30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’جب کوئی مسلما ن اپنے مسلمان بھائی کو ظاہری یا جسمانی بُری حالت میں دیکھے تو نہ اس کے عیب کو بیان کرے ، نہ اسے بُرے الفاظ سے پکارے ، نہ اس کی حالت کا مذاق اڑائے اور نہ ہی اس کو حقیر سمجھے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ یہ شخص باطن کے اعتبار سے نیک ہوتو وہ اس کی بے عزتی کر کے خود اپنا نقصان کرے گا کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے متقی شخص کی عزت کرنے کا حکم دیا ہے۔ ‘‘([1])
امام مظہر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’جو مسلمان اپنے آپ کو شرک اور گناہ سے بچائے تو اس کی تحقیر کرنا جائز نہیں اور تقویٰ کا محل دل ہے اور جس چیز کا محل دل ہو ، وہ لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہوتی ہے تو جب تقویٰ نظروں سے پوشیدہ ہے تواب کسی کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ کسی مسلمان میں تقویٰ نہ ہونے کا حکم لگائے اور اس کی تحقیر کرے۔ اس جملے کا ایک معنیٰ یہ بھی بیان کیا گیاہے کہ جس کے دل میں تقویٰ ہوتو وہ کسی مسلمان کی تحقیر نہیں کرسکتا کیونکہ متقی شخص کبھی کسی مسلمان کی تحقیر نہیں کر تا۔ ‘‘([2])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! تقویٰ کیا ہے؟ اس کے بارے میں علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے مختلف اَقوال بیان فرمائے ہیں۔ چنانچہعَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جن کاموں کو کرنے کا حکم دیا ہے اُن کو کرکے اور جن سے منع فرمایا ہے اُن کو نہ کرکے اپنے آپ کو اس کے عذاب سے بچانے کا نام تقویٰ ہے۔ ‘‘([3])
حضرت علامہ ابو القاسم عبد الکریم بن ہوازن قشیری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’تقویٰ تمام نیکیوں کا مجموعہ ہے ، تقویٰ کی حقیقت یہ ہے کہ آدمی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اطاعت کے ساتھ اس کے عذاب سے بچے۔ تقویٰ کی اصل شرک سے بچنا ، پھر گناہوں اور بُرائیوں سے بچنا ، اس کے بعد شبہات سے بچنا ہے اور اس کے بعد فضول باتوں کو ترک کرنا ہے۔ استاذ ابوعلی دقاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَاق فرماتے ہیں : تقویٰ کی ہر قسم کا الگ باب ہے اور قرآن پاک میں جو یہ فرمایا گیا کہ ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈروجیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ ‘‘اس کی تفسیر میں یہ بھی آیا ہے کہ اُس کی اطاعت کی جائے ، اُس کی نافرمانی نہ کی جائے ، اُسے یاد رکھا جائے ، بھلایا نہ جائے ، اُس کا شکر ادا کیا جائے ، ناشکری نہ کی جائے۔ ‘‘([4])
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تقویٰ کی جگہ دل بتائی کیونکہ تقویٰ خوف سے حاصل ہوتا ہے اور خوف دل میں ہی ہوتا ہے۔ دو عالَم کے مالک ومختار ، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہارے جسموں اور تمہاری صورتوں کی طرف نہیں بلکہ وہ تو تمہارے دِلوں کی طرف دیکھتا ہے۔ ‘‘([5])
حدیث پاک میں اس بات کا بیان ہے کہ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے دل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ تقویٰ یہاں ہے۔ اس کی شرح کرتے ہوئے مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’صوفیاء کرام اِس جملہ کے معنیٰ یہ کرتے ہیں کہ حضورنے اپنے سینے کی طرف اِشارہ کرکے فرمایا کہ تقویٰ و پرہیزگاری یہاں ہے یعنی تقویٰ کی کان اور پرہیزگاری کا مرکز میرا سینہ ہے۔ میرے سینے سے تمام اولیاء و علماءکے دلوں کی طرف تقویٰ کے دریا بہتے ہیں۔ پھر اُن کے سینوں سے عوام کے سینوں کی طرف تقویٰ کی نہریں نکلیں۔ حضور کا سینہ کشف غیوب (یعنی پوشیدہ باتوں کے ظاہر ہونے) کا آئینہ ہے ، کونین یعنی سارے عالَم میں حضور کی عطائیں بہتی ہیں۔ ‘‘([6])
کسی مسلمان کو حقارت سے دیکھنا:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ حدیث پاک میں جو سب سے آخر میں بات بیان فرمائی گئی وہ یہ ہے کہ ’’کسی شخص کے براہونے کے لیے یہی بات کافی ہے کہ وہ دوسرے کو حقارت سے دیکھے۔ ‘‘ اگر ہم اپنے معاشرے میں غور کریں تو کئی لوگ اِس بیماری کے مریض نکلیں گے ، خصوصاً وہ لوگ جنہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے کوئی نعمت مل جائے تو اُس
[1] مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الآداب ، باب الشفقۃ والرحمۃ علی الخلق ، ۸ / ۶۹۰ ، تحت الحدیث : ۴۹۵۹۔
[2] مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الآداب ، باب الشفقۃ والرحمۃ علی الخلق ، ۸ / ۶۹۰ ، تحت الحدیث : ۴۹۵۹۔
[3] دلیل الفالحین ، باب فی تعظیم حرمات المسلمین ، ۲ / ۲۴ ، تحت الحدیث : ۲۳۶۔
[4] الرسالہ القشیریۃ ، باب التقوی ، ص۱۴۲۔
[5] دلیل الفالحین ، باب فی تعظیم حرمات المسلمین ، ۲ / ۲۴ ، تحت الحدیث : ۲۳۶۔
[6] مرآة المناجيح ، ۶ / ۵۵۳۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع