دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 3 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

جنت میں ایک باغ ہوگا۔ ‘‘([1])(3)’’اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی راہ میں جہادکرنے والا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی ضمانت میں ہے اور مریض کی عیادت کرنے والا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی ضمانت میں ہے اورمسجد کی طرف جانے والا یا مسجد سے لوٹنے والا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ضمانت میں ہے اور حا کمِ اسلام کے پاس اُس کی عزت اور اِعانت کرنے کیلئے آنے والا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ضمانت میں ہے اوراپنے گھرمیں بیٹھ کر کسی کی غیبت نہ کرنے والا بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ضمانت میں ہے۔ ‘‘([2])

مریض کی عیادت سے متعلق چار مدنی پھول پیش خدمت ہیں : (1) ’’عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’جب كوئی شخص کسی بیماری میں مبتلا ہو اور اس کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی ہو تو اس کی عیادت کرنا سنت مبارکہ ہے اور اگر دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہ ہو توعیادت کرنا واجب ہے ۔ ‘‘([3]) (2)فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے : ’’مریض کی پوری عیادت یہ ہے کہ اُس کی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر پوچھے کہ مزاج کیسا ہے؟ اور پوری تحیت(سلام کرنا ) یہ ہے کہ مصافحہ بھی کیاجائے۔ ‘‘([4]) (3)جب مریض کی عیادت کو جائیں تو اُس سے اپنے لیے دعا کروائیں۔ فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے : ’’مریض جب تک تندرست نہ ہوجائے اس کی کوئی دعا رَد نہیں ہوتی۔ ‘‘([5])(4) ’’جب کسی مریض کی عیادت کو جائیں تو مریض کے لئے بھی دعا کریں ، ایک دعا حدیث مبارکہ میں تعلیم فرمائی گئی ہے ہو سکے تو یہ دعا ہی پڑھ لیں۔ فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے : ’’جس نے کسی ایسے مریض کی عیادت کی جس کی موت کا وقت قریب نہ آیا ہواورسات مرتبہ یہ الفاظ کہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اُسے اُس مرض سے شفا عطا فرمائے گا۔ ‘‘(الفاظ یہ ہیں : )’’اَسْئَلُ اللہَ الْعَظِیْمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِِ اَنْ یَّشْفِیَکَیعنی  میں عظمت والے ، عرش عظیم کے مالک اللہ عَزَّ  وَجَلَّسے تیرے لئے شفاء کا سوال کرتا ہوں۔ ‘‘([6])

(6)جنازے کے ساتھ جانا:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جنازے میں شریک ہونا بھی اجر وثواب کا کام ہے ، اس  کے بھی کثیر فضائل وارد ہوئے ہیں ، چنانچہ اِس ضمن میں تین فرامینِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ملاحظہ کیجئے : (1)’’جو نماز ادا کرنے تک جنازے میں شریک رہا اُس کے لئے ایک قیراط ثواب ہے اور جو تدفین تک شریک رہا اُس کے لئے دوقیراط ثواب ہے۔ ‘‘ پوچھا گیا : ’’دوقیراط کیا ہیں؟‘‘فرمایا : ’’دوعظیم پہاڑوں کی مثل۔ ‘‘([7])جبکہ مسلم شریف کی روایت میں ہے : ’’ اُن میں سے چھوٹا پہاڑ جبل اُحد جتنا ہے ۔ ‘‘([8]) (2) ’’جو شخص میت کے ساتھ اُس کے گھر سے نکلا اور اُس پر نماز پڑھی اور تدفین تک اُس کے ساتھ رہا تو اُس کے لئے دو قیرا ط ثواب ہے اور ہر قیراط اُحد پہاڑ کے برابر ہے اور جو نماز پڑھ کر لوٹ آیا اُس کے لئے اُحد پہاڑجتنا ایک قیرا ط ہے۔ ‘‘([9]) (3) ’’بندے کو اپنی موت کے بعد سب سے پہلے جو جزا دی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ اُس کے جنازے میں شریک تمام اَفراد کی مغفرت کردی جاتی ہے ۔ ‘‘([10]) 

مُفَسِّرشہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’جنازے کے ساتھ جانا عام حالات میں سنت ہے لیکن جب کوئی یہ کام نہ کرے تو فرض ہے کبھی  فرضِ کفایہ کبھی فرضِ عین ۔ ‘‘([11])

علامہ بدرُالدین عینی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’جمہور علماء کے نزدیک نمازِ جنازہ پڑھنا فرضِ کفایہ ہے۔ جنازے کے ساتھ جانے کا مطلب یہ ہےکہ جنازے کو اُٹھانا اور ایک دوسرے سے کندھے بدلنا یہ رشتہ داروں اور پڑوسیوں پر لازم ہے۔ جنازے کی اتباع کرنے کی تین اقسام ہیں : پہلی قسم تو یہ ہے کہ صرف اُس پر نمازہ جنازہ پڑھی جائے  اِس میں ایک قیراط اجر ہے۔ دوسری قسم  یہ کہ جنازے کے ساتھ جائے اور تدفین تک اُس کے ساتھ رہے اور اس میں دو قیراط اجر ہے۔ تیسری قسم یہ ہے کہ دفن کے بعد اُس کو تلقین بھی کرے ۔ ‘‘([12])

حقوق مسلمین سےمتعلق اہم وضاحت:

 



[1]   ترمذی ،  کتاب الجنائز ،  باب ما جاء فی عیادۃ المریض ،  ۲ / ۲۹۰ ،  حدیث :  ۹۷۱۔

[2]   ابن حبان ،  کتاب البر والاحسان ، باب ماجاء فی الطاعات وثوابھا ،  ۱ /  ۲۹۵ ،  حدیث :  ۳۷۳۔

[3]   مرقاۃ المفاتیح  ،  کتاب  الجنائز ،  باب عیادۃ المریض۔ ۔ ۔  الخ ،  ۴ / ۶  ،  تحت الحدیث : ۱۵۲۵۔

[4]   ترمذی  ، کتاب الاستئذان والآدب ، باب ماجاء فی المصافحۃ ، ۴ / ۳۳۴ ،  حدیث :  ۲۷۴۰۔

[5]   الترغیب والتر ھیب ،  کتاب الجنائز  ،  باب الترغیب فی عیادۃ المرضی۔ ۔ ۔ الخ  ،  ۴ / ۱۶۶ ،  حدیث : ۱۹۔

[6]   ابو داود  ،  کتاب الجنائز  ،  باب الدعاء للمريض عند العیادۃ  ،  ۳  / ۲۵۱ ،  حدیث :  ۳۱۰۶۔

[7]   بخاری ،  کتاب الجنائز ، باب من انتظر حتی تدفن ،  ۱ /  ۴۴۶ ،  حدیث :  ۱۳۲۵۔

[8]   مسلم  ،  کتاب الجنائز ، باب فضل الصلاۃ علی الجنازۃ ،  ص۴۷۲ ،  حدیث :  ۹۴۵۔

[9]   مسلم  ،  کتاب الجنائز ، باب فضل الصلاۃ علی الجنازۃ ،  ص۴۷۲ ،  حدیث :  ۹۴۵۔

[10]   مجمع الزوائد  ،  کتاب الجنائز  ،  باب اتباع الجنازۃ ۔ ۔ ۔ الخ ،  ۳ / ۱۳۲ ،  حدیث :  ۴۱۳۴۔

[11]   مرآۃ المناجیح ، ۲ / ۴۰۳۔

[12]   عمدۃ القاری ،  کتاب  الجنائز ،  باب الامر باتباع الجنائز ،  ۶ / ۱۰  ،  تحت الحدیث : ۱۲۳۹۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن