30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وَسَلَّم کی نسبت کی وجہ سے اہل بیت کا احترام کرنا،آپ کے اَخلاق و آداب کو اپنانا،اَہلِ بیت اور صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے محبت کرنا،اُن لوگوں سے بُغض رکھنا جو سنت میں کوئی نئی وبُری چیز اِیجاد کریں یا صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانمیں سے کسی ایک صحابی سے بھی اِعراض کریں۔‘‘
(4)آئمہ مسلمین کے لیے خیر خواہی:
دِین کا ائمہ مسلمین کے لیے خیر خواہی ہونے سے مراد یہ ہے کہ ’’حق پر اُن کی مدد کرنا، حق بات میں اُن کی اطاعت کرنا، اُن کے حکم کو ماننا، نرمی کے ساتھ اُن کو تنبیہ کرنا اور ڈرانا، وہ جس چیز سے غافل ہوں اُس کی انہیں خبر دینا،انہیں مسلمانوں کے وہ حقوق یاد دلانا جن سے وہ بے خبر ہوں، اُن کے خلاف بغاوت نہ کرنا، لوگوں کے دلوں کو اُن کی اطاعت کے لیے نرم کر نا، اُن کے پیچھے نماز پڑھنا، جہاد میں اُن کا ساتھ دینا اور اُن کو صدقات اَدا کرنا۔‘‘ یہ تمام معاملات اُسی صورت میں ہیں جب کہ آئمہ مسلمین یا تو خلفاء ہوں یا قوم کے خیر خواہ حکمران ہو ں۔ائمہ مسلمین سے مراد علماءِ دین بھی ہوتے ہیں تو اُن کے ساتھ خیر خواہی کا مطلب یہ ہے کہ جو وہ بیان کریں اُسے قبول کیا جائے اور اَحکام میں اُن کی تقلید یعنی پیروی کی جائے اور اُن کے ساتھ حسنِ ظن رکھاجائے۔
(5)عام مسلمانوں کے لیےخیر خواہی:
دِین کا عام مسلمانوں کے لیے خیر خواہی ہونے سے مراد یہ ہے کہ ’’دُنیوی و اُخروی معاملات میں اُن کی رہنمائی کرنا، اُن کی تکالیف کو دُور کرنا، دِین کے بارے میں جوبات وہ نہیں جانتے اُنہیں سکھانا، قول و فعل سے اُن کی مدد کرنا، اُن کے عیبوں کو چھپانا، اُن کی ضرورت کو پورا کرنا، تکلیف دہ چیز کو اُن سے دُور کرنا، نفع دینے والی چیزوں کو اُن کے قریب کرنا، اِخلاص اور نرمی کے ساتھ اُنہیں بھلائی کا حکم دینااور برائی سے روکنا، اُن پر شفقت کرنا، اُن کے بڑوں کی عزت کرنا ،چھوٹوں پر شفقت کرنا، انہیں اچھی نصیحت کرنا، اُن کے ساتھ دھوکہ اور حسد نہ کرنا، بھلائی میں سے جو اپنے لیے پسند کرے وہ ہی اُن کے لیے بھی پسند کرنا اور ناپسندیدہ چیزوں میں سے جو اپنے لیے ناپسند کرے وہ ہی اُن کے لیے بھی ناپسند کرنا۔‘‘([1])
خیر خواہی کے لیے علم ضروری ہے:
شارِحِ حدیث علامہ اِبن بَطال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےاِس بات کو نقل فرمایا ہے کہ کوئی بھی شخص اللہ عَزَّوَجَلَّ، کتابُ اللہ، اُس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم، اَئمہ مسلمین اور عام مسلمانوں کے لئے اُس وقت تک خیر خواہ نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنے آپ سے خیر خواہی اور طلب علم کے لیے کوشش نہ کرے، کیونکہ علم ہی کے ذریعے اُسے معلوم ہوگا کہ کیا چیز اُس کے لیے واجب ہے اور کیا نہیں، نیز یہ بھی معلوم ہوگا کہ شیطان اُس کا دشمن ہے، اُس سے کس طرح بچا جاسکتا ہے؟ اورنفس کِن بُری باتوں کی طرف مائل ہوتا ہےجن سے بچنا چاہیے۔‘‘([2])
’’نصیحت‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) دِین خیر خواہی کا ہی نام ہے، بغیر خیر خواہی کے دِین کی حقیقی رُوح کوئی نہیں پا سکتا۔
(2) دِین اسلام وہ پیارا دِین ہے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم، ائمہ مسلمین اور عام مسلمانوں کے ساتھ بھی خیر خواہی کا مبارک درس دیتا ہے۔
(3) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے خیرخواہی دراصل بندے کی اپنے لیے ہی خیر خواہی ہے کہ جب وہ اَحکاماتِ اِلٰہیّہ پر عمل کرے گا تو اُسے اُس کے دِینی ودُنیوی فوائد حاصل ہوں گے۔
(4) رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لیے خیرخواہی یعنی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اِتباع کرنا، آپ کا ادب واِحترام اور تعظیم وتوقیر کرنا عین اِیمان بلکہ اِیمان کی جان ہے۔
(5) کوئی بھی شخص مسلمانوں کے لئے اُس وقت تک خیر خواہ نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنے آپ سے خیر خواہی اور طلب علم کے لیے کوشش نہ کرے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں حقیقی خیر خواہی عطا فرمائے، کما حقہ اَحکاماتِ اِلٰہیّہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، کتابُ اللہ کا ادب واِحترام اور اُس کی تلاوت کا ذوق وشوق عطا فرمائے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سچی پکی محبت عطا فرمائے، ائمہ مسلمین اور عام مسلمانوں کے ساتھ بھی حُسن سُلوک اور خیر خواہی کے ساتھ پیش آنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع