30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وغیرہ وغیرہ۔ مجددِاعظم اعلیٰ حضرت امام احمدرضا قدس سرہ نے ایک بارچالیس پینتالیس دن تک ، چوبیس گھنٹے میں ایک گھونٹ پانی کے سوااورکچھ نہیں کھایاپیا ، اِس کے باوجودتصنیف ، تالیف ، فتویٰ نویسی ، مسجدمیں حاضر ہو کر نمازِ باجماعت ، اِرشاد وتلقین ، وارِدِین وصادِرِین سے ملاقاتیں وغیرہ معمولات میں کوئی فرق نہیں آیااور نہ ضعف ونقاہت کے آثار ظاہرہوئے۔ ‘‘([1])
وِصال کے روزوں سے منع فرمانے کی حکمت:
عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی فرماتے ہیں : ’’حضورنبی رحمت ، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا صومِ وِصال سے منع کرنے میں حکمت یہ تھی کہ وِصال کے روزے رکھنے کی وجہ سےکمزوری ہوگی اِطاعت وعبادت اور اُس کے حقوق اداکرنے اور اُس پر ہمیشگی اختیارکرنے سے انسان عاجز ہو جاتا ہے اس وجہ سےآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کووِصال کے روزوں سے منع فرمایااور علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا اس بات میں اختلاف ہے کہ یہ ممانعت تحریمی ہے یاتنزیہی۔ ظاہریہ ہے کہ یہ ممانعت تحریمی ہے۔ ‘‘([2])
مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’روزہ کا وصال یہ ہے کہ شب کو بغیر افطار کیے ، بغیر کچھ کھائے پئے دوسرا روزہ رکھ لیا جائے ، حق یہ ہے کہ یہ وصال ہمارے لیے مکروہ تحریمی ہے اور یہاں ممانعت حرمت کی ہے ، اس ممانعت میں صدہا حکمتیں ہیں : وصال سے جسم بہت کمزور ہوجاتا ہے ، وصال سے دوسری عبادتیں بھاری پڑ جاتی ہیں ، وصال میں جو گیوں ، سادھوؤں کی مشابہت ہے ، وصال ساری اُمَّت کے لیے ناجائز ہے خواہ اولیاء ہوں یا دیگر طبقہ کے لوگ۔ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصرف ایک دن کا نہیں بلکہ متواتر کئی کئی روز کا وصال فرماتے تھے کہ مسلسل روزے پر روزے رکھتے تھے ، اس لیے سائل کو شبہ ہوا کہ وصال تو سنت رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہونا چاہیے ، منع کیوں ہے؟‘‘([3])
حضور نبی کریم ، رَ ؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ فرمانا کہ ’’میں تمہاری مثل نہیں ہوں ، میں اپنے رب کے ہاں اِس حال میں رات گزارتاہوں کہ وہ مجھے کھلاتاپلاتاہے۔ ‘‘ مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’اس جملہ سے چند مسئلے معلوم ہوئے : (1) ایک یہ کہ کوئی شخص کسی بھی درجہ پر پہنچ کر حضورِ اَنور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مثل نہیں ہوسکتا ، جب انسان کو ناطق کی قید نے تمام حیوانیات سے ذاتی امتیاز دے دیا تو نبوت اور وحی کی صفتوں نے بھی دو عالَم کے مالک ومختار ، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو تمام انسانوں سے ذاتی ممتاز کر دیا۔ (2)دوسرے یہ کہ اگر حضورِ اَنور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبہ نیت عبادت کھانا پینا چھوڑیں تو خواہ ہفتوں نہ کھائیں ضعف و کمزوری بالکل طاری نہ ہوگی اور اگر بطورِ عادت کھانا ملاحظہ نہ کریں تو ضعف بھی نمودار ہوگا ا ور شکم پاک پر پتھر بھی باندھے جائیں گے کیونکہ حضور ِاَنور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نوربھی ہیں اور بشربھی۔ عبادت میں نورانیت کا ظہورہے اور عادت میں بشریت کی جلوہ گری۔ لہذا یہ حدیث حضرت جابر(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ)کی اس روایت کے خلاف نہیں کہ حضور نبی کریم ، رَ ؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دو وقت کھانا نہ کھانے پر دو پتھر پیٹ سے باندھے۔ (3) تیسرے یہ کہ جنتی میوے کھانے اور وہاں کا پانی پینے سے روزہ نہیں جاتا جیسے رب تعالیٰ سے کلام کرنے اور حضورِ انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو سلام کرنے سے نماز نہیں جاتی۔ بعض اولیاء خواب میں کھا پی لیتے ہیں کہ کھانے کی خوشبو بیداری کے بعد اُن کے منہ میں پائی جاتی ہے مگر اُن کا روزہ قائم رہتا ہے جیسے احتلام سے ہمارا روزہ نہیں جاتا۔ (4) چوتھے یہ کہ بعض بندوں کو اِسی زندگی میں جنتی میوے ملتے ہیں ، حضرت مریم عَلَیْہَا السَّلَام کا جنتی میوے کھانا قرآنِ پاک سے ثابت ہے۔ (5) پانچویں یہ کہ حضورِ انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ہرکام ہمارے لیے سنت نہیں بلکہ وہ کام سنت ہے جو ہمارے لیے لائق عمل ہو ، خصوصیات مصطفٰے ہمارے لیے سنت نہیں ، روزۂ وصال ، ۹بیویاں نکاح میں جمع فرمانا ہمارے لیے نہ سنت ہیں نہ لائق عمل ، سنت وحدیث میں یہی فرق ہے۔ ‘‘([4])
ربّ تعالیٰ کے کھلانے پلانے کے معنٰی:
’’میں اپنے رب کے ہاں اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ وہ مجھے کھلاتاپلاتاہے۔ “ کے تحت شیخ عبدالحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’واضح رہے کہ اس کھانے پینے میں چنداقوال ہیں : (1)ایک یہ ہے کہ اس کھانے پینے سے حسی کھانا پینا مرادہوجو حضورِاَقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ سے ہرشب آتا تھا ، آپ وہی کھاتے اور پیتے تھے ، یہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے عزت افزائی تھی جو آپ کے ساتھ خاص تھی اور آپ کا یہ کھاناپیناروزہ کے وصال کے منافی اور روزہ کے باطل ہونے کا سبب نہ تھا ، اگرچہ یہ کھانا پینادن کے وقت بھی فرض کر لیا جائے۔ جیساکہ ایک روایت میں ہے : ’’میں دن کواپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے پاس ہوتا ہو ں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع