دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 3 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

عیب پوشی کرنی چاہیے۔

(4)   اسلام دوسروں کی عزت نفس کا پاس رکھنے اور  اُن کی پردہ پوشی  کادرس دیتاہے ۔ تاکہ ایک پُر امن و پُرسکون معاشرہ قائم ہو۔

(5)   جو دنیا میں اپنے بھائی کے عیوب پر مطلع ہونے کے باوجود اس کا پردہ رکھتاہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ بروزِ قیامت اُس کے اِس عمل کے بدلے میں اُس کی پردہ پوشی فرمائے گااور جو دنیا میں دوسروں کے عیب ظاہر کرے گا بروزِ قیامت اللہ عَزَّ  وَجَلَّ بھی اُس کے عیوب ساری مخلوق کے سامنے ظاہر فرمادے گا۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے مسلمان بھائیوں کی عیب پوشی کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، بلا اِجازتِ شرعی کسی بھی مسلمان کے عیبوں کو ظاہر نہ کرنے کا مدنی ذہن عطا فرمائے۔                     آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر : 241                                                                                                     بندے کا اپنے عُیُوب کو خود ظاہر کرنا

وَعَنْهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ الله صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم يَقُوْلُ: كُلُّ اُمَّتِي مُعَافًی اِلَّا الْمُجَاهِرِينَ وَاِنَّ مِنَ الْمُجَاهَرَ ةِ اَنْ يَّعْمَلَ الرَّجُلُ باللَّيلِِ عَمَلًا  ثُمَّ يُصْبِحُ وَقَدْ سَتَرَهُ اللهُ عَلَيهِ فَيقُولُ :  يَا فُلانُ! عَمِلْتُ الْبَارِحَةَ كَذَا وَكَذَاوَقَدْ بَاتَ يَسْتُرُهُ رَبُّهُ  وَيُصْبِحُ يَكْشِفُ سِتْرَ اللهِ عَنْهُ. ([1])

حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ میں نے رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے سنا : ’’ میرے ہر امتی کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ معاف فرمائے گا سوا اُن کے جو علانیہ گناہ کرتے ہیں اور اعلانیہ گناہ  کرنے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ کوئی شخص رات کو ایک(گناہ کا )عمل کرتا ہے پھر جب صبح ہوتی ہے تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اُس کے اِس عمل کی پردہ پوشی فرماتا ہے  لیکن وہ صبح کے وقت کہتا ہےکہ اے فلاں ! میں نے رات کوایسا ایسا  کیاحالانکہ رات میں اُس کے ربّ نے اُسے چھپالیا وہ صبح کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے پردے کو خودہی چاک کردیتا ہے۔ ‘‘

’’مجاہر ‘‘کسےکہتے ہیں؟

عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’مجاہر وہ شخص ہے جو اپنے گناہ کا اعلان کرے اور اسے ظاہر کرے ۔ اب معنی یہ ہوں گے  کہ میری امت کے ہر شخص کے گناہ کو معاف کیا جائےگا اور اس سے کوئی مؤاخذہ نہ ہوگامگر یہ کہ جو اعلانیہ گناہ کرتا ہے۔ ‘‘امام نووی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’جو اپنے فسق و بدعت کو اعلانیہ ظاہر کرے تو اِن اُمور میں اُس کی بُرائی کا ذکر  جائز ہے بقیہ اُمور میں نہیں۔ ‘‘([2])

تمام اُمَّت کے لیے معافی کے معنی:

مذکورہ حدیث پاک میں اِرشاد ہوا : ’’میری تمام اُمَّت کے لیے معافی ہے۔ ‘‘معافی کے دو معنی ہوسکتے ہیں : (1)ایک تو یہ کہ رب تعالیٰ کی طرف سے اُسے کل بروزِ قیامت معافی دے دی جائے گی۔ (2) دوسرے یہ کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اُسے عافیت دی ہوئی ہے کہ اُس کی غیبت کرنا حرام ہے۔ ‘‘([3])

رب تعالیٰ کاپردہ پوشی فرمانا باطنی نعمت:

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتا ہے :

وَ اَسْبَغَ عَلَیْكُمْ نِعَمَهٗ ظَاهِرَةً وَّ بَاطِنَةًؕ-    (پ۲۱ ،  لقمان :  ۲۰)

ترجمۂ کنزالایمان : اورتمہیں بھرپور دیں اپنی نعمتیں ظاہر اور چھپی۔

عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَھَّارنقل فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا  عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے ارشاد فرمایا : ’’اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے اِس فرمانِ عالیشان میں ظاہری نعمت سے مراد اِسلام ، اچھی شکل وصورت اور رِزق کی فراخی ہے جبکہ باطنی نعمت سے مُراد گناہوں اور عُیُوب پر پردہ ڈالنا ہے۔ ‘‘([4])

گناہ کا اِعلان کرنا گناہ ہے:

فقیہ اَعظم ، حضرت علامہ ومولانا مفتی شریف الحق اَمجدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیمذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’گناہ کا اِرتکاب بہر حال گناہ ہے  مگر اِس کا اِعلان کرنا بھی



[1]   بخاری ،  کتاب الاداب  ،  باب ستر المؤمن علی نفسہ ،  ۴ /  ۱۱۸ ،  حدیث : ۶۰۶۹۔

[2]   عمدۃ القاری ،  کتاب  البرو الصلۃ ،  باب ستر المؤمن علی نفسہ ،  ۱۵ /  ۲۲۱ ،  تحت الحدیث : ۶۰۶۹۔

[3]   مرآۃ المناجیح ، ۶ / ۴۵۸ ماخوذاً۔

[4]   شرح بخاری لابن بطال ،  کتاب  الادب  ،  باب ستر المؤمن علی نفسہ ،  ۹ /  ۲۶۳۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن