30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وگناہ گار اوراحکامِ الٰہی سے روگردانی کرنے والا بنادے۔ (2) ایسی محتاجی کہ جس کی وجہ سے انسان بھوک ، لباس اور غذا کی جستجو میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت سے غافل ہو جائے۔ (3) ایسی بیماری جس کی شدت کی وجہ سے بدن میں خرابی یا ایسی سُستی پیدا ہوجو دین میں خرابی کا سبب بنے۔ (4) ایسا بڑھاپا جس کی وجہ سے انسان کی عقل کمزور ہو جائے اور اسے پتہ ہی نہ چلے کہ کیا بول رہا ہے۔ (5) اچانک آنے والی موت کہ مرنے والے کو توبہ اوروصیت کا وقت بھی نہ ملے۔ ‘‘ علامہ قاضی عیاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّابفرماتے ہیں : ’’ اس سے مراد ایسی موت جواچانک بغیر کسی سبب کے واقع ہو جیساکہ کسی نے اسے قتل کردیا، یاڈوب کر یادیوار کے نیچے دب کرمر گیا۔ (6) دجال جو بہت بڑا پوشیدہ فتنہ ہےجس کا انتظار کیا جارہا ہے۔ (7) اور قیامت جو بہت بڑی مصیبت ، شدیدخوفناک اور بہت سختی والی ہے۔ ‘‘ ([1])
اِمَام شَرَفُ ا لدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد بِنْ عَبْدُاللّٰہ طِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ اس حدیث میں اس شخص کو سست قرار دیا گیا ہے جو فراغت کے باوجود فرصت کے لمحات کو غنیمت نہ جانے ۔ ایک قول کے مطابق حدیثِ مذکور کا معنی یہ ہے کہ ہر شخص دنیا میں مذکورہ حالات میں سے کسی ایک کا منتظر ہے۔خوش نصیب وہ ہے جو فرصت، صحت مندی اور جسمانی طاقت کو غنیمت جانتے ہوئے فرائض و سنن کی ادائیگی میں مشغول ہو جائے ۔ اس سے پہلے کہ کسی بیماری میں مبتلا ہو۔ ‘‘ ([2]) ( اور پھر عبادت کا موقع ہی نہ ملے۔)
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ اس حدیث پاک میں بندوں کو دین میں کمی و کوتاہی کرنے پر ڈانٹا گیا ہے۔ یعنی تم اپنے ربّ کی عبادت کب کرو گے؟ اگر تم قلتِ مشاغل (فارغ اوقات) اورجسمانی قوت کے باوجود اس کی عبادت نہیں کرتے تو کثرت مشاغل (مصروفیت) اور بدن کی کمزوری کی صورت میں اس کی عبادت کیسے کرو گے؟ ‘‘ ([3])
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان حدیث مذکور کے تحت فرماتے ہیں : ’’ صحت ، مالداری، فراغت ، اور زندگی کو رائیگاں نہ جانے دو ، اس میں نیک اعمال کرلو کہ یہ نعمتیں بار بار نہیں ملتیں ۔ میاں محمد صاحب (رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ) فرماتے ہیں : شعر
سدا نہ حُسن جوانی رہندی سدا نہ صحبت یاراں ……… سدا نہ بلبل باغاں بولے سدا نہ باغ بہاراں
باغ میں بہاراوربہار میں بلبل کی شور وپکار ہمیشہ نہیں رہتے، کبھی آتے ہیں اسے غنیمت جانو۔ (مزید فرماتے ہیں ) اگر تمہیں نیکیوں کا موقعہ ملا ہے اور تم کرتے نہیں ، کہتے ہو کہ آئندہ کرلیں گےتو کس چیز کا انتظار کر رہے ہو ؟ ایسی بیماری کا جو سرکش بنادے یا ایسی فقیری کا جب تمہیں کچھ نہ بن پڑے ، لوگ تمہیں بھول جاویں ۔ہم نے دیکھا کہ بعض لوگوں کوحج کا موقع ملتا ہے نہیں کرتے، یہ ہی کہتے رہتے ہیں کہ آئندہ دیکھا جائے گا ۔وہ آئندہ آئندہ کرتے ہی دنیا سے کوچ کرجاتے ہیں ۔ جوانی کھیل کود سے گما کر بڑھاپے میں جبکہ ہاتھ پاؤں قابو میں نہ رہیں عبادت کرنے کی خواہش کرنا بے وقوفی ہے۔ جو کرنا ہے جوانی میں کرو، جوان صالح کا بہت بڑا درجہ ہے۔ اگر ابھی اعمال نہیں کرتے تو کیا دجال کی آمد یا قیامت آنے کے منتظر ہو، اس وقت تم نیکیوں کی تمنا کروگے مگر نہ کر سکو گے۔یہ فرمان، اِظہارِعِتاب کے لیے ہے مقصد یہ ہے کہ نیک اعمال میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع