30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرتِ سَیِّدُناحسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرمایا کرتے تھے: ’’ جلدی کرو، جلدی کرو، کیونکہ یہ چند سانسیں ہیں اگر رک گئیں تو تم قرب خداوندی والے اعمال نہ کر سکو گے۔اللہ تعالٰی اس شخص پر رحم فرمائے جو اپنے نفس کی فکر کرتا ہے اور اپنے گناہوں پر روتا ہے۔ ‘‘ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی :
اِنَّمَا نَعُدُّ لَهُمْ عَدًّاۚ (۸۴) (پ۱۶، مریم: ۸۴)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: ہم تو ان کی گنتی پوری کرتے ہیں ۔
اس سے مراد سانس ہے اور آخری عدد جان کا نکلنا ہے پھر گھر والوں سے جدائی ہے اور قبر میں داخل ہونے کی آخری گھڑی ہے ۔ ([1])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مدنی گلدستہ
امام ’’ حسین ‘‘ کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) یہودی دین اسلام کے سب سے بڑے مخالف ودشمن ہیں ۔
(2) جنگ میں شجاعت و بہادری دکھانے کے لیے اپنے لیے تعریفی کلمات کہنا جائز ہے۔
(3) ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے غیب کا علم عطا فرمایا ہے جبھی تو آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے بتا دیا کہ خیبر حضرتِ علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے ہاتھوں فتح ہوگا ۔
اور کوئی غیب کیا تم سے نہاں ہو بھلا………جب نہ خدا ہی چھپا تم پہ کروڑوں درود
(4) ہمارے پیارے آقا مدینے والے مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّ وَجَلَّکےحکم سے لوگوں کو شفا دیتے ہیں اور شفا بھی ایسی کہ وہ بیماری پھر کبھی لوٹ کر نہیں آتی ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں حضور سید عالَم نورِمُجَسَّم شاہ بنی آدَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اُسْوَۂ حَسَنَہ اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کےصحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی سیرت پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ اپنی منزلِ مقصود تک پہنچنے کے لیے انسان کو مسلسل کوشش اور اَنتھک محنت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ کامیابی اُن ہی کامقدر بنتی ہے جو اپنے مقصد میں حائل ہونے والی نفسانی خواہشات کو ٹھکرا کراپنا سفر جاری رکھتے ہیں ۔ اس میں پہنچنے والی تکالیف پر صبر کرتے ہیں ۔مسلمان کی منزلِ مقصود اپنے ربّ کریم عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کا حصول ہے جس کا نتیجہ آخرت میں ملنے والی جنت اور اس کی دیگر دائمی نعمتیں ہیں ۔اس عظیم منزل تک رَسائی کے لیے نفسانی خواہشات کو ترک کرنا بہت ضروری ہےاور اِسی کا نام مُجَاھَدَہہے۔ریاض الصالحین کایہ باب مُجَاھَدَہکے بارے میں ہے۔ عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے اس باب میں 6آیاتِ مبارکہ اور 17 اَحادیثِ کریمہ بیان فرمائی ہیں ۔اس باب میں مجاہدہ کی تعریف،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع