دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 3 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

نعمت پر ربّ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کی بجائے غرور تکبر سے پھولے نہیں سماتے ، خود کو بڑا اور دوسروں کو حقیر سمجھنے لگ جاتے ہیں۔ اگر کوئی اُن کے نئے کپڑوں کو غلطی سے بھی ہاتھ لگادے تو غصے میں لال پیلے ہوجاتے ہیں ، ’’تمہاری جرأت کیسے ہوئی میرے نئے کپڑوں کو ہاتھ لگانے کی؟ ‘‘ تکبر سے بھرے ہوئے ایسے جملے اُن کی زبان سے اکثر سننے کو ملتے ہیں ، نئی گاڑی ، نئی موٹر سائیکل ، یا گھر کی کوئی بھی نئی چیز لی ، یا گھر ہی نیا خریدا یا کوئی اچھی نوکری مل گئی تو فوراً دوسروں کو حقیر سمجھنے لگتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو ڈر جانا چاہیے ، کیونکہ انہیں حدیث مبارکہ میں بُرا فرمایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ فقط دُنیوی عیش وعشرت کی کوئی اہمیت نہیں جب تک اِس دنیا سے ایمان سلامت لے کر نہ جائیں ، ہماری یہ امارت کس کام کی جو ہمیں اُخروی اعتبار سے کوئی فائدہ نہ دے ، ہم سے وہ غریب اچھا جس کے پاس پرانی چیزیں ہیں مگر وہ ربّ تعالیٰ کی رضا والے کاموں میں مصروف ہے ، اُس کی اطاعت وفرمانبردای میں لگا ہوا ہے ، اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے کون واقف ہے؟ کسے معلوم کہ اُس کا انجام کیا ہوگا؟ ہمارے بزرگانِ دِین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن بھی دوسروں کو حقیر سمجھنے کی بجائے فقط اپنی اِصلاح کی کوشش میں مصروف رہا کرتے تھے ، نیز ہروقت اللہ عَزَّوَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے خائف رہا کرتے تھے۔ چنانچہ امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ’’اگر آسمان سے ندا کی جائے کہ روئے زمین کے تمام لوگ بخش دیے گئے ہیں سوائے ایک کے تومیں خوفِ خدا کے سبب یہی سمجھوں گا کہ وہ شخص میں ہی ہوں اور اگر یہ ندا کی جائے کہ رُوئے زمین کے تمام لوگ دوزخی ہیں سوائے ایک شخص کے تو میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رحمت سے امید کے سبب یہی سمجھوں گا کہ وہ شخص بھی میں ہی ہوں۔ ‘‘([1])

کاش! ہم بھی دوسروں کو حقیر سمجھنے کی بجائے عاجزی وانکساری کرنے والے بن جائیں ، احترامِ مسلم کرنے والے بن جائیں ، اپنی آخرت کی تیاری کرنے والے بن جائیں ، اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے ڈرنے والے بن جائیں ، تقویٰ وپرہیزگاری اختیار کرنے والے بن جائیں۔ آمین

مدنی گلدستہ

’’صفامروہ‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور

اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول

   (1)تمام مسلمان آپس میں دِینی بھائی ہیں ، جس طرح ہم اپنے سگے بھائی کو کوئی تکلیف وغیرہ نہیں پہنچاتے ویسے ہی اپنے دینی بھائیوں کو بھی کسی قسم کی تکلیف نہیں دینی چاہیے۔

   (2)کسی بھی مسلمان کے ساتھ خیانت کرنا ناجائز وحرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔

   (3)جھوٹوں پر لعنت فرمائی گئی ہے ، نیز جھوٹ کی بھی احادیث میں شدید مذمت بیان فرمائی گئی ہے ، جھوٹ سے رزق میں بے برکتی پیدا ہوتی ہے لہٰذا جھوٹ سے بچنے میں ہی عافیت ہے۔

   (4)دھوکہ ، مکروفریب کئی بیماریوں کی جڑ ہے ، دھوکے میں سراسر نقصان ہے ، دھوکے سے بظاہر تھوڑا سا دُنیوی نفع تو حاصل کیا جاسکتا ہے مگر اُس کا اُخروی نقصان بہت زیادہ ہے لہذا دھوکہ دہی سے بچنا اور ایمان داری سے کام لینا چاہیے۔

   (5)اپنے آپ کو رضائے الٰہی کے لیے گناہوں سے بچانا اور نیکیوں میں مشغول رکھنا حقیقی تقویٰ ہے۔

   (6)جب عام مسلمان کو تکلیف دینے کی ممانعت ہے تو متقی شخص کو تکلیف پہنچانا تو بدرجہ اَولیٰ منع ہے۔

   (7)کسی بھی مسلمان کو حقیر جاننے کی شدید مذمت بیان کی گئی ہے نیز اسے بُرائی سے تعبیر فرمایا گیا ہے ، لہٰذا غرور تکبر کرکے کسی کو بھی حقیر نہیں جاننا چاہیے بلکہ عاجزی واِنکساری کرتے ہوئے اپنا محاسبہ کرنا چاہیے اور ربّ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر سے ہردم ڈرتے رہنا چاہیے۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دعا ہے کہ ہمیں مسلمان کے ساتھ خیانت ، دھوکہ اور جھوٹ سے محفوظ فرمائے ، ہمیں تمام مسلمانوں کی عزت ، مال اور جان کی حرمت کی تعظیم کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، تقویٰ وپرہیزگاری اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔                                  آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر : 235                                                                                                                                                قطع تعلقی نہ کرو

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَحَاسَدُوْا وَلَا تَنَاجَشُوْا وَلَا تَبَاغَضُوْا وَلَا تَدَابَرُوْا وَلَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ وَكُوْنُوْا عِبَادَ اللَّهِ اِخْوَانًا اَلْمُسْلِمُ اَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَحْقِرُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ التَّقْوَى هَاهُنَا ،  وَيُشِيْرُا ِلیٰ صَدْرِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ،  بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ اَنْ يَحْقِرَ اَخَاهُ ،  الْمُسْلِمَ كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ دَمُهُ وَمَالُهُ وَعِرْضُهُ. ([2])

 



[1]   احیاء العلوم ،  کتاب الخوف ،  بیان ان الافضل ھو غلبۃ الخوف۔ ۔ ۔ الخ ،  ۴ / ۲۰۲۔

[2]   مسلم ،  کتاب البر و الصلۃ  ،  باب تحریم ظلم المسلم۔ ۔ ۔  الخ  ،  ص۱۳۸۶ ،  حدیث : ۲۵۶۴۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن