30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہیں ہے۔ چنانچہ صدرُالشریعہ بدرُالطریقہ حضرت علامہ ومولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ایک شخص کے دام چکالینے (یعنی قیمت طے کرلینے )کے بعد دوسرے کو دام چکا نا (نئی قیمت طے کرنا)ممنوع ہے اس کی صورت یہ ہے کہ بائع (بیچنے والا)ومشتری (خریدنے والا)ایک ثمن (قیمت)پر راضی ہوگئے صرف اِیجاب وقبول ہی یامبیع (بیچی گئی شے)کو اُٹھاکر دام (قیمت)دے دینا ہی باقی رہ گیا ہے ، دوسرا شخص دام بڑھاکر لیناچاہتا ہے یا دام اُتنا ہی دےگا مگر دُکاندار سے اس کا میل ہے ، یا یہ ذی وجاہت (مقام ومرتبے والا)شخص ہے دُکاندار اُسے چھوڑ کر پہلے شخص کو نہیں دے گا (تو ان تمام صورتوں میں دوسرا سودا کرنا منع ہے) اور اگر اب تک دام طے نہیں ہوا ، ایک ثمن (قیمت)پر دونوں کی رضامندی نہیں ہوئی ہے تو دوسرے کو دام چُکا نا (یعنی قیمت طے کرنا)منع نہیں۔ ‘‘([1])
کسی مسلمان کو حقیر نہ جاننےسے مراد:
مذکورہ حدیث پاک میں یہ بھی بیان فرمایا گیا ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان پر نہ تو ظلم کرے ، نہ ہی اسے حقیر جانے اور نہ ہی اسے اکیلاچھوڑ ے۔ علامہ محمد بن علان شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’حقیر نہ جاننے سے مراد یہ ہے کہ اسے چھوٹا نہ سمجھے اور اس کی قدرومنزلت کو نہ گھٹائے کیونکہ جب ربّ تعالیٰ نے اسے پیدا فرمایا تو اس کی تحقیر نہ فرمائی بلکہ اسے رفعت وبلندی عطا فرمائی ، اس سے خطاب فرمایا اور اسے اَحکام شرعیہ کا مکلف بنایا لہٰذا اب جو بھی اُس کی تحقیر کرے گا گویا وہ رب تعالیٰ کی حد بندی سے تجاوز کرے گا اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حَد سے تجاوز کرناایک بہت بڑا گناہ اور بُرائی ہے۔ اسی وجہ سے یہ فرمایا گیا کہ ’’کسی شخص کے برا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر جانے۔ ‘‘ حقارت دراصل تکبر سے پیدا ہوتی ہے ، جب بندے میں تکبر پیدا ہوجاتا ہے وہ اس تکبر کے سبب اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھنے لگتا ہے ، اُسے عیوب تلاش کرنے والی نظروں سے دیکھتا ہے ، وہ اُسے اِس بات کا اہل نہیں سمجھتا کہ اس کے حقوق کی پاسداری کی جائے۔ ‘‘([2])
شارِحِ حدیث علامہ ملا علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’کسی بھی مسلمان کو حقیر نہ جاننے سے مراد یہ ہے کہ اُس کے عیبوں کا ذکر نہ کرے ، اُس کے بُرے بُرے نام نہ رکھے ، اُس کے ساتھ مذاق نہ کرے ، جب اُسے مفلوک الحال دیکھے یا کسی بیماری میں مبتلا دیکھے یا اُسے بات کرنا نہ آتی ہو تو اُس پر طنز کے طور پر نہ ہنسے ، کیونکہ ہوسکتا ہے کہ اُس کا ضمیر زیادہ مخلص ہو اور وہ قلبی طور پر زیادہ متقی ہوایسے شخص سے جس میں اِس کے برعکس صفات پائی جاتی ہوں ۔ پس جسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے تقویٰ دے کر عزت بخشی ہے اُس کی تحقیر کرکے بندہ اپنے آپ پر ہی ظلم کرے گا۔ ‘‘([3])
بے یارومددگار نہ چھوڑنے کے معانی:
’’ایک مسلمان اپنے دوسرے مسلمان بھائی کو بے یارومددگار نہ چھوڑے۔ ‘‘ علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نےاِس کے کئی معانی بیان فرمائے ہیں :
(1) امام جلال الدین سیوطی شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’مراد یہ ہے کہ جب کوئی مسلمان ظالم کے ظُلم یا اس جیسے کسی اور معاملے سے نجات کے لیے کسی دوسرے مسلمان سے مدد طلب کرے اور وہ اس کی مدد پر قادر ہو اور کوئی مانع شرعی بھی نہ ہو تو اب اس کی مدد کرنا لازم ہے۔ ‘‘([4]) (2) علامہ ابن اثیر جزری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’اس کا معنی یہ ہے کہ اس کی مدد اور نصرت کو کبھی ترک نہ کرے۔ ‘‘([5]) (3) علامہ محمد بن علان شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’مراد یہ ہے کہ اپنے بھائی کی مدد کرنا کبھی ترک نہ کرے خصوصاً جب کہ وہ مدد کا محتاج اور مجبور ہو۔ ‘‘ مزید فرماتے ہیں : ’’اپنے مسلمان بھائی کو بے یارومددگار چھوڑدینا ، دِنیوی ودُینی دونوں اعتبار سے حرام بلکہ سخت حرام ہے۔ دُنیوی اعتبار سے اِس طرح کہ کوئی مظلوم کی مدد کرنے یا اُسے ظالم سے بچانے پر قادر ہو پھر بھی اُسے نہ بچائے تو یہ دُنیوی اعتبار سے اپنے مسلمان بھائی کو بے یارومددگار چھوڑ دینا ہے۔ دِینی اِعتبار سے اِس طرح کہ کوئی غیبت میں مبتلا ہے اور اگر یہ اُسے نصیحت کرے تو وہ رُک جائے گا مگر پھر بھی یہ اُسے نصیحت نہ کرے تو یہ دینی اعتبار سے اپنے مسلمان بھائی کو بےیارومددگار چھوڑ دینا ہے۔ اور یہ دونوں صورتیں ممنوع ہیں۔‘‘([6])
”حضور غوث پاک “ کے 10 حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے10مدنی پھول
(1)اسلام آپس میں عداوتوں اور نفرتوں کا نہیں بلکہ محبتوں اور شفقتوں کا درس دیتا ہے۔
[1] بہار شریعت ، حصہ ۱۱ ، ۲ / ۷۲۳۔
[2] دلیل الفالحین ، باب فی تعظیم حرمات المسلمین ، ۲ / ۲۴ ، تحت الحدیث : ۲۳۶۔
[3] مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الآداب ، باب الرحمۃ والشفقۃ علی الخلق ، ۸ / ۶۹۰ ، تحت الحدیث : ۴۹۵۹۔
[4] الدیباج علی مسلم ، کتاب الادب والبر والصلۃ ، باب تحریم ظلم المسلم۔ ۔ ۔ الخ ، ۵ / ۵۰۷ ، تحت الحدیث : ۲۵۶۴۔
[5] النھایۃ ، باب الخاء مع الذال ، ۲ / ۱۶۔
[6] دلیل الفالحین ، باب حرمات تعظیم المسلمین ، ۲ / ۲۰ ، تحت الحدیث : ۲۳۵۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع