30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مراتب، حقیقت اور اس سے متعلق روایات وحکایات اور دیگر مفید باتیں بیان کی جائیں گی۔ پہلے آیاتِ مبارکہ اور ان کی تفسیر ملاحظہ فرمائیے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّقرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
وَ الَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَاؕ-وَ اِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ۠ (۶۹) (پ۲۱، العنکبوت:۶۹)
ترجمہ ٔ کنزالایمان:اور جنہوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ضرور ہم انہیں اپنے راستے دکھادیں گے اور بیشک اللہ نیکوں کے ساتھ ہے۔
عَلَّامَہ اَبُوْ مُحَمَّد حُسَیْن بِنْ مَسْعُوْد بَغَوِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیاس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : ’’ ہم انہیں ایسے سیدھے راستے کو پالینے کی توفیق دیں گے جس کے ذریعے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا تک پہنچا جاتا ہے۔ ‘‘ ایک قول یہ ہے کہ نیکیوں پر صبر کرنے کا نام مجاہدہ ہے۔حضرت سَیِّدُنَا حسن رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ ’’ نفسانی خواہشات کی مخالفت کرنا سب سے افضل جہاد ہے۔ ‘‘ حضرتِ سَیِّدُنا فُضَیل بن عیاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْفَیَّاضنے اس آیت کے تحت فرمایا: ’’ جو طلبِ علم میں کوشش کرے ہم اسے عمل کی راہ دیں گے۔ ‘‘ حضرت سہل بن عبداللہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’ جو سنتیں اپنانے کی کوشش کریں گے ہم اُنہیں جنت کی راہ دکھا ئیں گے۔ ‘‘ حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا : ’’ جنہوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ہم انہیں ثواب کی راہ دیں گے ۔ ‘‘ ([1])
اللہ عَزَّ وَجَلَّقرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
وَ اعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى یَاْتِیَكَ الْیَقِیْنُ۠ (۹۹) (پ۱۴، الحجر:۹۹)
ترجمہ ٔ کنزالایمان:اور مرتے دم تک اپنے ربّ کی عبادت میں رہو۔
علامہ بیضاوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : ’’ مذکورہ آیت میں یقین کا معنی موت ہے کیونکہ موت ہرزندہ مخلوق کو یقینی طور پر لاحق ہوتی ہے اور آیت کا معنی یہ ہوگا کہ اے بندے!اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّکی زندگی بھر اِس طرح عبادت کر کہ ایک لمحہ بھی عبادت سے خالی نہ ہو۔ ‘‘ ([2])
(3) اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کی طرف توجہ رکھو
اللہ عَزَّ وَجَلَّقرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَ تَبَتَّلْ اِلَیْهِ تَبْتِیْلًاؕ (۸) (پ۲۹، المزّمِّل:۸)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: اور اپنے ربّ کا نام یاد کرو اور سب سے ٹوٹ کر اسی کے ہو ر ہو۔
تفسیر بیضاوی میں ہے: ’’ یعنی دن اور رات اس کا ذکر کرتے رہو اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذکر میں تسبیح وتہلیل، تمجیدوتمہید، نماز، تلاوت قرآن اور علم کی مجلس سب شامل ہیں ۔ ‘‘ مزید فرماتے ہیں : ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت کے ذریعے اسی کے ہو رہو اور اپنے دل کو اس کے ما سوا سے خالی کردو۔ ‘‘ ([3])
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع