30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(3) امام کو چاہیے کہ تمام نمازیوں کا خیال کرتے ہوئے نہ تو بہت مختصر قراءت کرے اور نہ ہی بہت زیادہ طویل قراءت کرے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں بھی شفقت ومہربانی کی نعمت عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 232 نمازِ فجر پڑھنے والا ربّ تعالٰی کی اَمان میں
عَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللہِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ فَلَا يَطْلُبَنَّكُمْ اللَّهُ مِنْ ذِمَّتِهِ بِشَيْءٍ فَاِنَّهُ مَنْ يَطْلُبْهُ مِنْ ذِمَّتِهِ بِشَيْءٍ يُدْرِكْهُ ثُمَّ يَكُبَّهُ عَلٰی وَجْهِهِ فِيْ نَارِ جَهَنَّمَ. ([1])
ترجمہ : حضرت سیدنا جُندُب بن عبداللہ رَضِيَ اللهُ تَعَالیٰ عَنْهُ فرماتے ہیں کہ حضور نبی پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’جس شخص نے صبح کی نماز پڑھی تو وہ ربّ تعالیٰ کی امان میں ہے لہٰذا ربّ تعالیٰ تم سے اپنی امان کے بارے میں پوچھ گچھ نہ فرمائے کیونکہ جب وہ کسی سے اپنی امان کے بارے میں پوچھ گچھ فرمائے گا تو اُس کی سخت پکڑ فرمائے گااور پھر اُسے اوندھے منہ جہنم میں ڈال دے گا۔ ‘‘
عذاب الٰہی سے چھٹکارے کی کوئی صورت نہیں:
شیخ عبد الحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی مذکورہ حدیث پا ک کے تحت فرماتے ہیں : ’’یعنی تم کوئی ایسا کام نہ کرو کہ جس سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے عَہد اور اُس کی طرف سے لازم کئے ہوئے کاموں میں خلل واقع ہو اور ربّ تعالیٰ اِس پر تم سے پوچھے اور تمہاری باز پرس فرمائےاور صبح کی نماز ادا کرنے والے کسی بھی شخص کو تکلیف نہ پہنچاؤکہ اِس طرح اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا عَہد ٹوٹتا اور اُس کی امانت میں خیانت واقع ہوتی ہے اگر تم ایسا کرو گے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں عذاب میں مبتلا کرے گا اور اُس کے عذاب سے چھٹکارہ کی کوئی صورت بھی نہیں ہے۔ ‘‘([2])
نمازِ فجر ادا کرنے والا اللہ کی امان میں ہے:
مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان مذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’فجر کی نماز پڑھنے والا اللہکی امان میں ایسا ہوتا ہے جیسے ڈیوٹی کا سپاہی حکومت کی امان میں کہ اس کی بے حرمتی حکومت کا مقابلہ ہے۔ خیال رہے کہ کلمہ کی امان اور قسم کی ، نماز کی امان اور قسم کی۔ لہٰذا اَحادیث میں تعارض نہیں۔ یعنی ایسا نہ ہو کہ تم نمازی کوستاؤ اور قیامت میں سلطنتِ اِلٰہیہ کے باغی بَن کر پکڑے جاؤ۔ ‘‘([3])
نمازِفجر کی ادائیگی کی خصوصیت:
اِمَام شَرَفُ ا لدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد طِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’فجر کی نماز کو خصو صیت کے ساتھ اِس لئے ذکر کیا کہ اِس نماز کی ادائیگی دوسری نمازوں کے مقابلے میں نفس پر زیادہ گراں گزرتی ہےاور اس نماز کی ادائیگی نمازی کے اِخلاص پر دلالت کرتی ہے۔ ‘‘([4])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیث پاک میں نماز ِفجر کا ذکر ہے ، نمازِ فجرکی احادیث مبارکہ میں بہت اہمیت وفضیلت بیان فرمائی گئی ہے ، چنانچہ باجماعت نمازِ فجر کی فضیلت پر تین فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ملاحظہ کیجئے : (1)’’جس نے عشاء کی نماز باجماعت ادا کی گویا اس نے آدھی رات قیام کیا اور جس نے فجر کی نماز باجماعت ادا کی گویا اس نے پوری رات قیام کیا۔ ‘‘([5]) (2)’’منافقین پر سب نَمازوں سے بھاری فجر اور عشاء کی نَماز ہے ، اگر جان لیتے کہ اِن دونوں نَماز وں میں کیا ہے تو ضرور حاضرہوتے اگرچہ گھسٹتے ہوئے آتےاور بیشک میں نے اِرادہ کیا کہ میں نَماز قائم کرنے کاحکم دوں اور کسی شخص کو نَماز پڑھانے پر مقرر کروں ، پھر کچھ لوگو ں کو اپنے ساتھ چلنے کےلئے کہوں جو لکڑیا ں اٹھائے ہوئے ہوں ، پھر اُن لوگوں کی طر ف جا ؤں جو نَماز میں حاضر نہیں ہوتے اور اُن کے گھروں کو آگ سے جلا دوں۔ ‘‘([6]) (3)’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اِس طرح عبادت کرو گویاکہ تم اسے دیکھ رہے ہو ، اگرتم اسے دیکھ نہیں سکتے تو بے شک وہ تمہیں دیکھ رہا ہے اور اپنے آپ کو مُردوں میں شمار کرواور مظلوم کی بد دعا سے بچتے رہوکیونکہ وہ ضرور قبول ہوتی ہے اور تم میں جو
[1] مسلم ، کتاب المساجد و مواضع الصلاۃ ، باب فضل صلاۃ العشاء و الصبح فی جماعۃ ، ص۳۲۹ ، حدیث : ۶۵۶۔
[2] اشعۃ اللمعات ، کتاب الصلوۃ ، باب در توابع ومتممات ، ۱ / ۳۲۴۔
[3] مرآۃ المناجیح ، ۱ / ۳۹۵۔
[4] شرح الطیبی ، کتاب الصلوۃ ، باب فضیلۃ الصلوۃ ، ۲ / ۲۱۷ ، تحت الحدیث : ۶۲۷۔
[5] مسلم ، کتا ب المساجد ومواضع الصلوۃ ، با ب فضل صلوۃالعشا ء والصبح فی جماعۃ ، ص ۳۲۹ ، حدیث : ۶۵۶۔
[6] بخاری ، کتاب الاذان ، با ب فضل العشا ء فی الجماعۃ ، ۱ / ۲۳۵ ، حدیث : ۶۵۷۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع