30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ، تمام صحابہ کرام ، اہل بیت عظامرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ ، اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کی غلامی پر نازاں ہے ، جب یہ غلامانِ مصطفےٰ اِخلاص کے ساتھ عاشقانِ رسول کے مَدَنی قافلوں میں سفر کر کے نیکی کی دعوت دیتے ہیں تو بسا اَوقات کُفّار دامن اِسلام میں آ جاتے ہیں۔ چنانچہ خانپور (پنجاب)کے ایک مبلغ دعوتِ اسلامی کا بیان ہے کہ بابُ المدینہ کراچی سے سنتوں کی تربیّت حاصل کرنے کیلئے تشریف لائے ہوئے مدنی قافلے کے ساتھ مجھے بھی علاقائی دورہ کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ ایک درزی کی دکان کے باہر لوگوں کو اکٹھاکر کے ہم ’’نیکی کی دعوت‘‘دے رہے تھے ۔ جب بیان خَتم ہواتو اسی دوکان کے ایک ملازم نوجوان نے کہا : ’’میں عیسائی ہوں۔ آپ حضرات کی نیکی کی دعوت نے میرے دل پر گہرا اثر کیا ہے ، مہربانی فرما کر مجھے اسلام میں داخِل کر لیجئے۔ ‘‘ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ وہ مسلمان ہو گیا۔
مقبول جہاں بھر میں ہو دعوتِ اسلامی
صَدقہ تجھے اے ربِّ غفار مدینے کا
اسم جلالت’’اللہ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی اُمت پر حد درجہ مہربان ہیں۔
(2) آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے پسندیدہ عمل کو بھی اس وجہ سے ترک فرمادیتے تھے کہ کہیں وہ اُمَّت پر لازم نہ ہوجائے اور وہ اسے ادا نہ کرنے کے سبب گناہ گار نہ ہوجائیں۔
(3) سرکارِ مدینہ راحت قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اِطاعت ہرمسلمان پر فرض ہے ، جو شخص آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اطاعت نہیں کرے گا وہ عذاب کا مستحق ہوگا۔
(4) ہمیں چاہیے کہ اپنے اندر حقیقی عشق اور محبت پیدا کریں ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنتوں پر عمل پیرا ہوجائیں ، اپنے آپ کو ہر اس عمل سے بچائیں جس میں کسی سنت کا خلاف ہوتا ہو۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سیرتِ طیبہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا سچا اور حقیقی عشق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 230 صومِِ وِصَال کی مُمَانَعت
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ : نَهَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِصَالِ رَحْمَةً لَهُمْ فَقَالُوْا : اِنَّكَ تُوَاصِلُ؟ قَالَ : اِنِّي لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ اِنِّي اَبِیْتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي. ([1])قَالَ النَّوَوِی:مَعْنَاہُ یَجْعَلُ فیِ قُوَّۃَ مَنْ اَکَلَ وَشَرِبَ.
ترجمہ : ام المؤمنین حضرت سیدتناعائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں : ’’شہنشاہِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مسلمانوں پر شفقت کرتے ہوئے انہیں صومِ وِصَال سے منع فرمایا تو صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کیا : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!آپ بھی توصومِ وِصال رکھتے ہیں۔ ‘‘ارشاد فرمایا : ’’میں تمہاری طرح نہیں ہوں بلکہ میں اپنے رب کے ہاں اس حال میں رات گزارتاہوں کہ وہ مجھے کھلاتاپلاتاہے۔ ‘‘علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکے کھلانے پلانے کا معنیٰ یہ ہے کہ وہ مجھ میں کھانے پینے والی طاقت پیداکردیتا ہے۔ ‘‘
فقیہ اعظم حضرت علامہ مفتی شریف الحق اَمجدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’صومِ وصال کا مطلب یہ ہے کہ روزہ رکھ کرنہ افطارکرے نہ سحری کھائےنہ اور کسی وقت کچھ کھائے پیے حتی کہ پانی کاایک گھونٹ بھی نہ لےاور پھردوسرے دن روزہ رکھے۔ حضرت عبداللہ بن زبیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاپندرہ دن تک کھانا ، پینا چھوڑدیتے تھے۔ امام طبری نے فرمایا کہ بعض صحابہ کے بارے میں مروی ہےکہ وہ کئی کئی دن تک کھانا ، پیناچھوڑدیتے تھےمگراِس سے اُن کے معتاد (روزمرہ کے) کاموں میں کوئی خلل نہیں پڑتاتھایہ اِس بنا پر تھا کہ انھیں کھانے ، پینے کی حاجت نہ تھی ، اِس سے مستغنی تھے ، اپناکھانا حاجت منداور فاقہ کش افراد کو دے دیتے تھے۔ حضرت ابرہیم تیمی(رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ) کبھی کبھی ایک ایک مہینہ اورکبھی کبھی دودومہینے بے کھائےپیےرہ جاتے تھے کراہت دفع کرنے کےلیے ایک گھونٹ نبیذ پی لیتے تھے ۔ رِیاضت ومجاہدہ کے لئے مشائخ سالکین کو صومِ وصال رکھنے کا حکم دیتے ہیں مگر کراہت دفع کرنے کے لیے ایک گھونٹ پانی یااور کوئی چیز بہت قلیل مقدارمیں کھانے کی اجازت دیتے ہیں۔ مثلًا کشمش کے چنددانے ، سوکھی روٹی کے ٹکڑے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع