مجاہدے کی تعریف
دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 2 | فیضان ریاض الصالحین جلد دوئم

book_icon
فیضان ریاض الصالحین جلد دوئم

کچھ تم کارِ خیر میں خرچ کرو گے ربّ اسے جانتا ہے بقدر اِخلاص ثواب دے گا ،  (آیت میں موجود لفظ)  ’’ مَا ‘‘  کے عموم  سے معلوم ہوا کہ ہر چھوٹا بڑا صدقہ ربّ کی بارگاہ  میں مقبول ہے بشرطِ اخلاص۔ ‘‘  ([1])  

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

مجاہدے کی تعریف:

مجاہدے کا لغوی معنی دشمن سے جنگ کرنا،  پوری طاقت لگا دینا،  پوری کوشش کرنا ہے۔جبکہ اس کی اصطلاحی تعریف کئی طرح سے بیان کی گئی ہے۔حضرت علامہ حافظ ابن حجر عسقلانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’ نفس کو عبادت کے علاوہ  دیگر  مشاغل  سے روکنے   کا  نام مُجَاھَدَہہے۔ ‘‘ تصوف کے بہت بڑے امام حضرت علامہ ابوالقاسم عبد الکریم ہوازن قشیری  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ مجاہدۂ نفس کی اصل یہ ہے کہ نفس کا مانوس چیزوں سے رُکنا اور اسے اس کی خواہشات کے خلاف پر آمادہ   کرنا ۔ نفس سے جہاد کرنے کے چار مراتب ہیں : (۱)  نفس کو حصولِ علمِ دین پرابھارنا  (۲) عمل  پرابھارنا  (۳) دوسروں کو علم سکھانے پر اُبھارنا۔  (۴)   اورلوگوں کوتوحید  کی طرف بلا نے اور منکرین ِاِسلام و منکرین اِنعاماتِ اِلٰہیَّہ سے جہاد پر اُبھارنا۔ اور مُجَاھَدَہکی اصل یہ ہے کہ انسان اپنے نفس کے جمیع اَحوال سے باخبر رہے۔  ورنہ جیسے ہی   وہ نفس کی خبر گیری  سے غافل ہوگا    شیطان اور نفس اُسے بہکا  کر  ناجائز اُمور میں مبتلا کر دیں  گے۔ ([2])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر :95                            

اللہ کے ولی کا دُشمن اللہ کا دُشمن ہے

عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:اِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی قَالَمَنْ عَادٰی لِیْ وَلِیًّا فَقَدْاٰذَنْتُہُ بِالْحَرْبِ، وَمَاتَقَرَّبَ اِلَیَّ عَبْدِیْ بِشَیْءٍ  اَحَبَّ اِلَیَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَیْہِ، وَمَا یَزَالُ عَبْدِیْ یَتَقَرَّبُ اِلَیَّ بِالنَّوَافِلِ حَتّٰی اُحِبَّہُ، فَاِذَا اَحْبَبْتُہُ کُنْتُ سَمْعَہُ الَّذِی یَسْمَعُ بِہِ،  وَبَصَرَہُ الَّذِیْ یُبْصِرُ بِہِ،  وَیَدَہُ الَّتِیْ یَبْطِشُ بِہَا،  وَرِجْلَہُ الَّتِیْ یَمْشِیْ بِہَا،  وَاِنْ سَاَ لَنِیْ لَاُعْطِیَنَّہُ، وَلَئِنِ اسْتَعَاذَنِیْ لَاُعِیْذَنَّہُ.  ([3])

ترجمہ  :حضرت ِسَیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ رسولوں کے سالار شہنشاہ ابرار  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:جس نے میرے  کسی ولی سے دشمنی کی تو میرا اس کے خلاف اعلان   جنگ ہے۔میرا بندہ جن چیزوں کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا ہے ان میں فرائض مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں اور میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا  رہتا ہے یہاں تک کہ میں اسے اپنا محبوب بنا لیتا ہوں اور میں اس کا کان ہوجاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اور اس کی آنکھ ہوجاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کا ہاتھ ہوجاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اوراس کا پاؤں ہوجاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے اور اگر وہ مجھ سے  مانگے تو میں  اسے ضرورعطا کروں گااور اگر وہ  مجھ سے  پناہ  چاہے تو میں اسے ضرور پناہ دوں گا۔ ‘‘

 



[1]   تفسیر نعیمی ، پ۳، البقرہ ، تحت الآیۃ: ۲۷۳: ، ۳ /  ۱۳۴۔

[2]   فتح الباری، کتاب الرقاق ، باب من جاھد نفسہ فی طاعۃ اللہ عزوجل، ۱۲ / ۲۸۸، تحت الحدیث: ۶۵۰۰ملتقطا۔

[3]   بخاری، کتاب الرقاق، باب التواضع، ۴ / ۲۴۸، حدیث: ۶۵۰۲۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن