30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس کی اصلاح ہوجائے ، اسے بدنام نہ کرو۔ اگر تم نے ایسا کیا تو اللہتعالیٰ قیامت کے دن تمہارے گناہوں کا حساب خفیہ ہی لے لےگا ، تمہیں رسوا نہیں کرے گا۔ ہاں جو کسی کی ایذاکی خفیہ تدبیریں کر رہا ہو یا خفیہ حرکتوں کا عادی ہوچکا ہو ، اس کا اظہار ضرور کردو تاکہ وہ شخص ایذا سے بچ جائے یا یہ توبہ کرے ، یہ قیدیں ضرور خیال میں رہیں۔ غرض کہ صرف بدنامی سے کسی کو بچانا اچھا ہے مگر اس کے خفیہ ظلم سے دوسروں کو بچانا یا اس کی اصلاح کرنا بھی اچھا ہے ، یہ فرق ضرور خیال میں رہے۔ یہاں(صاحبِ) مرقات نے فرمایا کہ جو مسلمان کی ایک عیب پوشی کرے ربّ تعالیٰ اس کی سات سو عیب پوشیاں کرے گا۔ ‘‘([1])
اسم رسالت ’’محمد‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) ايك مسلمان دوسرے مسلمان کا دینی واسلامی بھائی ہے بلکہ سگے بھائی کی طرح ہے بلکہ اس سے بھی اہم کہ سگے بھائی کا رشتہ ماں باپ کی وجہ سے قائم ہوتا ہے جبکہ دینی بھائی تو خود رسولِ کائنات ، فخر موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بنایا۔
(2) احادیث مبارکہ میں مسلمانوں کے حُسنِ معاشرت ، باہمی اُلفت ومحبت اور مؤمنوں کے عیوب کی پردہ پوشی کی بکثرت ترغیب دلائی گئی ہے۔
(3) مسلمانوں کے عیوب کی پردہ پوشی کرنی چاہیے ، بلا وجہ شرعی کسی بھی مسلمان کے عیوب کو دوسروں کے سامنے بیان کرنا یا اُس کی عیب جوئی کرنا ناجائز وحرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔
(4) کھلم کھلا گناہ کرنے والے کے گناہ کی پردہ پوشی نہیں کی جائےگی بلکہ اُس کے گناہ سے بچانے کے لیے لوگوں کو اُس کے اس گناہ کے بارے میں بتايا جائے گا۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں مسلمانوں کی عزت وحرمت کی تعظیم کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ان کی خیر خواہی کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، مسلمانوں کی عیب جوئی سے محفوظ فرمائے ، اُن کے عیوب کی پردہ پوشی کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، کل بروزِ قیامت ہمارے گناہوں کی بھی پردہ پوشی فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 234 مُسلمان کی تین اہم صِفات
عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَرَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:الْمُسْلِمُ اَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَخُوْنُهُ وَلَا يَكْذِبُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ كُلُّ الْمُسْلِـمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ عِرْضُهُ وَمَالُهُ وَدَمُهُ التَّقْوَى هَا هُنَا بِحَسْبِ امْرِئٍ مِّنَ الشَّرِّ اَنْ يَحْقِرَاَخَاهُ الْمُسْلِمَ.([2])
ترجمہ : حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضورنبی رحمت ، شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’مسلمان مسلمان کا بھائی ہے ، نہ اس سے خیانت کرے ، نہ اُس سے جھوٹ بولے اور نہ اُسےرُسوا کرے۔ ہر مسلمان کی عزت ، مال اور جان دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔ تقویٰ یہاں ہے ۔ (اوریہ فرماتے ہوئےدست اقدس سے اپنے دل کی طرف اشارہ فرمایا۔ پھر فرمایا : )کسی بھی انسان کے بُرا ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقارت کی نگاہ سے دیکھے ۔ ‘‘
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اپنے کسی بھی مسلمان بھائی کے ساتھ خیانت کرنا ناجائز وحرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ، مگر ہمارے معاشرے میں خیانت کی وبا بہت تیزی سے پھیلتی چلی جارہی ہے ، امانت میں خیانت کرنا کسی مسلمان کی شان نہیں بلکہ منافق کی صفت ہے ، خیانت میں کوئی بھلائی نہیں بلکہ اس میں دنیا وآخرت کی ذِلت ورُسوائی اور تباہی وبربادی چھپی ہوئی ہے۔ احادیث میں خیانت کی بہت شدید مذمت بیان فرمائی گئی ہے ، چنانچہ خیانت کی مذمت پر تین فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ملاحظہ کیجئے :
(1) ’’جس شخص میں یہ چارخصلتیں پائی جائیں وہ پکا منافق ہے اور جس میں اِن میں سے کوئی ایک خصلت پائی جائے تو اُس میں نفاق کی ایک علامت پائی جائے گی یہاں تک کہ وہ اُس کو چھوڑ دے اور وہ خصلتیں یہ ہیں : !جب بات کرے تو جھوٹ بولے!جب امین بنایا جائے تو خیانت کرے !جب عہد کرے تو دھوکا دے اور!جب کسی سے جھگڑے تو گالی گلوچ کرے ۔ ‘‘ ([3])(2) ’’خیانت اور حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتے ہیں جس طرح آگ لکڑیوں کوکھا جاتی ہے۔ ‘‘ ([4])(3) ’’قیامت کے دن ہر خائن کے لئے ایک جھنڈا گاڑا جائے گا اور کہا جائے گا : سنو! یہ فلاں بن فلاں کی خیانت ہے۔ ‘‘([5])
[1] مرآۃ المناجیح ، ۶ / ۵۵۱ ، ۵۵۲ملتقطاً۔
[2] ترمذی ، کتاب البر و الصلة ، باب ما جاء في شفقة ۔ ۔ ۔ الخ ، ۳ / ۳۷۲ ، حدیث : ۱۹۳۴۔
[3] بخاری ، کتاب الایمان ، باب علامۃ المنافق ، ۱ / ۲۵ ، حدیث : ۳۴۔
[4] کنز العمال ، کتاب الاخلاق ، قسم الاقوال ، جزء : ۳ ، ۲ / ۱۸۶ ، حدیث : ۷۴۴۱۔
[5] مسلم ، کتاب الجھاد ، باب تحریم الغدر ، ص۹۵۵ ، حدیث : ۱۷۳۵۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع