30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
زبردست حملہ کیااور مسلمان بڑی گرم جوشی کے ساتھ بڑھ بڑھ کر دن بھر قلعہ پر حملہ کرتے رہے مگر قلعہ فتح نہ ہوسکا۔ چنانچہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”کل میں اسےجھنڈا دوں گا جس کے ہاتھ پر اللہ تعالٰی فتح دے گا، وہ اللہ ورسول کا محب بھی ہے اور محبوب بھی۔“ راوی نے کہا کہ لوگوں نے یہ رات بڑے اِضطراب میں گزاری کہ دیکھیے کل جھنڈا کس کودیا جاتا ہے؟ صبح صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان بارگاہِ اَقدس میں بڑے اشتیاق کے ساتھ یہ تمنا لیے حاضر ہوئے کہ یہ اعزازوشرف ہمیں مل جائے۔ اس لیے کہ جس کو جھنڈا ملے گا اس کے لیے تین بشارتیں ہیں ۔ (۱) وہ اللہ و رسول کا محب ہے۔ (۲) وہ اللہ ورسول کا محبوب ہے۔ (۳) خیبر اس کے ہاتھ سے فتح ہوگا۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حضرتِ سَیِّدُنا عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا بیان ہے کہ اس روز مجھے بڑی تمنا تھی کہ کاش! آج مجھے جھنڈا عنایت ہوتا۔ وہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ اس موقع کے سوا مجھے کبھی بھی فوج کی سرداری اور افسری کی تمنا نہ تھی۔لیکن صبح کو اچانک یہ صدا لوگوں کے کان میں آئی: ’’ علی کہاں ہیں ؟ ‘‘ عرض کی گئی : ’’ ان کی آنکھوں میں آشوب ہے۔ ‘‘ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں بلایا اور ان کی دکھتی آنکھوں میں اپنا لعاب دہن لگا کر دعا فرمائی تو فوراً ہی انہیں ایسی شفا حاصل ہوئی کہ گویا کوئی تکلیف تھی ہی نہیں ۔ پھر تاجدارِ دوعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے دست مبارک سے اُمُ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاکی سیاہ چادر سے جھنڈا تیار کر کے حضرتِ سَیِّدُنا علی المرتضی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِ یْمکودیا اور فرمایا : ’’ تم اطمنیان سے جاؤ اوریہودیوں کو اسلام کی دعوت دواور بتاؤ کہ مسلمان ہوجانے کے بعد تم پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے یہ یہ حقوق واجب ہوں گے۔ خدا کی قسم!اگر ایک آدمی نے بھی تمہاری بدولت اسلام قبول کرلیا تو یہ دولت تمہارے لیے سُرخ اُونٹوں سے بھی زیادہ بہتر ہے۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَا علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے قلعے کے پاس پہنچ کر یہودیوں کو اسلام کی دعوت دی، لیکن انہوں نے اس دعوت کا جواب اینٹوں ، پتھروں اور تیرو تلوار سے دیا اور قلعہ کا رئیس اعظم”مُرَحَّب“سرپرزَردیمنی چادرکاڈھاٹاباندھے اس پرپتھرکاخودپہنے، رجزکایہ شعر پڑھتے ہوئے حملے کے لیے آگے بڑھا:
قَدْ عَلِمَتْ خَیْبَرُ اَنِّیْ مُرَحَّب………شَاکِیْ السَّلَاحِ بَطَلٌ مُّجَرَّب
(یعنی خیبر خوب جانتا ہے کہ میں ”مُرحَّب“ہوں ، اسلحہ پوش، بہت ہی بہادر اور تجربہ کار ہوں ۔)
حضرتِ سَیِّدُناعلی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس کے جواب میں رِجْز کا یہ شعر پڑھا:
اَنَا الَّذِیْ سَمَّتْنِیْ اُمِّیْ حَیْدَرَہ………کَلَیْثِ غَابَاتٍ کَرِیْہِ الْمَنْظَرَہ
(یعنی میں وہ ہوں کہ میری ماں نے میرا نام حیدر (شیر) رکھا ہے۔ میں کچھار کے شیر کی طرح ہیبت ناک ہوں ۔) مُرَحَّب نے بڑے طَمْطَراق کے ساتھ آگے بڑھ کر حضرت شیرخدا پر اپنی تلوار سے وار کیا مگر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ایسا پینترا بدلا کہ مُرَحَّب کا وار خالی گیا۔ پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے بڑھ کر اس کے سر پر اس زور کی تلوار ماری کہ ایک ہی ضرب سے خود کٹ گیا اور ذوالفقار حیدری سر کو کاٹتی ہوئی دانتوں تک اتر آئی اورایک روایت میں ہے کہ اس کی رانوں تک پہنچ گئی اور اس کے دو ٹکڑے ہوگئے۔
مُرَحَّب کی لاش کو زمین پر تڑپتادیکھ کر اس کی تمام فوج حضرت شیرخدا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ پر ٹوٹ پڑی۔ لیکن ذوالفقار حیدری بجلی کی طرح چمک چمک کر گرتی تھی جس سے صفوں کی صفیں اُلٹ گئیں اور یہودیوں کے مایہ ناز بہادر مُرَحَّب، حارِث، اَسِیْر، عَامِر وغیرہ کٹ گئے۔ اسی گھمسان کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع