30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس کی برکت سے مسلمانوں کی خیر خواہی کا جذبہ بیدار ہوگا۔ اگر ایسا ہوگیا تو ہمارا معاشرہ ایک بار پھر مدینہ منورہ کے دلکش وخوشگوار، خوشبودار وسدا بہار رنگ برنگے پھولوں سے لدا ہوا حسین گلزار بن جائے گا۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ
طیبہ کے سوا سب باغ پامال وفنا ہوں گے
دیکھو کے چمن والو جب عہد خزاں آیا
’’ایمان‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جس طرح اِیمان وتقویٰ پر بیعت لیا کرتے تھے، اِسی طرح نیک اَعمال پر بھی بیعت لیا کرتے تھے اِسے بیعتِ اَعمال کہتے ہیں۔
(2)نصیحت یعنی خیر خواہی کا دوسرا نام دِین اور اسلام ہے۔
(3)نصیحت کرنا فرضِ کفایہ ہے۔ اگرمعلوم ہو کہ سامنے والا میری نصیحت کو قبول کرلے گا اور کسی نقصان کا بھی اندیشہ نہ ہوتو نصیحت کرنا لازم ہے، ورنہ اختیار ہے۔
(4)صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان مسلمانوں کے ساتھ بھرپور خیر خواہی کیا کرتے تھے، ہمیں بھی اُن کی سیرتِ طیبہ پر عمل کرتے ہوئے مسلمانوں کی خیر خواہی کا جذبہ بیدا رکرنا چاہیے۔
(5)بزرگانِ دِین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْنمسلمانوں کی خیر خواہی اور اُن کو نقصان سے محفوظ رکھنے کے لیے اپنا نقصان بھی برداشت کرلیتے تھے۔ہمیں بھی چاہیے کہ بزرگانِ دِین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْنکے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اپنے اندر مسلمانوں کی خیر خواہی کا عظیم جذبہ بیدار کریں۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّعمل کی توفیق عطا فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر:183 کامِل مُؤمِن کی عَلامَت
عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم قَالَ لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی یُحِبَّ لِاَخِیْہِ مَا یُحِبُّ لِنَفْسِہِ. ([1]) ترجمہ:حضرتِ سَیِّدُنا اَنسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ دو عالَم کے مالک ومختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک (کامل) مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اپنےبھائی کے لئے وہی چیز پسند نہ کرے جو وہ اپنے لئے پسند کرتا ہے۔‘‘
عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں: ’’اِس حدیث پاک میں کمالِ ایمان کی نفی کی ہے یعنی کوئی شخص اس وقت تک کامل مؤمن نہیں ہوسکتا۔ کسی چیز کے نام کی نفی سے اس کے کامل ہونے کی نفی ہوتی ہے ۔جیسا کہ اہل عرب کا مقولہ ہے: ’’فُلَانٌ لَیْسَ بِاِنْسَانٍیعنی فلاں شخص اِنسان نہیں ہے ۔‘‘ مراد یہ ہے کہ وہ کامل انسان نہیں ہے۔‘‘([2])
عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں:’’اس سے مرادیہ ہے کہ خیر اور نیکی کی جو چیز بھی اپنے لئے پسند کرے وہ اپنے بھائی کے لئے بھی پسند کرے۔خیر ایک جامع لفظ ہے جس میں تمام نیکیاں، دینی اور دنیاوی تمام مباح یعنی جائز کام شامل ہیں اِس سے ممنوعہ یعنی ناجائز کام نکل گئے ۔‘‘([3])
عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:’’بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے فرمایا کہ اِس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں سے تکلیف دہ چیز اور ناپسندیدہ چیزوں کو دُور کرےجیسا کہ حضرت سیدنا اَحْنَف بِنْ قَیْسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : اگر مجھے کسی کی کوئی بھی بات یا فعل ناپسند ہوتو میں بھی کسی اور کے ساتھ وہ بات یا فعل نہیں کرتا ۔‘‘([4])
مسلمان بھائی کی پسند کی وضاحت:
مرآۃ المناجیح میں ہے:یہ فرمانِ عالی حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے جامع کلمات سے ہے ،اِن چند لفظوں میں دونوں جہاں کی خوبیاں جمع ہیں۔ کوئی شخص مؤمن کامل اُس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک کہ اپنےمسلمان بھائی کے لئے دینی و دُنیاوی وہ چیز نہ پسند کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔ خیال رہے کہ یہاں خیر یعنی اچھائی وبھلائی مراد ہے یعنی ہر مسلمان کے لئے دنیا و آخرت کی خیر پسند کرو جو اپنے لئے پسند کرتے ہو۔اپنے مسلمان بھائی کے لیے اچھائی وبھلائی کی پسند کا ظہور مختلف طریقوں سے ہوسکتا ہے۔مثلاً کسی کے
[1] بخاری ، کتاب الایمان ، باب من الایمان ان یحب لاخیہ مایحب لنفسہ ، ۱ / ۱۶ ، حدیث : ۱۳۔
[2] فتح الباری ، کتاب الایمان ، باب من الایمان ان یحب لاخیہ۔ ۔ ۔ الخ ، ۲ / ۵۵ ، تحت الحدیث : ۱۳۔
[3] فتح الباری ، کتاب الایمان ، باب من الایمان ان یحب لاخیہ ۔ ۔ ۔ الخ ، ۲ / ۵۵ ، تحت الحدیث : ۱۳۔
[4] شرح بخاری لابن بطال ، کتاب الایمان ، باب من الایمان ان یحب لاخیہ۔ ۔ ۔ الخ ، ۱ / ۶۵۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع