیہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ’’تم لوگوں کےلیے سب سےبہترین لوگ ہواس وجہ سےکہ تم اُن انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلَام کےلیے گواہی دوگےکہ جن کی قومیں دعوتِ دِین پہنچانےمیں اُن کی تکذیب کردیں گی۔ ‘‘([3])
مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان مذکورہ آیت مبارکہ کی تفسیرمیں فرماتے ہیں : ’’اے محبوب کی اُمّت ، تا قیامت مسلمانو! تم ساری گزشتہ اُمّتوں سے بہتر ہو ، تمہیں لوگوں کے بھلے کے لیے پیداکیا گیا کہ تم ہی قیامت میں انبیائے کرام (عَلَیْہِمُ السَّلَام)کے حق میں گواہی دوگے اور گواہ مدعی کو بڑا پیارا ہوتا ہے تو تم سارے نبیوں کو پیارے ہو ، تمہارے ذریعے لوگوں میں تبلیغ ہوگی اور کافر مسلمان ہوں گے ، تمہارے ہی ذریعے لوگوں پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمتیں آئیں گی ، تمہاری ہی بقاء سے لوگوں کا بقا ء ہوگا ، تمہاری شان یہ ہونی چاہیے کہ تم میں سے ہرشخص بقدرِ طاقت دنیا والوں کو بھلائی سکھائے ، بتائے اور کرائے اور برائیوں سے بچائے ، ہٹائے ، تم اللہتعالیٰ پرتوکل وایمان رکھوکہ اگر تبلیغ کے راستے میں تکالیف بھی ہوں تو برداشت کرو۔ ‘‘([4])
(3)بھلائی کا حکم نرمی کے ساتھ دینے کا حکم
رب تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع