30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کوپیشاب کرتے ہوئے دیکھا وہ اپنے منہ پر پیشاب مل رہاتھا اور کہہ رہاتھا : ’’ یاالٰہی عَزَّ وَجَلَّ ! مجھے کثرت سے تو بہ کرنے والوں اور پاکیز ہ رہنے والوں میں شامل فرما۔ ‘‘
(2)یہ مال کو ضائع اور بر باد کرتی ہے اور تنگدستی کا سبب بنتی ہے جیسا کہ حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے دعا مانگی : ’’یاالٰہی عَزَّ وَجَلَّ!ہمیں شراب کے بارے میں واضح حکم ارشاد فرمادے کیونکہ یہ مال کو برباد اور عقل کو ختم کردیتی ہے۔ ‘‘
(3) یہ عداوت اور دشمنی کاسبب ہے ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرماتاہے :
اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ عَنِ الصَّلٰوةِۚ-فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ(۹۱) (پ۷ ، المائدۃ : ۹۱)
ترجمۂ کنزالایمان : شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بیر اور دشمنی ڈلوا دے شراب اور جوئے میں اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے تو کیا تم باز آئے۔
(4) شراب کھانے کی لذت اور درست کلام سے شرابی کو محروم کردیتی ہے۔
(5)بعض اوقات شراب ، شرابی کی بیوی کو اس پر حرام کردیتی ہے او روہ زنا میں مبتلاہوجاتا ہے اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ شرابی نشہ میں مدہوش ہوکراکثر طلاق دے دیتا ہے اور بعض اوقات لاشعوری طور پر قسم توڑڈالتا ہے تو اپنی حرام کی ہوئی بیوی سے زناکربیٹھتا ہے ۔
(6) یہ ہر برائی کی کنجی ہے اور شرابی کو بہت سے گناہوں میں مبتلاکر دیتی ہے جیسا کہ حضرت سیدنا عثمانِ غنیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے بارے میں مروی ہے ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اپنے خطبے میں ارشاد فرمایا : ’’اے لوگو!شراب نوشی سے بچتے رہوکیونکہ یہ تمام بُرائیوں کی جڑ ہے۔ ‘‘
(7) شراب نوشی کاساتواں نقصان یہ ہے کہ یہ شرابی کو بدکاروں کی مجلس میں لے جاتی ہے اپنی بد بو سے اُس کے کاتب فرشتو ں کوایذا دیتی ہے ۔
(8) یہ شرابی پر آسمانوں کے دروازے بند کردیتی ہے ، چالیس دن تک نہ اِس کا کوئی عمل اُوپر پہنچتا ہے نہ ہی دُعا ۔
(9)شراب نوشی ، شرابی پر اَسّی کو ڑے واجب کردیتی ہے لہٰذا اگر وہ دنیا میں اِس سزا سے بچ بھی گیا تو آخرت میں مخلوق کے سامنے اُسے کوڑے مارے جائیں گے۔
(10) یہ شرابی کی جان اور ایمان کو خطرے میں ڈال دیتی ہے اِس لئے مرتے وقت اِیمان چِھن جانے کا خدشہ رہتاہے۔ ([1])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے شراب نوشی کتنی بُری خصلت ہے ، یہ بندے کو کہیں کا نہیں چھوڑتی ، شراب بُرائیوں کی ماں ہے ، فقط شراب نوشی کے سبب آدمی کئی گناہوں میں مبتلا ہوجاتا ہے ، شراب کی نحوست کے سبب شرابی کی دنیا وآخرت دونوں تباہ وبرباد ہوجاتی ہیں۔ ایک بزرگرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’میں نے ایک شخص کو نزع کے عالَم میں دیکھا کہ جب اُسے کلمۂ طیبہ کی تلقین کی جاتی تو وہ کہتا : ’’خود بھی پیو اورمجھے بھی پلاؤ ۔ ‘‘حضرت سیدنا عبداللہ بن مَسْعُودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : ’’جب شرابی مرجائے تو اُسے دفن کردو اور مجھے کسی جگہ نظر بند کر کے اُس کی قبر کھودو ، اگر اُسے قبلہ سے پھرا ہوا نہ پاؤ تو مجھے قتل کر دینا۔ ‘‘([2])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! گناہوں سے بچنے کا ایک ذریعہ اچھی صحبت بھی ہے ، اچھی صحبت بندے کو اچھا بنادیتی ہے اور بری صحبت برا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ دعوت اسلامی کا مدنی ماحول ہمیں ایک نیک اور اچھی صحبت فراہم کرتا ہے ، آپ بھی دعوت اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہوجائیے ، کئی ایسے نوجوان جو گناہوں کے دلدل میں دھنسے ہوئے تھے ، شراب وکباب کی محفلیں ان کی زندگی کا جزو لازم تھیں ، دعوت اسلامی کے مدنی ماحول کی برکت سے ان کی زندگی میں انقلاب برپا ہوگیا اور وہ گناہوں بھری زندگی سے تائب ہوکر سنتوں کے پیکر بن گئے۔ ترغیب کے لیے ایک مدنی بہار پیش خدمت ہے :
پنجاب(پاکستان) کے شہر گلزارِ طیبہ (سرگودھا)کے ایک اسلامی بھائی کے بیان کا لُبِّ لُبَاب ہے کہ دعوتِ اسلامی کے مشکبار مَدَنی ماحول سے وابستہ ہونے سے قبل(مَعَاذَ اللہ)میں نہ صرف خُودشراب نوشی کا عادی تھا بلکہ شراب کشید کر کے (یعنی بناکر)سپلائی کرنے کا دھندہ بھی کرتاتھا۔ لوگوں کو تنگ کرنا ، فحش گالیاں دینا ، فائرنگ کرکے خوف وہراس پھیلانا میری پہچانِ بد بن چکا تھا۔ فائرنگ کرنے کے جُرم میں گرفتار ہو کرکئی مرتبہ جیل کی سزا بھی کاٹی ۔ الغرض میری غلط کاریوں کی فہرست کافی طویل ہے ۔ میں وقت کی دولت عذاباتِ جہنم کی خریداری میں صرف (یعنی خرچ) کرنے میں مصروف تھاکہ ایک دن میری ملاقات سبز سبز عمامہ شریف سجائے سنّت کے مطابق سفید لباس میں ملبوس ایک مبلّغِ دعوتِ اسلامی سے ہوئی۔ اُس اسلامی بھائی کی ملنساری اور عاجزی بھرا لہجہ مجھے ایسا پسند آیا کہ میں اُن کی نیکی کی دعوت سننے کے لئے ہمہ تن گوش ہوگیا ۔ انہوں نے مجھے دعوتِ اسلامی اور بانیٔ دعوتِ اسلامی امیرِ اہلسنّت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمداِلیاس عطّاؔرقادِری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا مختصر تعارُف کروایا اور مجھے اُن کے سنّتوں بھرے بیان کی کیسٹ سننے کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع