دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 3 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

الزھراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے انہیں تھوڑی دیرروکے رکھا۔ میں سمجھا شاید انہیں ہارپہنارہی ہیں یانہلا رہی ہیں ۔ اتنے میں وہ دوڑتے ہوئے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف آئے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں گلے لگالیا اور اُن کو چوما ، پھر بارگاہِ الٰہی میں یوں عرض گزار ہوئے : ’’اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ تواِس سے محبت فرما اور جو اِس سے محبت کرے تو اُس سے بھی محبت فرما۔ ‘‘([1])

رسولُ اللہ کی حسنین کریمین   پر شفقت :

حضرت سیِّدُنا ابوبریدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتےہیں کہ تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک بار خطبہ اِرشادفرمارہےتھےکہ اتنےمیں حضرت سیدنا حسن اورحضرت سیدنا حسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا آئے جن پر دو سُرخ (دھاری دار)قمیصیں تھیں۔ وہ چلتے تھے اور گرتے تھے ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں دیکھا تو منبر سے نیچے تشریف لائے  پھر  اُن دونوں کو اُٹھا کراپنے سامنے بٹھالیا۔ ‘‘([2])

بزرگوں کے ہاتھ پاؤں یا سرچومنا جائز ہے:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واضح رہے کہ جس طرح اپنے چھوٹے مدنی منوں یا منیوں کو شفقت ومحبت سے چومنا جائز ہے ویسے ہی بزرگانِ دِین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کے ہاتھ پاؤں یا سر وغیرہ چومنا بھی جائز ہے۔ چنانچہ دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ۷۲۳صفحات پرمشتمل کتاب ’’فیضان صدیق اکبر‘‘صفحہ ۳۶۶پر ہے : ’’حضرت ابورجاء عمران عطاردی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ میں مدینہ منورہ آیا تو میں نے دیکھاکہ ایک جگہ کافی لو گ اکٹھے ہیں اور ان میں سےایک شخص کسی دوسرے کا سر چوم رہا ہےاور ساتھ ہی یہ بھی کہہ رہاہے کہ’’میں تم پر فدا ہوں ، اگر تم نہ ہوتے تو ہم تباہ ہوجاتے۔ ‘‘میں نے کسی سےپوچھا : ’’یہ دونوں کون ہیں؟‘‘بتایا گیا : ’’یہ سرچومنے والے حضرت سیِّدُناعمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہیں اورآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جن کا سرچوم رہے ہیں وہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہیں ، کیونکہ انہوں نے زکوٰۃنہ دینے والوں سے جہاد کیا اور اب وہ مانعین زکوٰۃ ذلیل ہو کر خود ان کی بارگاہ میں زکوٰۃ لائے ہیں۔ ‘‘([3])

تم ذمہ داری کے قابل نہیں ہو:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ خود بھی نہایت شفیق تھے اور آپ کی یہ خواہش بھی ہوتی تھی کہ جسے بھی حاکم مقرر کریں وہ انتہائی شفیق و مہربان ہو۔ دراصل آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی یہ مدنی سوچ آپ کی اعلیٰ ظرفی اور امت مسلمہ پر شفقت ومحبت پر دلالت کرتی ہے۔ جس شخص میں اپنی رعایا  یا  ماتحت افراد پر شفقت ومحبت کرنے کا ذہن نہیں وہ آپ کے نزدیک کوئی عہدہ دیے جانے کےقابل نہیں۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا ابو عثمان نہدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے روایت ہے کہ ایک بار امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے قبیلہ بنو اُسد کے ایک شخص کو حاکم بنایا۔ وہ عہدہ لینے کے لیے بارگاہِ فاروقی میں حاضر ہواتو دیکھا کہ آپ کا ایک چھوٹا مدنی منا بھی آپ کے پاس موجود ہے اور آپ اُسے فرط محبت سے چوم رہے ہیں۔ اُس نے تعجب سے کہا : ’’حضور! کیا آپ اس بچے کو چوم رہے ہیں؟میں نے کبھی اپنی اولاد کو محبت سے نہیں چوما۔ ‘‘یہ سن کر سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے سخت ناپسندیدگی کا اِظہار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ’’تم تو لوگوں پر بہت کم رحم کرنے والے ہو ، تم اِس قابل نہیں ہو کہ تمہیں کوئی ذمہ داری دی جائے لاؤ ہمارا وہ منصب جو ہم نے تمہیں دیا ہے ، آج کے بعد تم کبھی بھی ہمارا کوئی حکومتی کام نہیں کرو گے۔ ‘‘([4])

مدنی گلدستہ

’’ بغداد‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور

اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول

(1)   بچوں پر شفقت ومحبت کرنا اور انہیں شفقت سے چومنا نہ صرف جائز بلکہ سنت سے ثابت ہے۔

(2)   شفقت ومحبت اور رحم دلی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی بہت بڑی نعمت ہے۔

(3)   جنت میں ایک گھر ہےاس سے  وہی لوگ داخل ہوں گےجوبچوں کو خوش کرتے ہیں۔

(4)   بزرگانِ دِین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کے ہاتھ پاؤں اور سروغیرہ چومنا بھی بالکل جائز ہے۔

(5)   ہمارے اَسلاف ایسے شخص کو کوئی عُہدہ نہ دیا کرتے تھے جس کے دل میں شفقت ومحبت نہ ہوتی کیونکہ ایسا شخص مخلوق پر کیسے رحم کرے گا ؟جب اُس کے اپنے دل میں ہی رحم



[1]   بخاری ، کتاب البیوع ، باب ماذکرفی الاسواق ، ۲ / ۲۵ ، حدیث : ۲۱۲۲۔

[2]   ترمذی ، کتاب المناقب ، باب مناقب ابی محمد الحسن بن علی بن ۔ ۔ ۔ الخ ، ۵ / ۴۲۹ ، حدیث : ۳۷۹۹۔

[3]   المنتظم فی تاریخ الملوک والامم ،  ذکر خبرردۃ الیمن ،  ۴ / ۸۷۔

[4]   سنن کبری ،  کتاب السیر ،  باب ما علی الوالی من امر الجیش ، ۹ / ۷۲ ، حدیث : ۱۷۹۰۶۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن