دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 3 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

وَعَنْهُ عَنِ النَّبيّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:اِذَا زَنَتِ الْاَمَةُ فَتَبيَّنَ زِنَاهَا فَلْيَجْلِدْهَا الْحَدَّ وَلَا يُثَرِّبْ عَلَيْهَا ثُمَّ اِنْ زَنَتِ الثَّانِيَةَ فَلْيَجْلِدْهَا الحَدَّ وَلَا يُثَرِّبْ عَلَيْهَا ثُمَّ اِنْ زَنَتِ الثَّالِثَةَ فَلْيَبِعْهَا وَلَوْ بِحَبْلٍ مِنْ شَعَر . ([1])

حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’جب کسی لونڈی  کا زنا ظاہر ہو جائے تو اُسے بطورِ حد کوڑے لگائے جائیں لیکن اُسے ملامت نہ کیا جائے ، پھر اگر دوبارہ زنا کرے تو بطورِ حد کوڑے لگائےجائیں اور اِس پر اُسے  ملامت نہ کیا جائے ، پھر اگر تیسری بار زنا کرے تو اسے بیچ دو اگر چہ بال کی رسی کے عوض۔ ‘‘

ملامت نہ کرنے کا معنٰی:

عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ملامت نہ کرنے  کا معنیٰ یہ ہے کہ اُس کی حد میں اِضافہ  نہ کیا جائے اور اُسے زبان  سے ایذا نہ دی جائے۔ تیسری بار زنا کرنے پر اُس کو بالوں کی رسی کے عوض فروخت کیا جائے۔ اِس کلام سے فروخت کرنے میں مبالغہ کرنا مقصود ہے  اور رسی کے ذِکر سے مراد اُس کو کم قیمت پر فرخت کرنا ہے ۔ ‘‘([2])

غلام اور لونڈی کو رجم نہیں کیا جائے گا:

عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’حدیث پاک میں اِس بات کی دلیل ہے کہ لونڈی اور غلام کو رجم نہیں کیا جائے گا ، چاہے وہ شادی شدہ ہوں یا نہ ہوں ، کیونکہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمان ہے : ’’انہیں بطورِ حد کوڑے لگائے جائیں۔ ‘‘ اور یہاں اِس با ت کا ذکر نہیں کہ وہ شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ اورزانی کو ملامت نہیں کیا جائے گا صرف اُس پر حد قائم  کی جائے ۔ ‘‘([3])

زانی یا زانیہ پر حد لگانے کے مختلف اَحکام:

عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی مذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’جب کسی لونڈی کا زنا کرنا ظاہر  ہو جائے ، اِس طرح کہ کسی نے اُس کو دیکھ لیا ہو یا خود اُس نے اِقرار کیا ہویا اُس کے خلاف گواہ قائم ہو جائیں تو اُسے بطور ِحد کوڑے لگائے جائیں۔ حد سے پچاس 50کوڑے مراد ہیں لیکن اُسے گناہ کرنے پر جھڑکا نہ جائےمثلاًاے زانیہ! اے فاجرہ !وغیرہ یوں نہ کہا جائے کیونکہ یہ فحش گوئی ہے۔ پھر اگر ایک بار حد لگنے کے بعد دوبارہ زنا کرےتو بطور حد کوڑے لگائے جائیں لیکن اب بھی جھڑکا نہ جائے پھر اگر تیسری بار زنا کرے تو اسے بیچ دو۔ بیچنے والے کے لئے ضروری ہے کہ خریدنے والے کو لونڈی کا حال بتا دے کیونکہ یہ عیب ہےاور چیز بیچتے وقت اُس میں موجود عیب بتانا واجب ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ جوچیز اپنے لئے پسند نہیں و ہ اپنے مسلمان بھائی کو بیچنا کیسا؟اس کا جواب یہ ہے کہ شاید خریدار کے پاس وہ اس گناہ سے باز آ جا ئے کہ وہ اپنی ذات کو پاک دامن کردےیا خریدار کے رُعب کی وجہ سے باز آ جائےیا اُس لونڈی پر اِحسان و توسیع کرنے کی وجہ سے وہ باز آجائے یا وہ خریدنے والا اُس کی شادی کرادے جس کی وجہ سے باز آجائے۔ ‘‘([4])

اِسلام میں زِنا کی مذمت:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیث پاک میں زِنا اور اُس کی سزا کابیان ہے ، واضح رہے کہ زِنا کی اِسلام میں بہت شدید مذمت بیان کی گئی ہے۔ زانی یا زانیہ پر دنیا میں تو شرعی سزا مُقَرَّر ہے مگر اِن دونوں کو آخرت میں بھی نہایت ہی ذِلَّت کا سامنا ہوگا۔ تبلیغ قرآن و سنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۱۴۸صفحات پر مشتمل کتاب ’’نیکیوں کی جزائیں اور گناہوں کی سزائیں ‘‘صفحہ ۳۴ تا ۳۸پرسے زنا کی مذمت پر چند روایات پیش خدمت ہیں :

حضور نبی پاک ، صاحب لَولَاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  كافرمانِ عبرت نشان ہے : ’’زانی قیامت کے دِن اِس حال میں آئیں گے کہ اُن کے چہرے آگ کی طرح بھڑک رہے ہوں گے ، وہ اپنی بدبودار شرمگاہوں کی وجہ سے مخلوق میں پہچانے جائیں گے ، اُن کی شرم گاہیں بدبودار ہوں گی ، اُن کو منہ کے بل جہنم کی طرف گھسیٹاجائے گا ، جب وہ جہنم میں داخل ہوں گے تو داروغہ جہنم حضرت مالک عَلَیْہِ السَّلَام اُن کو آگ کی ایسی قمیص پہنائیں گے کہ اگر اُس کو اونچے اور مضبوط پہاڑکی چوٹی پرلمحہ بھر کے لئے رکھ دیاجائے تووہ جل کر راکھ ہوجائے ۔ پھر حضرت مالک عَلَیْہِ السَّلَام فرمائیں گے : ’’اےعذاب کے فرشتو!اِن زانیوں کی آنکھوں کوآگ کی سلائیوں سے داغ دوجس طرح کہ یہ حرام دیکھتے تھے ، اِن کے ہاتھوں کوآگ کی زنجیروں سے جکڑدو جس طرح کہ یہ حرام کی طرف ہاتھ بڑھاتے تھے ، اِن کے پاؤں کو آگ کی بیڑیوں سے باندھ دو جس طرح کہ یہ حرام کی طرف چلتے تھے ۔ ‘‘عذاب کے فرشتے کہیں گے : ’’ہاں!ہاں! ضرور۔ ‘‘تو وہ اُن کے ہاتھوں اور پاؤں کوزنجیروں میں جکڑدیں گے اور اُن کی آنکھیں آگ کی سلائیوں سے داغ دیں گے تووہ چیخ وپکار کرتے ہوئے فریاد کریں گے : ’’اے عذاب کے فرشتو!ہم پر رحم کرو ، ایک لمحے کے لئے تو ہم سے عذاب کم کردو۔ ‘‘فرشتے کہیں گے : ’’ہم تم پرکیسے رحم کریں جبکہ ربّ العالمین قہاروجبار جَلَّ جَلَالُہُ  تم پرغضب فرماتا ہے ۔ ‘‘

زِنا کے دُنیوی و اُخروی نقصانات:

 



[1]   بخاری ،   کتاب البیوع ،  باب بیع العبد الزانی   ،  ۲ /  ۳۳ ،  حدیث : ۲۱۵۲۔

[2]   عمدۃ القاری ،  کتاب البیوع ،  باب بیع العبد الزانی  ،  ۸ / ۴۵۵ ،  تحت الحدیث : ۲۱۵۲۔

[3]   شرح مسلم  ، کتاب الحدود   ،  باب حد الزنا  ،  ۶ /  ۲۱۱ ،  الجزء الحادی عشر ۔

[4]   دلیل الفالحین ،  باب فی ستر عورات المسلمین ،  ۲ /  ۳۴ ،  تحت الحدیث : ۲۴۳۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن