30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’اُسے روکو یا ظلم کرنے سے منع کرو کیونکہ یہی اس کی مدد ہے ۔ ‘‘
علامہ غلام رسول رضوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ظالم کی مدد اس کو ظلم سے روکنا ہے کیونکہ اگر اس کو ظلم سے نہ روکو گے تو وہ ظلم میں اور آگے بڑھ جائے گا اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کی ایک دن اس سے قصاص لیا جائے گا لہٰذا اس کو ظلم سے روکنے میں اس کو قصاص سے نجات دلانا ہے اور یہ اس کی مدد ہے ۔ ‘‘([1])
مسلمان بھائی کی ہر حال میں مدد کرو:
مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’ اپنے بھائی مسلمان کی بہرحال مدد کرو ، خواہ تمہاری مدد اس کو خوش کرے یا مغموم کرے۔ یعنی ظالم کو ظلم سے روک دینا ہی اس کی بڑی مدد ہے کہ اسے مظلوم کی بددعاؤں سے ، اللہ کے عذاب سے بچالینا ہے۔ ‘‘([2])
شارح حدیث سیدمحمود احمدرضوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’رُوحِ حديث یہ ہے کہ تمام دنیا کے مسلمانوں کے درمیان اِسلامی رشتے کی بنیا دپر ایک دوسرے پر جو حقوق ہیں اُس کا لحاظ رکھنا چاہیے ۔ بلا وجہ کسی مسلمان پر ظلم وزیادتی کرنا تو حرام و ناجائز ہے لیکن اِسلامی رشتے کا تقاضہ یہ بھی ہے کہ اپنے کسی مسلمان بھائی کو نشانۂ ظلم بننے کے لئے بے مدد نہ چھوڑا جائے اور حتی المقدور اُس کی قانونی ، مالی اور اَخلاقی اِمداد کی جائے۔ ‘‘([3])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ حدیث پاک سے یہ دو اہم مدنی پھول حاصل ہوئے : (۱) فقط کسی کو نیکی کی دعوت دینا یا اچھائی کی طرف بلانا ہی اُس کی مدد نہیں ہے بلکہ کسی کو ظلم سے روکنا ، یا اُس کی ذات میں پائی جانے والی کسی بھی برائی سے روکنا بھی دراصل اُس کی مدد کرنا ہے۔ (۲) حقیقی مددگار اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پاک ذات ہے ، مگر اُس کی عطا سے اُس کے بندے بھی ایک دوسرے کے مددگار ہیں ، کوئی اپنے بھائی کو نیکی و اچھائی کی طرف بلا کر اُس کی مددکرتا ہے تو کوئی اپنے بھائی کو برائی سے منع کرکے یا بچا کر اُس کی مدد کرتا ہے۔ لہٰذا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بندے بھی اُس کی عطا سے ایک دوسرے کے مددگار ہوسکتے ہیں۔
اسم جلالت ’’اللہ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)اسلامی رشتے کی بنیاد پرمسلمانوں کے درمیان جو حقوق لازم ہوتے ہیں اُن کا لحاظ رکھنا چاہیے۔
(2)اپنے مسلمان بھائیوں کی ہرحال میں ہرطرح سے مدد کرنی چاہیے۔
(3)ظالم اور مظلوم دونوں کی مدد کی جاسکتی ہے ، ظالم کو اُس کے ظلم سے روکنااور مظلوم کو ظالم کے ظلم سے چھڑا نا اُس کی مدد ہے۔
(4)حقیقی مددگار فقط اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی ہے مگر اُس کی عطا سے اُس کے بندے بھی ایک دوسرے کے مددگار ہیں اور وہ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے مسلمان بھائیوں کی ہر طرح سے مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، انہیں نیکی کی دعوت دینے اور گناہوں سے بچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 238 مسلمان کے مسلمان پر حقوق
عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِىَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِـمِ خَمْسٌ:رَدُّ السَّلَامِ وَعِيَادَةُ الْمَرِيضِ وَاتِّبَاعُ الْجَنَائِزِ وَ اِجَابَةُ الدَّعْوَةِ وَتَشْمِيْتُ الْعَاطِسِ.([4])
وَفِيْ رِوَايَةٍ لِمُسْلِم ٍ : حَقُّ الْمُسْلِمِ سِتٌّ: اِذَا لَقِيْتَهُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ وَاِذَا دَعَاكَ فَاَجِبْهُ وَاِذَا اسْتَنْصَحَكَ فَاَنْصِحْ لَهُ وَاِذَا عَطِسَ فَحَمِدَ اللهَ فَشَمِّتْهُ وَاِذَا مَرِضَ فَعُدْهُ وَاِذَا مَاتَ فَا تَّبِعْهُ.([5])
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع