دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 2 | فیضان ریاض الصالحین جلد دوئم

book_icon
فیضان ریاض الصالحین جلد دوئم

بہت خدمت کیا کرتا تھا،  میں نے اس سے ایّامِ حج میں مسجدسے حضرتِ سیِّدُنا شیخ ابو سعید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَجِیْد کی عدم موجودگی کے متعلق پوچھا تو اس نے قسم کھائی کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے پانچوں نمازیں اسی مسجد میں ادا فرمائیں ہیں تو میں نے جان لیاکہ یہ بزرگ،  انسانوں کے سردار اَبدال  (اولیاء اللہکےا یک اعلیٰ گروہ) میں سے ہیں ۔ ‘‘  ([1])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                       صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

مدنی گلدستہ

 ’’ ولی اللہ ‘‘ کے 7 حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول

(1)    اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے ولیوں سے دشمنی رکھنا دنیا وآخرت کی تباہی وبربادی کا سبب ہے۔

(2)   اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے ولیوں سے دشمنی رکھنے والا دراصل اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا دشمن ہے،  اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا اس کے خلاف اعلانِ جنگ ہےاور جس کے خلاف خود ربّعَزَّ  وَجَلَّ اعلانِ جنگ فرمادےیہ اس کے بُرے

 خاتمے اور دنیا وآخرت میں کامیاب نہ ہونے پر دلالت کرتا ہے۔

(3)    اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے ولیوں سے ان کے ولی ہونے کی وجہ سے عداوت یعنی دشمنی رکھنے کو علمائے کرام نے کفر لکھا ہے۔

(4)    فرائض کی ادائیگی ربّ عَزَّ  وَجَلَّ کو بہت محبوب ہے،  جبکہ فرائض کے ساتھ ساتھ نوافل کی ادائیگی بھی ربّعَزَّ  وَجَلَّ کے قرب کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔

(5)    فرائض کی ادائیگی کے بغیر نوافل قبول نہیں ہوتے بلکہ مُعَلَّق رہتے ہیں ،  لہذا فرائض کی ادائیگی پہلے کرنا بہت ضروری ہے۔

(6)    جو نوافل فرائض کی ادائیگی کے بعد اداکیے جائیں وہی قربِ الٰہی کا ذریعہ بنتے ہیں ۔

(7)    جس بندے سے ربّعَزَّ  وَجَلَّ محبت فرماتا ہے اسے خلافِ شرع کاموں سے محفوظ فرمادیتا ہے۔

اللہ  عَزَّ  وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں فرائض کے ساتھ ساتھ نوافل کا بھی پابند بنائے اور ہمیں اپنے محبوب بندوں میں شامل فرمائے اور اپنے اولیاء کی دشمنی اور بغض سے محفوظ فرمائے،  ہمیں فقط ان کی محبت نصیب فرمائے۔                                                                                                   آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر 96:                       

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی بندوں   سے محبت

عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَرْوِیہِ عَنْ رَبِّہِ قَالَ:اِذَا تَقَرَّبَ الْعَبْدُ اِلَیَّ شِبْرًا تَقَرَّبْتُ اِلَیْہِ ذِرَاعًا،  وَاِذَا تَقَرَّبَ مِنِّی ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْہُ بَاعًا، وَاِذَا اَتَانِیْ مَشْیًا اَتَیْتُہُ ہَرْوَلَۃً. ([2])

                             ترجمہ :حضرت سَیِّدُنااَنَسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے روایت کرتے ہیں اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ سے روایت کرتے ہیں کہ ربّ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب بندہ مجھ سے ایک بالشت قریب ہوتا ہے تو میں اس سے ایک گز قریب ہوتا ہوں اور جب وہ مجھ سے ایک گز قریب ہوتا ہے تو میں اس سے  دو گز قریب ہوجاتا ہوں اورجب وہ میرے پاس چل کر آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں ۔ ‘‘

 



[1]   الروض الفائق ، المجلس الثانی عشر، ص۷۹۔

[2]   بخاری، کتاب التوحید، باب ذکر النبی وروایتہ عن ربہ ،۴‏ / ۵۹۰، حدیث: ۷۵۳۶۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن