30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(1) ربّتعالٰی کا قرب بندے کی کوشش سے نہیں بلکہ ربّ عَزَّ وَجَلَّکی رحمتِ کاملہ سے ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اخلاص کے ساتھ اپنی عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اپنا قرب عطا فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی دو عظیم نِعْمَتِیں
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ:قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ :نِعْمَتَانِ مَغْبُوْنٌ فِیْہِمَا کَثِیْرٌ مِنَ النَّاسِ، اَلصِّحَّۃُ وَالْفَرَاغُ. ([1])
ترجمہ :حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشادفرمایا: ’’ تندرستی اورفراغت دو نعمتیں ایسی ہیں کہ اکثر لوگ اُن کی وجہ سے خسارہ اٹھاتے ہیں یا ان سے دھوکا کھاتے ہیں ۔ ‘‘
عَلَّامَہ بَدْرُالدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیاس حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں : ’’ نعمت عمدہ حالت کو کہتے ہیں ۔جبکہ امام فخر الدین رازی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں کہ نعمت ایسی منفعت کو کہتے ہیں جو بطریقِ احسان کسی غیر کو دی جائے۔اور حدیث پاک میں جو خسارہ فرمایا گیا اس سے مراد بیع یعنی خرید وفروخت میں خسارہ ہے۔ یعنی صحت و فراغت یہ دو ایسے کام ہیں کہ اِنہیں اگر اُن کاموں میں استعمال نہ کیا جائے جہاں کرنا چاہیے تھا تو یہ دونوں نعمتیں پانے والا شخص نقصان اٹھائے گا یعنی وہ اِن دونوں کو نقصان کے ساتھ فروخت کرے گا۔کیونکہ جو شخص تندرستی وفراغت کی حالت میں عبادتِ الٰہی نہ بجا لائے تووہ بیماری و مشغولیت میں بدرجہ اَولیٰ عبادت نہ کرسکے گالہٰذا وہ بےعملی کے سبب نقصان و دھوکے میں رہ جائے گا۔اسی طرح بعض اوقات انسان صحت مند ہوتا ہے لیکن اَسبابِ معاش یعنی کاروبار وغیرہ میں مشغولیت کی وجہ سےعبادت کے لیے فارغ نہیں ہوتا اور کبھی اس کے بر عکس (یعنی فارغ تو ہوتا ہے لیکن مرض میں مبتلا ہونے کی وجہ سے عبادت نہیں کر پاتا ) تو جسے صحت وفراغت کی نعمت ملے اور وہ پھر بھی فضائل حاصل کرنے میں کوتاہی کرے تو ایسا شخص سرا سردھوکے وغفلت میں ہے۔ ‘‘ ([2])
عَلَّامَہ حَافِظ اِبۡنِ حَجَرْ عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں : ’’ اس حدیث پاک کا حاصل یہ ہے کہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے، اس میں کی گئی تجارت کا نفع آخرت میں ظاہر ہوگا۔ تو جس نے صحت وفراغت میں احکامِ خداندی کی پیروی کی وہ قابلِ رشک وخوش نصیب ہے اور جس نے اپنے فارغ اوقات اور صحت کے ایام کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی میں گزارا تو وہ غافل اور نقصان اٹھانے والا ہے کیونکہ فراغت کے بعد مشغولیت اور صحت کے بعد بیماری آتی ہے اور اگربیماری نہ بھی آئے تو بڑھاپا آتا ہے ۔ ‘‘ ([3]) (جو خود بسا اوقات بیماریوں کا مجموعہ ہوتاہے۔)
مُفَسِّرشہِیر، مُحَدِّثِ کبیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانحدیثِ مذکور کے تحت فرماتے ہیں : ’’ تندرستی اور عبادت کے لیے موقع مل جانا اللہ (عَزَّوَجَلَّ) کی بڑی نعمتیں ہیں ۔ مگر تھوڑے لوگ ہی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں اکثر لوگ اِنہیں دنیا کمانے میں صَرف کرتے ہیں حالانکہ دنیا کی حقیقت یہ ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع