دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 3 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

جھوٹ سے بچئے:

مذکورہ حدیث پاک میں جھوٹ نہ بولنے کا بھی حکم ارشاد فرمایا گیا ہے۔ جھوٹ کی مذمت سے کون واقف نہیں؟ جھوٹ کی مذمت کے لیے تو فقط اتنا ہی کافی ہے کہ جھوٹے پر قرآن پاک میں لعنت فرمائی گئی ہے۔ مگر افسوس! صد کروڑ افسوس!آج ہماری اکثریت اس گندی بیماری میں لت پت ہوچکی بلکہ جھوٹ ہمارے معاشرے کا ناسور بن چکا ہے ، بات بات پر جھوٹ بولنا عام ہوچکا ہے ، کوئی بات جھوٹ سے خالی نہیں ہوتی ، گھر میں بھی ایک دوسرے سے جھوٹ بولتے ہیں اورباہر بھی ۔ باپ بیٹے سے ، بیٹا باپ سے ، ماں بیٹی سے بیٹی ماں سے ، استاد شاگرد سے ، شاگرد استاد سے ، بیچنے والا خریدنے والے سے اور خریدنے والا بیچنے والے سے جھوٹ بولتا ہے۔ اسی جھوٹ کی نحوست کے سبب ہمارے معاشرے سے امن وسکون رخصت ہوچکا ہے ، رزق میں بے برکتی پیدا ہوچکی ہے ، صبح سے شام تک کماتے ہیں مگر گزارہ نہیں ہوتا۔ کاش! ہم جھوٹ سے توبہ کرنے والے اور سچ بولنے والے بن جائیں ، جھوٹ بولنے میں دنیا وآخرت کی تباہیاں اور سچ بولنے میں دنیا وآخرت کی بھلائیاں پوشیدہ ہیں۔ جھوٹ کی مذمت پر تین فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ملاحظہ کیجئے : (1) ’’مؤمن میں دوخصلتیں جمع نہيں ہو سکتیں : (۱)بخل اور (۲)جھوٹ۔ ‘‘([1])(2) ’’منافق کی3 علامتیں ہيں : (۱)جب بات کرے تو جھوٹ بولے (۲)جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے اور (۳)جب امانت اُس کے سپرد کی جائے تو اُس میں خيانت کرے۔ ‘‘([2]) (3) ’’بیشک سچائی نیکی کی طرف لے جاتی ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے اور بےشک بندہ سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے نزدیک صدیق یعنی بہت سچ بولنے والا ہوجاتا ہے جبکہ جھوٹ گناہ کی طرف لے جاتاہے اور گناہ جہنم کی طرف لے جاتا ہے اور بے شک بندہ جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے نزدیک کذّاب یعنی بہت بڑا جھوٹا ہو جاتا ہے۔ ‘‘([3])

دھوکہ دینے کی ممانعت:

مذکورہ حدیث پاک میں دھوکے سے بھی منع فرمایا گیا ہے ، دھوکہ تمام بُرائیوں کی جڑ ہے اور اسی سے ہلاکت میں ڈالنے والے تمام معاملات کی ابتدا ہوتی ہے ، دھوکہ ایک ایسا راستہ ہے جس کا اَنجام گہرا گڑھا ہے ، دھوکے باز شخص سے تمام لوگ نفرت کرتے ہیں ، دھوکہ قلبی سکون کا بہت بڑا دشمن ہے ، یہی وجہ ہے کہ دھوکے سے اگر کوئی شخص لاکھوں روپے بھی کمالے مگر اس کا دل مطمئن نہیں ہوتا جبکہ ایمان داری سے کمائے جانے والے چند روپوں میں بھی بہت سکون ہوتا ہے ، دھوکہ دینا بھی ہمارے معاشرے میں عام ہوچکا ہے ، دھوکہ مکروفریب وہ بڑی بڑی بیماریاں ہیں جو معاشرے کے بگاڑ کا سبب بنتی ہیں۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہمیں اس گناہ سے اور تمام گناہوں سے محفوظ فرمائے ، آمین۔ کئی احادیث مبارکہ میں دھوکہ دہی کی مذمت بیان فرمائی گئی ہے۔ چنانچہ دھوکےکی مذمت پر تین فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ملاحظہ کیجئے :  (1) ’’جس نے کسی مومن کونقصان پہنچایا یا اس کے ساتھ فریب کیا وہ ملعون ہے۔ ‘‘([4]) (2) ’’مکروفریب اور خیانت جہنم میں(لے جانے والے ) ہيں۔ ‘‘([5]) (3) ’’جس نے کسی مسلمان کے ساتھ بددیانتی کی یا اسے نقصان پہنچایا یا دھوکا دیا وہ ہم میں سے نہیں۔ ‘‘([6])

مسلمان کی عزت،  مال اور جان کی حرمت:

مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کی تصریح ہے کہ ایک مسلمان کی عزت ، مال اور جان دوسرے مسلمان پر حرام ہیں ، کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے دوسرے مسلمان بھائی کی عزت پامال کرے ، اسے دیگر لوگوں کے سامنے بلاوجہ شرعی بے عزت کرے ، اس کے مال میں ناجائز تصرف کرے ، اس کی جان کی حرمت کو پامال کرے۔ بہت بد نصیب ہیں وہ لوگ جو اپنے مسلمان بھائیوں کی عزتوں کو پامال کرتے ہیں ، اُن کے اَموال کو ناجائز طریقے سے اپنے تصرف میں لاتے ہیں ، اگرچہ انہیں وقتی طور پر کچھ دُنیوی فائدہ ہوجاتا ہے مگر اِس میں آخرت کا خسارہ ہی خسارہ ہے ، کل بروزِ قیامت جس کا کوئی بھی حق تلف کیا ہوگا جب تک اسے راضی نہیں کریں گے نجات نہیں ملے گی ، دنیا میں تو کسی کو مال وغیرہ دے کر راضی کیا جاسکتا ہے مگر آخرت میں یا تو اسے اپنی نیکیاں دینی ہوں گی یا نیکیاں نہ ہونے کی صورت میں اس کے گناہ لینے ہوں گے ، یقیناً نیکیاں نہ ہونا اور دوسروں کے گناہ لینا بہت ہی گھاٹے کا سودا ہے ، سب سے بڑا مفلس وہ شخص ہے جو کل بروزِقیامت نیکیوں کے ساتھ آئے گا مگر حقوق العباد کی تلفی کے سبب اس کی نیکیاں ختم ہوجائیں گی ، اور بالآخراسے جہنم میں داخل کردیا جائے گا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں دنیا وآخرت دونوں کی آزمائشوں سے محفوظ فرمائے۔    آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

متقی شخص کی عزت کا حکم:

 



[1]   کنزالعمال ، کتاب الاخلاق ،  قسم الاقوال  ، البخل من الاکمال ، ۳ / ۱۸۱ ،  حدیث : ۷۳۸۸۔

[2]   بخاری  ، کتاب الایمان  ،  باب علامات المنا فق  ، ۱ /  ۲۴ ،  حدیث :  ۳۳۔

[3]   بخاری  ،  کتاب الادب  ، باب قول اللہ تعالی  ، ۴ / ۱۲۵ ،  حدیث : ۶۰۹۴ ۔

[4]   ترمذی ،  کتاب البروالصلۃ ، باب ماجاء فی الخیانۃ والغش ، ۳ /  ۳۷۸ ،  حدیث : ۱۹۴۸۔

[5]   مستدرک حاکم ،  کتاب الاھوال ،  باب تحشرھذہ الامۃ علی ثلاثۃ اصناف  ، ۵ / ۸۳۳ ،  حدیث : ۸۸۳۱۔

[6]   جمع الجوامع ، قسم الاقوال ، حرف اللام ، ۶ /  ۱۵۷ ، حدیث : ۱۸۰۹۶۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن