دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 3 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

عذاب ہے۔ ([1])

عَلَّا مَہ عَلَاءُ الدِّیْن عَلِی بِنْ مُحَمَّد خَازِن  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَاطِنْ  اِس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : ’’ وہ لوگ جو چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں بُرا چرچا پھیلے یعنی زنا کو ظاہر کرنا اور اُس کو پھیلانا ، کہا گیا ہے کہ یہ آیت اُن لوگوں کے ساتھ خاص ہے جنہوں نے اُمُّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا پر تہمت لگائی اور مؤمنین سے مراد اُمُّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا اور حضرت سیدنا صفوان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہےکہ یہ آیت اپنے عموم پر ہے اور اِس میں ہر وہ شخص داخل ہے جو بے حیائی کو پھیلانے اور کسی پر اُس کو ظاہر کرنےکوپسند کرتا ہو۔ دنیا  اور آخرت میں دردناک عذاب یعنی دنیا میں حد قائم کرنا  اور اُن کے فعل کی مذمت کرنا  اور آخرت میں اُن کے لئے آگ کا عذاب۔ ‘‘([2])

بے حیائی کو پھیلانے سے متعلق چار اَقوال:

عَلَّامَہ جَلَالُ الدِّيْن سُيُوْطِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نےاس آیت کی تفسیر میں بے حیائی کو پھیلانے سے متعلق کئی اقوال بیان فرمائے ہیں جن میں سے چار اَقوال پیش خدمت ہیں : (1)امیر المؤمنین حضرت سیدنا علی المرتضی شیر خدا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں : ’’بے حیائی کرنے والا اور بے حیا ئی پھیلانے والا گناہ میں دونوں برابر ہیں ۔ ‘‘(2)حضرت سیدنا عطاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، فرما تے  ہیں : ’’جس نے بے حیائی کے ذکر کو عام کیا تو اُس پر گناہ ہے اگر چہ وہ اپنی بات میں سچا ہو ۔ ‘‘(3)حضرت سیدنا شبل بن عَوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں : ’’منقول ہے کہ جس نے بے حیائی  کو سنا پھر اُسے پھیلایا تو گویا وہ اُس شخص کی طرح ہےجس نے بے حیائی کو ظاہر کیا۔‘‘

(4) حضرت سیدنا ثوبان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بندوں کو تکلیف نہ دو ، انہیں عار نہ دلاؤ ،  اُن کے عیب ظاہر ہونے کی جستجو نہ کرو کیونکہ جس نے اپنے بھائی کے عیب ظاہر ہونے کی خواہش کی تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس کی بے پردگی کو چاہے گا یہاں تک کہ اُسے اُس کے گھر میں رُسوا کردےگا۔ ‘‘([3])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر : 240                                                     قیامت میں اللہ پردہ پوشی فرمائےگا

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَسْتُرُ عَبْدٌ عَبْدًا فِي الدُّنْيَا اِلَّا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَة. ([4])  ترجمہ : حضرت سیدنا ابو ہُریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور نبی پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’جو شخص دنیا میں کسی کی پردہ پوشی کرے گا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ بروزِ قیامت اُس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔ ‘‘

ربّ تعالیٰ کی پردہ پوشی کا معنٰی:

عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : “ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُس کی سِتر پوشی یوں فرمائے گا کہ اُس کے گناہ مٹادے گااور ابتدامیں  اُس سے پرسش نہیں ہوگی یا پھر اس سےمرادیہ ہے کہ دوسروں کوآگاہ کیے بغیر سوال کیاجائے گااور اسے معاف کردیاجائے گا۔ پردہ پوشی کی جزاء پردہ پوشی سے اِس لیے دی  گئی تاکہ جزا عمل کے مطابق ہو جائے۔ ‘‘([5])

حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَھَّاب فرماتے ہیں : ’’بروزِ قيامت اللہ عَزَّ  وَجَلَّسِتر پوشی کے طفیل اِس بندے کے عیوب و گناہوں پر پردہ فرمائے گااور اُسے اَہل مَحشر سے مخفی رکھے گا۔ یہ صورت بھی ہوسکتی ہے کہ  اُس شخص  سے حساب نہ لیاجائےاور اُس کا ذکر بھی نہ فرمائے۔ ‘‘([6])

عیب پوشی کی عادت کو اپنالیں:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیث پاک یہ  درس دے رہی ہے کہ ہم عیب پوشی کی عادت کو اپنا لیں ۔ یہ عادت قابل تعریف اور باعث اجر و ثواب ہے۔ لیکن جس چیز میں اجر و ثواب اور رضا الٰہی پوشید ہ ہو شیطان لعین اُس جانب بڑھنے والے قدموں کو روکنے کی بھرپور کوشش کرتاہے۔ معاشرے میں امن و سکون قائم کرنے والے کام کو ناکام کرنے کے لیے  سرتوڑ کوشش کرتاہے۔ جس کا عملی مظاہرہ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ آج اگر ہم میں  سےكسی سے كوئی غلطی سَرزَد ہوجاتی ہے تو اُس کی پردہ پوشی کے بجائے ہم دوسروں کو



[1]   روح البیان ،  پ۱۸ ،  النور  ،  تحت الایۃ : ۱۹ ،  ۶ /  ۱۳۰۔

[2]   تفسیر خازن ،  پ۱۸ ،  النور   ،  تحت الایۃ : ۱۹ ،  ۳ /  ۳۴۴ ۔

[3]   د ر منثور ،  پ۱۸ ،  النور  ،  تحت الایۃ : ۱۹ ،  ۶ /  ۱۶۱۔

[4]   مسلم ،  کتاب البر و الصلۃ  ،  باب  بشارۃ من ستراللہ تعالی عیبہ فی الدنیا۔ ۔ ۔ الخ ، ص  ۱۳۹۷ ،  حدیث : ۲۵۹۰۔

[5]   دلیل الفالحین ،  باب ستر عورات المسللمین وانھی عن اشاعتھا لغیر ضرورۃ ،  ۲ / ۳۲ ،  تحت الحدیث : ۲۴۱۔

[6]   اکمال المعلم ،  کتاب  البرو الصلۃ ،  باب بشارۃ من ستراللہ تعالی عیبہ فی الدنیا۔ ۔ ۔ الخ ،  ۸ / ۶۱ ،  تحت الحدیث : ۲۵۹۰۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن