دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 3 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

واضح رہے کہ مذکورہ احادیث میں ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حقوق کو بیان فرمایا گیا ہے لیکن یہ حقوق فقط ان چھ میں منحصر نہیں ، چنانچہ شیخ عبد الحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’مسلمانوں   کے ایک دوسرے پر بہت سے حقوق ہیں ، صرف اِن چھ میں اِنحصار نہیں ۔ حضورِاکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مختلف مواقع پر موقع کی مناسبت سے مختلف حقوق کو بیان کیا  یا پھر حقوق المسلمین بتدریج نازل ہوئے ، جو حق جب نازل ہوا آپ نے اُسی  وقت اُس کو بیان فرمادیا۔‘‘([1])

مدنی گلدستہ

’’رسول کریم‘‘کے8حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور

 اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے8مدنی پھول

   (1)حقوق العباد كے معاملے میں تمام مسلمان چاہے نیک ہوں یا گنہگار سب برابر ہیں ، البتہ نیک لوگ حسن سلوک کے زیادہ حق دار ہیں۔

   (2)ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر کئی حقوق ہیں ، البتہ اِن تمام حقوق کو کسی ایک حدیث میں نہیں بلکہ وقتاً فوقتاً مختلف اَحادیث مبارکہ میں بیان فرمایا گیا ہے۔

   (3)ملاقات کے وقت اپنے مسلمان بھائی کو سلام کرنا سنت ہے ، اور سلام کا جواب اتنی آواز سے دینا واجب ہے کہ سلام کرنے والا سن لے۔ سلام کرنے کے بہترین الفاظ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہٗہیں اورجواب دینے کے بہترین الفاظ وَعَلَیْکُمُ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہٗ ہیں۔

   (4)اپنے مسلمان بھائی کی دعوت کو قبول کرنا اُس وقت سنت ہے جبکہ اُس میں کوئی خلافِ شرع کام نہ ہو ، یا وہ دعوت دوسروں کو نیچا دکھانے ، فخر اور اپنی واہ واہ کے لئے نہ ہو  ورنہ ایسی دعوتوں میں شرکت کرنا شرعاً ممنوع ہے۔

   (5)اپنے مسلمان بھائیوں کو نصیحت اور اُن کی خیر خواہی کرنا سنت مبارکہ ہےاور جب کوئی نصیحت طلب کرے اور دوسرا اُس پر قادر ہو تو اب نصیحت کرنا واجب ہے۔

   (6)چھینکنے والے کو چاہیے کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن کہے ، جبکہ سننے والا اُس کے جواب میں یَرْحَمُکَ اللہ کہے اور اب چھینکنے والا یَغْفِرُاللہُ لَنَا وَلَکُمْ یا  یَھْدِیْکُمُ اللہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُم کہے ، چھینک کا جواب ایک بار دینا واجب ہے جبکہ چھینکنے والا اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہے ، ورنہ واجب نہیں۔

   (7)اپنے بیمار مسلمان بھائی کی عیادت کرنا سنت مبارکہ ہے اور اَحادیث میں اِس کا بڑا اَجروثواب بیان فرمایا گیا ہے اور اگر اُس کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی بھی نہ ہو اور یہ اُس پر قادر ہے تو اب اُس کی دیکھ بھال کرنا اِس پر واجب ہے۔

   (8)اپنے مسلمان بھائی کے جنازے میں حتی المقدور شرکت کرنی چاہیے کہ احادیث مبارکہ میں اِس کے بھی بہت فضائل بیان فرمائے گئے ہیں۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے مسلمان بھائیوں کے حقوق کو اچھی طرح ادا کرنے کی توفیق عطافرمائے۔                آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                     صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر : 239                                                                     سات چیزوں کا حُکم اور سات کی مُمَانَعَت

 وَ عَنْ اَبِیْ عُمَارَۃِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاقَالَ : اَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ ،  اَمَرَنَا بِعِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَاتِّبَاعِ الْجَنَازَةِ وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ وَإِبْرَارِ الْمُقْسِمِ وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ وَ اِجَابَةِ الدَّاعِي وَاِفْشَاءِ السَّلَامِ وَنَهَانَا عَنْ خَوَاتِيمَ اَوْ تَخَتُّمٍ بِالذَّهَبِ وَعَنْ شُرْبٍ بِالْفِضَّةِ وَعَنِِ الْمَيَاثِرِ الْحُمْرِوَعَنِ الْقَسِّيِّ وَعَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ وَالْاِسْتَبْرَقِ وَالدِّيْبَاجِ.([2]) وَفِيْ رِوَايَة ٍ:وَاِنْشَادِ الضَّالَّةِ فِيْ السَّبْعِ الْاُوَلِ. ([3]) اَلْمَيَاثِرُ بِيَاءٍمُثَنَّاةٍ قَبْلَ الْاَلِفِ وَثَاءٍ مُثَلَّثَةٍ بَعْدَهَا وَهِيَ جَمْعُ مَيْثِرَةٍ وَهِيَ شَيْءٌ يُتَّخَذُ مِنْ حَرِيْرٍ وَيُحْشٰى قُطُنًا اَوْ غَيْرَهُ وَيُجْعَلُ فِيْ السَّرْجِ وَكُوْرِ الْبَعِيْرِ يَجْلِسُ عَلَيْهِ الرَّاكِبُ وَالْقَسِّيُّ بِفَتْحِ الْقَافِ وَكَسْرِ السِّيْنِ الْمُهْمَلَةِ الْمُشَدَّدَةِ وَهِيَ ثِيَابٌ تُنْسَجُ مِنْ حَرِيْرٍ وَكَتَّانٍ مُخْتَلِطَيْنِ واِنْشَادُ الضَّالَّةِ: تَعْرِيْفُهَا.

ترجمہ : حضرت سیدنا ابو عمارہ براء بن عازب رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں سات چیزوں  کے کرنے کا حکم دیا اور سات سے منع کیا ۔ آپ نے ہمیں بیمار کی عیادت کرنے ، جنازے کے ساتھ جانے ، چھینکنے والے کا جواب دینے ، دعوت کرنے والے کی دعوت قبول کرنے ، سلام کو پھیلانے ، مظلوم کی مدد کرنے اور قسم کھانے والے کی قسم کو پورا کردینے کا حکم فرمایا ۔ اور سونے کی انگوٹھی ، چاندی میں پینے یا  چاندی کے برتن میں پینے نیز ریشمی گدوں اور پردوں ، ریشم ، دیباج اوراستبرق پہننے سے منع فرمایا۔ ‘‘

ایک روایت میں پہلی سات چیزوں میں گم شدہ چیز کے اعلان کا بھی ذکر  فرمایا۔

چندمشکل الفاظ کے معانی : ’’اَلْمَیَاثِر‘‘اس شے کو کہتے ہیں جسے  ریشم سے تیار  کیا جاتا ہے اور اس میں روئی وغیرہ ڈالی جاتی ہے ، پھر اسے گھوڑوں اور اونٹوں کی زینوں پررکھا



[1]    اشعۃ اللمعات ، کتاب الصلوۃ ، باب عیادۃ المریض وثواب المرض ،  ۱ / ۶۷۴۔

[2]   بخاری ، كتاب الاشربۃ  ،  باب اٰٰ نیۃ الفضۃ  ، ۳  / ۵۹۴ ،  حدیث : ۵۶۳۵۔

[3]   مسلم ، كتاب اللباس والزینۃ  ،  باب تحریم استعمال اناء الذھب۔ ۔ ۔ الخ  ، ص۱۱۴۳ ،  حدیث : ۲۰۶۶۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن