30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
’’ مدینہ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) اسلام وہ پیارا دِین ہے جس میں جوانوں ، بچوں اور بوڑھوں تمام کے حقوق کا خیال رکھا گیا ہے۔
(2) اگر مقتدیوں میں کمزور ، بیمار اور بوڑھے افراد ہوں تو امام طویل قراءت نہ کرے۔
(3) اگر ہزار1000آدمیوں میں سے نو سو ننانوے 999آدمی دل سے چاہتے ہیں کہ امام بڑی بڑی سورتیں پڑھے مگر ایک شخص بیمار ، ضعیف یا کسی کام کا ضرورت مند ہے تو امام کو حرام ہے کہ وہ لمبی قراءت کرے بلکہ اُن ہزار میں سےفقط اس ایک کے لحاظ سے مختصر نماز پڑھائے۔
(4) اگرنمازیوں میں تمام لوگ صحت مندہوں اور وہ لمبی نمازپڑھانے سے خوش ہوں توپھرامام کے لیے لمبی نمازپڑھاناجائزہے۔
(5) اگرکوئی شخص اکیلانماز پڑھ رہاہے توجیسے چاہےپڑھےخواہ قراءت لمبی کرے یامختصر ہرطرح جائز ہے ، تخفیف کا حکم صرف امام کے لیے ہے منفردکےلیےتخفیف ضروری نہیں۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعاہے کہ وہ ہمیں ہرمسلمان کے ساتھ بھلائی کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، بوڑھے ، بیمار اور کمزور افراد کی رعایت کرنےکی توفیق عطا فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 229 حضور عَلَیْہِ السَّلَام کا پسندیدہ عمل ترک کرنا
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ : اِنْ كَانَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَدَعُ الْعَمَلَ وَهُوَ يُحِبُّ اَنْ يَّعْمَلَ بِهِ ، خَشْيَةَ اَنْ يَّعْمَلَ بِهِ النَّاسُ فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ. ([1])
ترجمہ : ام المؤمنین حضرت سیدتناعائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ حضور رحمۃ اللعالمین ، شفیع المذنبین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بسااوقات اپنے پسندیدہ کام کو اس ڈر سے ترک فرمادیتے کہ کہیں لوگ اس کو کرنے لگ جائیں اور وہ ان پر فرض نہ ہوجائے۔ ‘‘
پسندیدہ کام کو چھوڑدینے کامعنٰی اور اس کی وجہ:
عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ذیالْجَلَالفرماتےہیں : ’’حضور نبی پاک ، صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کااپنےپسندیدہ کام کوچھوڑنے کا معنی یہ ہے کہ آپ اپنی اُمَّت کی وجہ سےاس عمل کو ظاہرکرنےاور اس عمل کی طرف دعوت دینے کو چھوڑ دیتے تھے۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ اس عمل کو اپنی ذات کے لیے بھی بالکل ترک کردیتے تھے جب کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے آپ پر اس عمل کوفرض کیا تھا یا آپ کےلیے مستحب قراردیاتھا ، کیونکہ آپ اپنی اُمت سے زیادہ متقی اوران کی بہ نسبت عمل میں زیادہ کوشش فرمانے والے تھے۔ کیاتم نہیں دیکھتے کہ رمضان میں تیسری یا چوتھی رات کو جب بہت سارے لوگ نماز تراویح کے لیے جمع ہوگئے تو آپ ان کی طرف جماعت کےلیے تشریف نہیں لے گئے۔ اوراس میں کوئی شک نہیں کہ اس دن بھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے معمول کے مطابق گھرمیں نماز پڑھی تھی۔ پس آپ کو یہ خدشہ ہواکہ اگر آپ ان کی طرف جماعت کے لیے تشریف لے گئے اورانہوں نے بھی آپ کے ساتھ نمازِ تراویح کا التزام کیاتواللہعَزَّ وَجَلَّآپ کے اور اُن کے درمیان نمازِ تراویح کے حکم کو مَساوِی فرما دےگااور اُن پر بھی آپ کی طرح نمازِ تراویح فرض ہوجائے گی۔
دوسرا یہ کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ خوف تھاکہ اگر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان پابندی کے ساتھ نماز تراویح باجماعت پڑھتے رہے تووہ کمزوری کی وجہ سے مستقل طورپر باجماعت نہیں پڑھ سکیں گے اورپھر جو اس کوترک کرےگا وہ گناہ گارہوگااور وہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اِتباع کو ترک کرنے اورآپ کی مخالفت کرنے کی وجہ سےعذاب کامستحق ہوگا کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے آپ کی اتباع کو فرض قرار دیا ہےچنانچہ قرآنِ پاک میں ارشاد ہوتا ہے :
وَ اتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ(۱۵۸) (پ۹ ، الاعراف : ۱۵۸)
ترجمۂ کنزالایمان : اور ان کی غلامی کرو کہ تم راہ پاؤ۔
اورآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اتباع نہ کرنے والوں کے بارے میں ارشاد ہوتاہے :
فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ یُصِیْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۶۳) (پ ۱۸ ، النور : ۶۳)
ترجمۂ کنزالایمان : تو ڈریں وہ جو رسول کے حکم کے خلاف کرتے ہیں کہ انہیں کوئی فتنہ پہنچے یا ان پر دردناک عذاب پڑے۔
تو حضورنبی رحمت ، شفیعِ اُمُّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جومومنین پررحم وشفقت فرمانے والے ہیں آپ کو یہ خوف لاحق ہوا کہ کہیں آپ کی اِتباع ترک کرکے وہ لوگ فرض کو
[1] بخاری ، کتاب التھجد ، باب تحریض النبی صلی اللہ علیہ وسلم علی صلوۃ اللیل...الخ ، ۱ / ۳۸۴ ، حدیث : ۱۱۲۸۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع