30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اپنے لئے پسند کرتا ہے۔‘‘([1])
مسلمان بھائی کے لیے پسند یا ناپسند کی وضاحت:
جو شےاپنے لیے پسند کرے وہی اپنے بھائی کے لیے بھی پسند کرے۔ شاہ عبد الحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’خواہ اس شے کا تعلق دُنیوی خیر سے ہو یا اُخروی خیر سے ہو۔ اُخروی خیر یہ ہے کہ دوزخ کے عذاب سے نجات اور درجاتِ جنت کا حصول اور یہ ایمان ، نیک اَعمال کا تقاضہ کرتا ہے اور دُنیوی خیر سے مراد اَسبابِ متاع اور اہل و اولاد ہیں جو آخرت میں بھلائی کا ذریعہ ہیں ، جب اِنسان اپنے لئے اِن دونوں کی خواہش کرتا ہے تو اُسے دوسرے تمام مسلمانوں کے لئے بھی یہی خواہش کرنی چاہیےلیکن وہ شخص جو نفس و شیطان کے شر اور فتنہ و فسادِ باطن کی وجہ سے ایسے مال کی خواہش کرے جو ظلم و فساد اور عذاب کاذریعہ بنے تو اس کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ ایسی چیز کی خواہش دوسرے مسلمان کے لئے بھی کرےبلکہ اسے خود ایسے بُرے عمل سے باز آنا ضروری ہے یا ایک شخص مال ودولت کے حُصُول کی خواہش تو رکھتا ہےاور اُس کا مقصد یہ ہو کہ میں اُس مال کو نیکی کے کام میں خرچ کروں گاتو یہ اچھی چیز ہے لیکن یہ کسی ایسے شخص کے لئے یہ خواہش نہ کرے کہ جس کے بارے میں یہ سمجھتا ہو کہ اسے مال و دولت ، گناہ کے کاموں کی طرف لے جائے گا کیونکہ یہ اس کے حق میں خیر نہیں۔ ‘‘([2])
’’پنجتن‘‘ پاک کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اُس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)جو شے اپنے لیے پسند ہو وہی اپنے بھائی کے لیے بھی پسند کرنا ایمانِ کامل کی نشانی ہےلہٰذا جو شے اپنی ذات کے لیے بندہ پسندنہیں کرتا تو اُسے چاہیے کہ اپنے بھائی کےلیے بھی اُسےپسند نہ کرے۔
(2)پسند یا ناپسند کا تعلق دینی واُخروی دونوں طرح کی چیزوں سے ہے ، جس طرح دِینی طور پر بندہ اپنے بارے میں یہ چاہتا ہے کہ دنیا سے وہ ایمان سلامت لے جائے ، اُس کا خاتمہ ایمان پر ہو ، کل بروزِ قیامت اُس کے لیے آسانیاں ہوں ، جنت میں داخلہ نصیب ہو ، یہی تمام باتیں وہ اپنے دیگر مسلمان بھائیوں کے لیے بھی پسند کرے اور اِس کی کوششیں کرے ، اِسی طرح دُنیوی نعمتوں کا معاملہ ہے۔
(3)جو شخص نفس و شیطان کے شر کی وجہ سے حرام ذریعے سے مال جمع کرنے کا خوہش مند ہو تو اس کے لئے یہ بات جائز نہیں کہ اپنے مسلمان بھائی کے لئے بھی یہ خواہش رکھے کیونکہ یہ تو بذاتِ خود گناہ ہے اور گناہ سے بچنے کا حکم ہے نہ کہ بندہ اپنے بھائی کے لیے بھی اس گناہ کی خواہش کرے۔
(4)اگر کوئی شخص اپنی ذات کے لیے مال ودولت کی اس لیے خواہش رکھتا ہے کہ اسے نیکی وبھلائی کے کاموں میں خرچ کرے البتہ اسے معلوم ہے کہ میرا فلاں بھائی مال ودولت کو نیکی کے کاموں میں خرچ نہیں کرپائے گا تو اس کے حق میں مال ودولت کی خواہش نہ کرنا بہتر ہے۔
(5)یہ بھی معلوم ہوا کہ مال ودولت میں اضافے کی خواہش کرنا مطلق ممنوع نہیں ہے بلکہ نیکی وبھلائی کے کاموں میں خرچ کرنے کی نیت سے مال میں اضافے کی خواہش کرنا اچھی بات ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ ہمیں اپنے مسلمان بھائیوں کے لیے بھی وہی اچھی چیزیں اور باتیں پسند کرنے کی توفیق عطا فرمائے جو ہم اپنی ذات کے لیے پسند کرتے ہیں۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 237 ظالِم ومَظلُوم بھائی کی مدد
وَعَنْہُ:قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:اُنْصُرْ اَخَاكَ ظَالِمًا اَوْ مَظْلُومًا فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُوْلَ اللَّهِ اَنْصُرُهُ اِذَا كَانَ مَظْلُوْمًا اَرَاَ يْتَ اِنْ كَانَ ظَالِمًا كَيْفَ اَنْصُرُهُ؟ قَالَ: تَحْجُزُهُ اَوْ تَمْنَعُهُ مِنَ الظُّلْمِ فَاِنَّ ذٰلِكَ نَصْرُهُ. ([3])
ترجمہ : حضرت سیدنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ تاجدارِ رِسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’اپنے بھائی کی مدد کرو ، خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ ‘‘ ایک شخص نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! جب وہ مظلوم ہوتا ہےتو میں اس کی مدد کرتا ہوں لیکن جب وہ ظالم ہو تو میں اس کی مدد کس طرح کروں؟‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع