30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حدیث نمبر:182 مسلمانوں کے ساتھ خیر خواہی پر بیعت
عَنْ جَرِیرِ بْنِ عَبْد اللَّہِ قَالَ بَایَعْتُ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم عَلَی اِقَامِ الصَّلاَۃِ وَ اِیْتَاء ِ الزَّکَاۃِ وَالنُّصْحِ لِکُلِّ مُسْلمٍ. ([1])
ترجمہ:حضرت سَیِّدُنا جریر بن عبداللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے نماز قائم کرنے، زکوٰۃ دینے اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے کی بیعت کی۔‘‘
تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے ایمان وتقویٰ پر بھی بیعت ليا کرتے تھے اور نیک اعمال پر بھی جسے بیعتِ اَعمال بھی کہتے ہیں۔یعنی اے میرے صحابہ! میری معرفت سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے وعدہ کرو کہ ہم نیک اعمال کریں گے اور گناہوں سے بچیں گے۔ بیعت کی بہت سی اقسام ہیں۔‘‘([2])
حدیث پاک سے ماخوذ چند اَہم باتیں:
شارِحِ حدیث علامہ ابنِ بطال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے مذکورہ حدیث کےتحت چند باتیں بیان فرمائی ہیں:
* نصیحت یعنی خیر خواہی کا دوسرا نام دِین اور اسلام ہے۔* دِین کا اِطلاق جس طرح عمل پر ہوتا ہے اُسی طرح قول پر بھی ہوتا ہے۔* نصیحت یعنی خیر خواہی فرضِ کفایہ ہے، البتہ جو شخص خیر خواہی کرے گا اُسے اُس کا اَجر ملے گا۔* طاقت کے مطابق نصیحت لازم ہے، نصیحت کرنے والے کو اگر معلوم ہو کہ اُس کی نصیحت کو قبول کیا جائے گا، اُس کی بات کو تسلیم کیا جائے گا، نیز اسے کسی نقصان پہنچنے کا بھی اندیشہ نہیں ہے تو اب نصیحت کرنا اُس پر لازم ہے اور اگر نقصان کا اندیشہ ہوتو پھر اختیار ہے۔([3])
سیدنا جریر بن عبد اللہ کی خیرخوا ہی:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیث کے راوی حضرت سیدنا جریر بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہاتھ پر مسلمانوں کی خیر خواہی کی فقط نیت ہی نہیں کی تھی بلکہ اس کو عملی جامہ بھی پہنایا تھا۔ چنانچہ ایک بار آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے غلام کو ایک گھوڑا خرید کر لانے کا حکم دیا۔اس غلام نے تین سو(300) درہم میں ایک گھوڑے کا سودا کیا اور گھوڑے کے مالک کو ساتھ لے آیاتاکہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اسے رقم ادا کردیں۔ جب آپ نے وہ گھوڑا دیکھا تو اس کے مالک سے کہا کہ ’’تمہارا گھوڑا توتین سو(300) درہم سے زیادہ مالیت کا ہے، کیا تم اسے چار سو(400) درہم میں بیچو گے؟‘‘مالک نے کہا: ’’ جیسے آپ کی مرضی۔ ‘‘ پھر آپ نے کہا : ’’ یہ چار سو (300)درہم سے بھی زیادہ مالیت کا ہے۔ ‘‘ یوں آپ اس گھوڑے کی قیمت میں سو (100)سو (100)دِرہم کا اضافہ کرتے رہے یہاں تک کہ آپ نے وہ گھوڑا آٹھ سو درہم(800) میں خریدا۔جب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے اس کا سبب پوچھا گیا تو فرمایا: ’’میں نےرسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے کی بیعت کی ہے۔‘‘([4])
مسلمانوں کی خیر خواہی کا عظیم جذبہ:
امیر اہلسنت مولانا محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہاپنے رسالے ’’احترام مسلم ‘‘ صفحہ ۱ پر تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا شیخ ابو عبداللہ خیاط رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس ایک آتش پرست کپڑے سلواتا اور ہر بار اُجرت میں کھوٹا سکہ دے جاتا۔ آپ اس کو لے لیتے۔ ایک بار آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی غیر موجودگی میں شاگرد نے آتش پرست سے کھوٹا سکہ نہ لیا، جب حضرت سیدنا شیخ ابو عبداللہ خیاط رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ واپس تشریف لائے اور اُن کو معلوم ہوا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے شاگرد سے فرمایا: ’’تونے کھوٹا سکہ کیوں نہ لیا؟ کئی سال سے وہ مجھے کھوٹا سکہ ہی دیتا رہا ہے اور میں بھی چپ چاپ لے لیتا ہوں تاکہ یہ کسی دوسرے مسلمان کو نہ دے آئے۔‘‘([5])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے، پہلے کے بزرگوں میں مسلمانوں کی خیر خواہی کا جذبہ کس قدر کُو ٹ کُوٹ کر بھرا ہوا ہوتا تھا۔ کسی انجانے مسلمان بھائی کو اتفاقی نقصان سے بچانے کے لیے بھی اپنا خسارہ گوارا کرلیا جاتا تھا، جبکہ آج تو بھائی اپنے بھائی کو ہی لوٹنے میں مصروف ہے۔ دعوت اسلامی دور اسلاف کی یاد تازہ کرنا چاہتی ہے۔ دعوت اسلامی نفرتیں مٹاتی اور محبتوں کے جام پلاتی ہے۔ ہر اسلامی بھائی کو چاہیے کہ وہ اپنا مدنی ذہن بنائے کہ ’’مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے۔اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ‘‘اپنی اصلاح کے لیے مدنی انعامات پر عمل اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کے لیے مدنی قافلوں میں سفر کرنا ہے۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ بطفیل مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
[1] بخاری ، کتاب الایمان ، باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم الدین النصیحہ ، ۱ / ۳۵ ، حدیث : ۵۷۔
[2] مرآۃ المناجیح ، ۶ / ۵۵۸۔
[3] شرح بخاری لابن بطال ، کتاب الایمان ، باب قول النبي صلي الله عليه وسلم الدین النصیحۃ ، ۱ / ۱۲۹۔
[4] شرح مسلم للنووی ، کتاب العلم ، باب بیان ان الدین النصیحۃ ، ۱ / ۴۰ ، الجزء الثانی۔
[5] احیاء العلوم ، کتاب ریاضۃ النفس وتھذیب الاخلاق ، بیان علامات حسن الخلق ، ۳ / ۸۷۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع