30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عَزَّوَجَلَّکے سوا کسی پر اِعتماد نہ کرے۔ہاں ! مشورہ کرنا توکل کے خلاف نہیں ۔ ‘‘ ([1])
(6) بھروسہ کرنے والوں کو اللہ کافی ہے
ربّ تعالی اِرشاد فرماتا ہے:
وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗؕ- (پ۲۸، الطلاق:۳)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اسے کافی ہے۔
تفسیرِ بغوی میں ہے:حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’ اگر تم اللہ عَزَّوَجَلَّ پر ایسا توکل کروجیسا توکل کرنے کاحق ہے تو وہ تمہیں بھی ایسے ہی رزق دے گا جیسے پرندوں کو دیتا ہے کہ وہ صبح خالی پیٹ جاتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر واپس آتے ہیں ۔ ‘‘ ([2])
اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد فرماتا ہے:
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ اِذَا تُلِیَتْ عَلَیْهِمْ اٰیٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚۖ (۲) (پ۹، الانفال:۲)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: ایمان والے وہی ہیں کہ جب اللہ یاد کیا جائے ان کے دل ڈر جائیں اور جب اُن پر اس کی آیتیں پڑھی جائیں ان کا ایمان ترقی پائے اور اپنے ربّ ہی پر بھروسہ کریں ۔
تفسیر دُرِّ منثور میں ہے: حضرتِ سَیِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرما تے ہیں : ’’ مسلمان اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کسی سے اُمید نہیں رکھتے۔ ‘‘ حضرتِ سَیِّدُنا سعید بن جُبَیْررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا: ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر توکل اِیمان کو جمع کرتا ہے۔ ‘‘ مزید فرمایا کہ ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ پرتوکل کرنا نصف ایمان ہے۔ ‘‘ ([3])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! چونکہ یہ باب یقین و توکل کے بارے میں ہے، لہذا اب یقین وتوکل سے متعلق چند اَہم اُمور کی وضاحت پیش کی جاتی ہے، ملاحظہ فرمائیے۔
علامہ سیدشریف جُرجَانی حنفی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ یقین لغت میں اُس علم کو کہتے ہیں جس میں کوئی شک نہ ہو۔ اور اِصْطِلَاح میں کسی شے کے بارے میں یہ پختہ اِعتقاد رکھنا کہ وہ اِس طرح ہے، اِس کے علاوہ کسی اور طرح نہیں ہوسکتی اور حقیقت میں بھی وہ شے اُسی طرح ہو تو ایسا اِعتقاد یقین کہلاتا ہے۔ ‘‘ ([4])
صَدرُ ا لا فاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سَیِّدمحمد نعیم الدین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْھَادِیتوکل کا معنی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ توکل کے معنی ہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر اِعتماد کرنا اور کاموں کو اُس کے سپرد کر دینا۔ مقصود یہ ہے کہ بندے کا اِعتماد تمام کاموں میں اللہ پر ہونا چاہیے۔ ‘‘ ([5])
فتح الباری میں ہےکہ جمہور علمائے کرام رَحِمَھُمُ اللّٰہُ السَّلَامنے فرمایا: ’’ توکل اِس طرح حاصل ہوتا ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے کیے ہوئے وعدے پر کامل بھروسہ ہو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع