30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
’’ جَنَّتِ عَدْن ‘‘ کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) سمجھدار وہ ہی ہے جو زندگی کے قیمتی اور انمول لمحات کو غنیمت جان کر جلد از جلدآخرت کی تیاری میں مشغول ہو جائے۔
(2) بیماری ، مالداری ، بہت زیادہ بڑھاپا اور محتاجی آخرت کی تیاری اور اعمالِ صالحہ میں رُکاوٹ بنتے ہیں ۔
(3) مسلمان کو چاہیے کہ جب بھی موقع ملے بلکہ موقع نکال کر اَعمالِ صالحہ کی کثرت کرے کیونکہ حالات بدلتے دیر نہیں لگتی کیا خبر پھر نیکیوں کا موقع ملے یا نہ ملے ۔
(4) دجال کاظہور قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔اس کا فتنہ بہت شدید ہو گا ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہم سب کو محفوظ رکھے ۔
(5) بڑھاپے میں عبادت کی امید پر جوانی میں نیکیاں چھوڑ دیناانتہائی احمقانہ اور بے وقوفانہ عمل ہے ۔
(6) فتنوں میں مبتلا ہونے سے پہلے نیک اعمال میں جلدی کر لینی چاہیےکیونکہ فتنوں کے ظہور کے بعد نیک اعمال بجالانا بہت دشوار ہوجاتا ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی موت سے قبل آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
عَنْ اَبِی ہُرَیْرََۃ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ یَوْمَ خَیْبَر َ:لَاُعْطِیَنَّ ہَذِہِ الرَّایَۃَ رَجُلًا یُحِبُّ اللّٰہَ وَرَسُولَہُ یَفْتَحُ اللّٰہُ عَلَی یَدَیْہِ، قَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: مَا ا َحْبَبْتُ الْاِمَارَۃَ اِلَّا یَوْمَئِذٍ، قَالَ فَتَسَاوَرْتُ لَہَا رَجَاءَ اَنْ اُدْعَی لَہَا، قَالَ فَدَعَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلِیَّ بْنَ اَبِی طَالِب رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، فَاَعْطَاہ اِیَّاہَا، وَقَالَ:امْشِ وَلَا تَلْتَفِتْ حَتَّی یَفْتَحَ اللَّہُ عَلَیْکَ، فَسَارَعَلِیٌّ شَیْئًا، ثُمَّ وَقَفَ وَلَمْ یَلْتَفِتْ، فَصَرَخَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہ! عَلَی مَاذَا اُقَاتِلُ النَّاسَ؟ قَالَ: قَاتِلْہُمْ حَتَّی یَشْہَدُوْا اَنْ لَّا اِلَہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، فَاِذَافَعَلُوْاذَلِکَ فَقَدْمَنَعُوْامِنْکَ دِمَاء َہُمْ وَاَمْوَالَہُمْ اِلّابِحَقِّہَاوَحِسَابُہُمْ عَلَی اللّٰہِ. ([1])
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم نورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے خیبر کے دن ارشاد فرمایا: ’’ میں یہ جھنڈا اس شخص کو عطا کروں گا جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے محبت کرتا ہے، اللہ عَزَّ وَجَلَّاس کے ہاتھ پر فتح عطا فرمائے گا۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَاعمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ’’ میں نے اس دن کے علاوہ کبھی بھی اِمارت (سرداری ) کی خواہش نہ کی۔تو میں نے یہ امید کرتے ہوئے گردن کو بلند کیا کہ مجھے اس کے لیے بلایا جائے۔ ‘‘ پھر رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت علی بن ابوطالبکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو بلا کر انہیں وہ جھنڈا دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’ ادھرا دھر دیکھے بغیر چل پڑو، یہاں تک کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہیں فتح عطا فرما دے۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَاعلی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم چند قدم چل کر رک گئے اور ادھر ادھر دیکھے بغیر بلند آواز میں عرض کی: ’’ یارسولُ اللہ صَلَّی اللہُ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع