دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 3 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

گناہ ہے بلکہ اِرتکابِ گناہ  سے (بھی)بڑا گناہ ہے ، (کیونکہ)یہ گناہ کی اِشاعت بھی ہے اور نڈر  ہونا بھی ہے۔ ‘‘([1])

اپنی ہی برائی کرنے والے کی غیبت:

شیخ عبد الحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی مذکورہ حدیث   پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’اِس حدیثِ پاک سے ثابت ہوا کہ اُس شخص کی غیبت حرام ہے جو بُرائی کرے اور اُس کو مخفی رکھے لیکن جو بے حیاہو کر اِعلانیہ بُرائی کا اِرتکاب کرے اُس کی بُرائی بیان کرنا غیبت نہیں ۔ فاسِقِ مُعْلِنْ(اعلانیہ گناہ کرنے والا) ، ظالم حاکم اور بدعت  کی طرف بلانے والے کی  بُرائی کا بیان کرنا بھی جائز ہے یونہی ظلم و زیادتی کے خلاف فریاد  رسی ، گواہوں کے تزکیہ اور اَحادیث کے راویوں کے بارے میں بھی یہ عمل جائز ہے البتہ ظلم کی صورت میں صبر افضل ہوتا ہے۔ ‘‘([2])

مُفَسِّر شہِیر ،  مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’علانیہ گناہ کرنے والوں کی نہ آخرت میں پردہ پوشی کی جائے گی ، نہ دنیا میں اِن کی غیبت حرام ہوگی ، اِن کی غیبت جائز ہے کہ وہ خود ہی اپنے پر دہ دار نہیں۔ ‘‘([3])

بندوں پر رَحمت خداورَحمت حبیب خدا:

دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ۶۴۷ صفحات پر مشتمل کتاب ’’حکایتیں اورنصیحتیں‘‘ صفحہ ۶۳۸پر ہے :  * منقول ہےکہ قیامت کے دن جب اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اپنے بندے کی پردہ پوشی چاہے گا اور اُسے سب کے سامنے رُسوا نہ کرنے کا اِرادہ فرمائے گا تو اُس کا گناہوں بھرا نامۂ اعمال اُس کے دائیں ہاتھ میں عطا فرمائے گا۔ وہ بندہ اُس کی وجہ سے خوف زدہ ہو گا جو اُس کے نامۂ اعمال میں ہو گاکیونکہ اُسے معلوم ہو گا کہ اُس کے گنا ہ بہت زیادہ ہیں۔ چنانچہ ، نامۂ اَعمال میں جہاں گناہ لکھے ہوں گے وہاں وہ آواز آہستہ کر لے گا اور اپنے دل میں کہے گا : ’’سُبْحَانَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ! میری تو ایک نیکی بھی نہیں۔ ‘‘جبکہ لوگ کہیں گے : ’’سُبْحَانَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ! اس بندے کے نامۂ اعمال میں تو ایک  گناہ بھی نہیں۔ ‘‘جب وہ آہستہ آواز میں پڑھ کر فارغ ہو گاتواللہ عَزَّ  وَجَلَّارشادفرمائے گا : ’’اے میرے بندے!تیری نیکیوں کو میں نے اپنی مخلوق پر ظاہر کیا اور تیر ی بُرائیوں کی دنیا و آخرت میں پردہ پوشی فرمائی ، اے میرے فرشتو! اس کو میرے عفوو کرم سے جنت میں لے جاؤ۔ ‘‘`حضرتِ سیِّدُنا اَنس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہےکہ رسولِ اَکرم ، شہنشاہ ِبنی آد م صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بارگاہِ الٰہی میں اپنی اُمَّت کے  گناہوں کے متعلق دعا کی اور عرض کی : ’’یااللہ عَزَّ  وَجَلَّ!تو اِن کا حساب میرے حوالے کر دے تا کہ اِن کی بُرائیوں پر میرے علاوہ کوئی اور آگاہ نہ ہو۔ ‘‘اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے وحی فرمائی : ’’اے محبوب! یہ تیری اُمَّت ہے ، میں اِس پر تجھ سے زیادہ رحم فرمانے والا ہو ں ، میں اِن کا حساب کسی کے حوالے نہیں کروں گا تا کہ میرے علاوہ کوئی اِن کی برائیاں نہ دیکھے ۔ ‘‘

مدنی گلدستہ

’’نیکی‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور

اور  اُس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول

   (1)مجاہر یعنی اپنے گناہ کا خود اِظہار کرنے والے کے سوا ساری اُمَّت کے لیے معافی ہے۔

   (2)گناہ کا اِعلان کرنا بھی گناہ ہے ، لہٰذا گناہوں سے بھی اپنے آپ کو ہردم بچایا جائے اور خدانخواستہ اگر گناہ ہو بھی جائے تو اُس کا اِظہار نہ کیا جائے بلکہ فوراً  اُس گناہ سے توبہ کرلی جائے۔

   (3)بہت بدنصیب ہے وہ شخص کہ جس کے گناہوں کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ چھپائے مگر وہ خود اُس کو ظاہر کردے۔

   (4)اپنے گناہ کو ظاہر کرنے والے کی شدید مذمت بیان کی گئی ہے کہ  کل بروزِ قیامت بھی اُس کی پردہ پوشی نہ کی جائے گی ، حتّٰی کہ اُس کی غیبت کو بھی جائز قرار دیا گیا ہے کیونکہ وہ خود اپنا پردہ دار نہیں لہٰذا گناہ اور گناہ  کے اِظہار دونوں سے بچنا چاہیے۔

اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں گناہوں سے بچنے ، دوسروں کو بچانے ، نیکیاں کرنے دوسروں کو ترغیب دلانے کی توفیق عطا فرمائے ، مسلمانوں کی پردہ پوشی کرنے یعنی اُن کے عیوب کو ظاہر نہ کرنے اور اپنے گناہوں یا عیوب کو بھی چھپانے کی توفیق عطا فرمائے۔                                                          آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر : 242         زانیہ لونڈی کو مَلامَت نہ کرنے کا حُکم

 



[1]   نزہۃ القاری ، ۵ / ۵۷۸۔

[2]   اشعۃ اللمعات ، کتاب الآداب ، باب حفظ اللسان من الغیبۃ والشتم ، ۴  / ۷۶۔

[3]   مرا ٓۃ المناجیح ، ۶ / ۴۵۹۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن