دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 3 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

ترجمہ : حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ  دو عالَم کے مالک ومختار ، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر پانچ حق ہیں : سلام کا جواب دینا ، بیمار کی عیادت کرنا ، جنازوں کے پیچھے چلنا ، دعوت قبول کرنا اور چھینک کا جواب دینا۔ ‘‘

اورصحیح مسلم کی ایک روایت میں یہ ہے کہ ’’مسلمان کے مسلمان پر چھ حقوق ہیں : جب وہ تم سے ملاقات کرے تو تم اسے سلام کرو ، جب وہ  تمہیں دعوت دے تو تم اُس کی دعوت قبول کرو ، جب وہ  تم سے کوئی نصیحت  طلب کرے تو تم اُس کو نصیحت کرو اور جب وہ چھینکے اور اَلْحَمْدُلِلّٰہِ کہے تو اُس کی چھینک کا جواب دواور جب وہ بیمار ہوجائے تو اُس کی عیادت کرواور جب وہ مر جائے تو اُس کے جنازہ میں شرکت کرو۔ ‘‘

حقوق میں تمام مسلمان برابر ہیں:

حضرت علامہ ملا علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’اِس حدیث پاک میں ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر جو حقوق بیان کئے گئے ہیں ان میں تمام مسلمان برابر ہیں ، چاہے نیک ہوں یا بد لیکن اتنا ضرور ہے کہ نیک لوگ خندہ پیشانی ، اچھے طریقے سے ملاقات کرنے  اور مصافحہ میں پہل کرنے کے زیادہ حقدار ہیں۔ ‘‘([1])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ احادیث میں ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حقوق بیان فرمائے گئے ہیں ، اِن چھ حقوق کا اِجمالی بیان پیش خدمت ہے :

(1)۔۔۔سلام کا جواب اور اس کے بہترین الفاظ:

مذکورہ حدیث پاک میں مسلمان کا ایک حق یہ بھی بیان فرمایا گیا کہ جب وہ سلام کرے تو اسے جواب دیا جائے۔ آج کل ہماری اکثریت سلام کرنے کے طریقے اور الفاظ سے ناواقف نظر آتی ہے ، اسی طرح سلام کا جواب دینے کا بھی علم نہیں ہوتا۔ چنانچہ اعلیٰ حضرت ، امام اہلسنت ، مجدددین وملت ، پروانہ شمع رسالت ، مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن فتاویٰ رضویہ شریف میں ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں : ’’(سلام کرنے والا) کم از کم اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہےاور اس سے بہتر  وَرَحْمَۃُ اللہِ  ملانا اور سب سے بہتر وَبَرَکَاتُہٗ شامل کرنا (یعنی سلام کے سب سے بہتر الفاظ یہ ہیں : اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہُ) اور اس پر زِیادت نہیں (یعنی اس سے زائد الفاظ نہ کہے) پھر سلام کرنے والے نے جتنے الفاظ سلام میں سلام کیا ہے جوا ب میں اتنے کا اعادہ تو ضرور ہے اور افضل یہ ہے کہ جواب میں زیادہ کہے ۔ اس نے اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہا تو یہ وَعَلَیْکُمُ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللہِ  کہے اور اگر اس نے  وَبَرَکَاتُہٗ کہا تو یہ بھی اتنا ہی کہے ، اس سےزیادت نہیں۔ ‘‘([2])

سلام کے 11 مَدَنی پھول:

                             دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۳۲ صفحات پر مشتمل رسالے’’۱۰۱مدنی پھول‘‘ صفحہ ۲ سے سلام کے ۱۱مدنی پھول پیش خدمت ہیں : (1)مسلمان سے ملاقات کرتے وقت اُسے سلام کرنا سنّت ہے۔ (2) بہارِ شریعت حصہ ۱۶صفحہ ۱۰۲ پر لکھے ہوئے جُزیئے کا خلاصہ ہے : ’’ سلام کرتے وَقت دل میں یہ نیّت ہو کہ جس کو سلام کرنے لگا ہوں اِس کامال اور عزّت و آبرو سب کچھ میری حفاظت میں ہے اور میں اُن میں سے کسی چیز میں دَخل اندازی کرنا حرام جانتا ہوں ۔ ‘‘(3) دن میں کتنی ہی بار ملاقات ہو ، ایک کمرہ سے دوسرے کمرے میں بار بار آنا جانا ہو وہاں موجود مسلمانوں کو سلام کرنا کارِ ثواب ہے۔ (4) سلام میں پہل کرنا سنّت ہے۔ (5) سلام میں پہل کرنے والا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کامُقرَّب ہے۔ (6) سلام میں پہل کرنے والا تکبُّر سے بھی بری ہے جیسا کے میرے مکّی مَدَنی آقا ، میٹھے میٹھے مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ باصفا ہے : ’’ پہلے سلام کہنے والا تکبُّر سے بَری ہے۔ ‘‘ (7) سلام (میں پہل) کرنے والے پر ۹۰ رَحمتیں اور جواب دینے والے پر ۱۰ رَحمتیں نازِل ہوتی ہیں۔   (8) اَلسَّلَامُ عَلَیْکُم کہنے سے ۱۰ نیکیاں ملتی ہیں۔ ساتھ میں وَ رَحمَۃُ اللہ بھی کہیں گے تو ۲۰نیکیاں ہو جائیں گی اور وَبَرَکاتُہ شامل کریں گے تو ۳۰ نیکیاں ہو جائیں گی۔ بعض لوگ سلام کے ساتھ جنَّتُ المقام اور دوزخُ الحرام کے الفاظ بڑھا دیتے ہیں یہ غلط طریقہ ہے۔ بلکہ مَن چلے تومعاذاللہیہاں تک بَک جاتے ہیں : ’’آپ کے بچّے ہمارے غلام۔ ‘‘ (9) اِسی طرح جواب میں وَعَلَیکُمُ السَّلامُ وَ رَحمَۃُ اللہِ وَ بَرَکاتُہٗ کہہ کر ۳۰ نیکیاں حاصِل کی جا سکتی ہیں۔ (10) سلام کا جواب فوراً  اور اتنی آواز سے دینا واجِب ہے کہ سلام کرنے والا سُن لے۔ (11) سلام اور جوابِ سلام کا دُرُست تلفُّظ یاد فرما لیجئے۔ سلام کا درست تلفظ یہ ہے : اَلسَّلامُ عَلَیکُمْ(اَسْ۔ سَلا۔ مُ ۔ عَلَے۔ کُمْ) جواب کا درست تلفظ یہ ہے : وَعَلَیْکُمُ السَّلَام (وَ۔ عَ۔ لَیکُ۔ مُسْ۔ سَلام)۔ ہزاروں سنّتیں سیکھنے کیلئے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ دو کُتُب ’’بہارِ شریعت حصّہ۱۶‘‘ نیز ’’سنّتیں اور آداب‘‘ ہدیۃً حاصِل کیجئے اور پڑھیے۔ سنّتوں کی تربیت کا ایک بہترین ذَرِیعہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی قافِلوں میں عاشِقانِ رسول کے ساتھ سنّتوں بھرا سفر بھی ہے۔

سیکھنے سنّتیں قافلے میں چلو                                                               ……  لُوٹنے رَحمتیں قافلے میں چلو

ہو ں گی حل مشکلیں قافلے میں چلو                             ……  پاؤ گے بَرَکتیں قافلے میں چلو

(2)دعوت قبول کرنا :

مسلمان پر اپنے مسلمان بھائی کا دوسرا حق ’’اُس کی دعوت کو قبول کرنا ‘‘بیان فرمایاگیا ہے۔ چنانچہ شیخ عبد الحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’مسلمان بھائی کی



[1]   مرقاۃ المفاتیح  ،  کتاب الجنائز  ،  باب عیادۃ المریض ، ۴  / ۶ ،  تحت الحدیث : ۱۵۲۵۔

[2]   فتاوٰی رضویہ ، ۲۲ / ۴۰۹۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن