30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(2)ایک دوسرے سے حسد نہ کریں کیونکہ حسد ایک ایسی بیماری ہے جو نیکیوں کو اِس طرح کھاجاتی ہے جس طرح آگ سوکھی لکڑی کو۔
(3)کسی بھی شے کی خریدوفروخت میں قیمت بڑھانا منع ہے جبکہ اس کو خریدنے کا ارادہ نہ ہو ، فقط اس لیے قیمت بڑھائی جائے تاکہ خریدنے والا زیادہ سے زیادہ قیمت پر خریدے ، یہ نجش اور شرعاً ناجائز ہے۔
(4)کسی بھی مسلمان کے متعلق اپنے دل میں بغض وکینہ ہرگزنہیں رکھنا چاہیے ، بغض وکینہ دین کو تباہ وبرباد کردیتا ہے ، بعض وکینہ رکھنے والا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت سے محروم رہتا ہے۔
(5)کسی شے کی خریدوفروخت میں جب فریقین کے درمیان سودا طے ہوگیا ہوتو اب کسی دوسرے کے لیے یہ جائز نہیں کہ اُس سودے پر قیمت بڑھا کر دوسرا سودا کرے۔
(6)اِسلام نے بھائی چارے اور اخوت کو فروغ دیا ہے اور یقیناً اخوت وبھائی چارے میں ہی ایک بہترین معاشرے کا قیام پوشیدہ ہے۔
(7)ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر کئی طرح کے حقوق ہیں ، اپنے مسلمان بھائی کو کسی طرح بھی تکلیف پہنچانا جائز نہیں ہے ، ایک سچا اور حقیقی مسلمان کبھی بھی اپنے دوسرے بھائی پر ظلم نہیں کرتا ، نہ ہی اسے حقیر جانتا ہے اور نہ ہی اُسے بے یارومددگار چھوڑتا ہے۔
(8)جن چیزوں کا اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حکم دیا ہے اُن پرعمل کرنے اور جن سے منع فرمایا ہے اُن سے رُکنے کانام تقویٰ وپرہیزگاری ہے۔
(9)اپنے کسی بھی مسلمان بھائی کو کسی بھی وجہ سے حقیر نہیں جاننا چاہیے۔
(10)ایک مسلمان کی عزت ، مال اور اُس کا خون دوسرے مسلمان پر حرام ہے ، اب کسی کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی عزت کو پامال کرے ، اُس کے مال میں ناجائز تصرف کرے یا اُس کے خون کی حرمت کو پامال کرے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں مسلمانوں کے حقوق کو اچھی طرح ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، کسی بھی مسلمان کو حقیر نہ جاننے کی توفیق عطا فرمائے ، تقویٰ وپرہیزگاری اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 236 کامِل مُؤمن کی نشانی
عَنْ اَنَسٍ عَنِ النَّبِىّ ِصَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم َ قَالَ:لَا يُؤْمِنُ اَحَدُكُمْ حَتّٰى يُحِبَّ لِاَخِيْهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ. ([1])
ترجمہ : حضرت سیدنا اَنَسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’تم میں سے کوئی بھی شخص اُس وقت تک (کامل)مؤمن نہیں ہوسکتاجب تک کہ وہ اپنے بھائی کے لئے بھی وہی شےپسندنہ کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے ۔ ‘‘
اِیمان سے مراد اِیمانِ کامل ہے:
فقیہ اعظم ، حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اِس حدیث پاک میں اِیمان سے مراد اِیمانِ کامل ہے۔ محبت کسی کی طرف دِل کے میلان کو کہتے ہیں ، یہاں محبت سے مراد پسندیدگی ہے۔ مراد یہ ہے کہ کامل مؤمن وہی ہے جو اپنے مسلمان بھائی کے لئے وہی پسند کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔ اس کو لازم ہے کہ جو بات اپنے لئے ناگوار جانے وہ دوسروں کے لئے بھی ناپسند کرے یعنی آدمی یہ چاہتا ہے کہ ہم آرام ، اِعزاز کے ساتھ خوش وخرم رہیں کوئی ہماری توہین و تذلیل نہ کرے کوئی ہمیں
اِیذا نہ پہنچائے ، کوئی ہمارا حق غصب نہ کرے ، اِسی طرح یہ بھی چاہیے کہ میرا بھائی اِعزاز و اکرام کے ساتھ خوش و خرم رہے ، نہ اس کی توہین و تذلیل ہو ، نہ اس کا حق غصب کیا جائے ۔ اس سے بطورِ لزوم یہ بھی سمجھ میں آیا کہ ہر شخص اگر اس کا عادی ہوجائے تو معاشرہ صاف و ستھرا رہے گااور زندگی چین و اطمینان سے گزرے گی اس حدیث میں تواضع ، مروت ، امداد ، باہمی ایک دوسرے کے کام آنے اور دوسرے کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی بلیغ ترین تبلیغ ہے ، حسد ، کینہ ، عداوت ، بغض ، ایذا رسانی ، حق تلفی ، تفوق ترفع تحقیر و تذلیل سے دور رہنے کی انتہائی دلنشین پیرائے میں تلقین ہے اسی لئے علماء نے اس حدیث کو بھی جَوَامِعُ الْکَلِم اور اُمُّ الْحَدِیث میں سے شمار فرمایا ہے۔ ‘‘([2])
شے سے مراد عبادات یا مباحات ہیں:
علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک کا معنی یہ ہے کہ کسی بھی شخص کا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی کے لئےبھی اس چیز کو پسند نہ کرے جس کو اپنے لئے پسند کرتا ہے اور اس چیز سے مراد عبادات یامباح چیزیں ہیں تو جس کا ایمان کامل ہوگا وہ اپنے بھائی کے لئے اسی نعمت کو پسند کرے گا جسے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع