30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرتے ہیں اور اُن کی اِس حرکت سے گاہک دھوکا کھا جاتے ہیں۔ گاہک کے سامنے مبیع کی تعریف کرنا اور اُس کے ایسے اَوصاف بیان کرنا جونہ ہوں تاکہ خریدار دھوکا کھاجائے یہ بھی نجش ہے۔ جس طرح ایسا کرنا بیع میں ممنوع ہے ، نکاح ، اِجارہ وغیرہ میں بھی ممنوع ہے۔ اس کی ممانعت اُس وقت ہے جب خریدار واجبی قیمت دینے کے لیے تیارہے اور یہ دھوکا دے کر زیادہ کرنا چاہےاور اگر خریدار واجبی قیمت سے کم دے کر لینا چاہتا ہے اور ایک شخص غیر خریدار اس لیے دام بڑھارہاہے کہ اصلی قیمت تک خریدار پہنچ جائے ، یہ ممنوع نہیں کہ ایک مسلمان کو نفع پہنچاتا ہے بغیر اس کے کہ دوسرے کو نقصان پہنچائے۔ ‘‘([1])
’’بغض یہ ہے کہ انسان اپنے دل میں کسی کو بوجھ جانے ، اس سے غیر شرعی دشمنی رکھے ، نفرت کرے اور یہ کیفیت ہمیشہ باقی رہے ۔ ‘‘([2]) بغض کی قرآن وحدیث میں شدید مذمت بیان فرمائی گئی ہےچنانچہ قرآنِ پاک میں ارشاد ہوتا ہے :
اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ عَنِ الصَّلٰوةِۚ-فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ(۹۱) (پ۷ ، المائدۃ : ۹۱)
ترجمۂ کنزالایمان : شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بَیر اور دشمنی ڈلوا دے شراب اور جوئے میں اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے تو کیا تم باز آئے ۔
صدرُالافاضل حضرتِ علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی’’خزائن العرفان‘‘ میں اِس آیت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : ’’اس آیت میں شراب اور جوئے کے نتائج اور وبال بیان فرمائے گئے کہ شراب خواری اور جوئے بازی کا ایک وبال تو یہ ہے کہ اس سے آپس میں بُغض اور عداوتیں پیدا ہوتی ہیں اور جو ان بدیوں میں مبتلا ہو وہ ذکرِ الٰہی اور نماز کے اوقات کی پابندی سے محروم ہو جاتا ہے ۔ ‘‘([3])احادیث میں بھی بغض رکھنے والوں کی مذمت بیان فرمائی گئی ہے ، نیز بغض رکھنے والوں سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ، دانائے غیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ (ماہ)شعبان کی پندرہویں رات اپنے بندوں پر (اپنی قدرت کے شایانِ شان) تجلّی فرماتاہے اور مغفرت چاہنے والوں کی مغفرت فرماتا ہے اور رحم طلب کرنے والوں پر رحم فرماتاہے ، جبکہ بغض و کینہ رکھنے والوں کو اُن کی حالت پر چھوڑ دیتا ہے۔ ‘‘([4]) ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا : ’’بغض رکھنے والوں سے بچو کیونکہ بغض دِین کو مُونڈ ڈالتا (یعنی تباہ کردیتا )ہے۔ ‘‘([5])
کسی بھی مسلمان کے متعلق بلا وجہ شرعی اپنے دل میں بغض وکینہ رکھنا ناجائز وگناہ ہے۔ سیِّدُنا عبد الغنی نابلسیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’حق بات بتانے یا عدل و اِنصاف کرنے والے سے بغض و کینہ رکھنا حرام ہے۔ ‘‘([6]) بلا وجہ شرعی مسلمانوں سے بغض وکینہ رکھنے والوں کی کل بروزِقیامت بہت سخت پکڑ ہوگی ، بلکہ بسا اوقات تو دنیا میں ہی لوگوں کو مسلمانوں سےبغض وکینہ رکھنے والوں کا عبرت ناک انجام دکھادیا جاتا ہے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا ابنِ عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی خدمت میں کچھ لوگ گھبرائے ہوئے حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے : ’’ہم حج کی سعادت پانے کے لیے نکلےتھے ، ہمارے ساتھ ایک آدمی تھا ، جب ہم ذَاتُ الصِّفَاحْ کے مقام پر پہنچے تو اُس کا انتقال ہو گیا۔ ہم نے اُس کے غسل و کفن کا انتظام کیاپھر اُس کے لیےقبر کھودی اور اُسے دفن کرنے لگے تو دیکھا کہ اچانک اس کی قبر کالے سانپوں سے بھر گئی ہے۔ ہم نے وہ جگہ چھوڑکر دوسری قبر کھودی تو دیکھتے ہی دیکھتے وہ بھی کالے سانپوں سے بھر گئی ، بالآخر ہم اسے وہیں چھوڑ کر آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوگئے ہیں۔ ‘‘یہ واقعہ سن کر حضرت سیِّدُنا ابنِ عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے ارشاد فرمایا : ’’یہ اس کاکینہ ہے جووہ اپنے دل میں مسلمانوں کے متعلق رکھا کرتا تھا ، جاؤ!اور اسے وہیں دفن کردو ۔ ‘‘([7]) اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں مسلمانوں کے بغض وکینہ سےمحفوظ فرمائے۔ آمین
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!واضح رہے کہ تمام اَحکامِ شرعیہ میں مسلمانوں کا فائدہ ہی فائدہ ہے ، جس چیز میں مسلمانوں کا نقصان تھا اسے شریعت نے ممنوع قرار دیا۔ کسی چیز کی خریدوفروخت میں جب دو شخصوں کے مابین بات طے ہوگئی ، سودا ہوگیا ، ایک نےچیز بیچ دی اور دوسرے نے خرید لی اگرچہ ابھی قیمت یا بیچی گئی چیز کا لین دین نہیں ہوا ، کسی تیسرے شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ اُس سودے پر قیمت بڑھا کر کوئی دوسرا سودا کرے ، کیونکہ اِس طرح کرنے میں مسلمانوں کا نقصان ہے اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی شرعاً اجازت
[1] بہارشریعت ، حصہ ۱۱ ، ۲ / ۷۲۳۔
[2] احیاء العلوم ، کتاب ذم الغضب و الحقد والحسد ، القول فی معنی الحقد ۔ ۔ ۔ الخ ، ۳ / ۲۲۳۔
[3] خزائن العرفان ، پ۷ ، المائدہ ، تحت الآیۃ : ۹۱۔
[4] شعب الایمان ، باب فی الصیام ، ماجاء فی لیلۃ ۔ ۔ ۔ الخ ، ۳ / ۳۸۳ ، حدیث : ۳۸۳۵ ۔
[5] کنزالعمال ، کتاب الاخلاق ، قسم الاقوال ، ۳ / ۲۰۹ ، حدیث : ۷۷۱۴۔
[6] الحدیقۃ الندیۃ ، السادس العاشر من الاخلاق الستین المذمومۃ ، ۱ / ۶۲۹۔
[7] موسوعۃابن ابی الدنیا ، کتاب القبور ، ۶ / ۸۳ ، رقم : ۱۲۸۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع