30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پاس آجائیں تو تمہارے اکثر لوگوں کو قتل کر دیں گے اور اگر تم اُن کی طرف گئے تو تم میں سے ایک بھی بچ کر نہ آئے گا۔ ‘‘
مسلمانوں کو اُس کی یہ بات کھٹکی۔جب سید عالَم نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو معلوم ہوا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! میں ضرور جاؤں گا، چاہے میرے ساتھ کوئی بھی نہ ہو۔ ‘‘ پس آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ستّر 70سواروں کے ساتھ روانہ ہوئے۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو مشرکین میں سےکوئی بھی نہ ملا۔مسلمانوں کے پاس مالِ تجارت تھا اور موضع بدر میں ہر سال آٹھ 8دن بازار لگتا تھا، وہاں مسلمانوں نے تجارت کی اور خوب نفع کماکربدر سےواپس مدینہ منورہ پہنچے۔ ‘‘ ([1])
اللہرب العزّت اِرشاد فرماتا ہے:
وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْحَیِّ الَّذِیْ لَا یَمُوْتُ (پ۱۹، الفرقان :۵۸)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: اور بھروسہ کرو اس زندہ پر جو کبھی نہ مرے گا۔
تفسیر روح البیان میں اس آیت کے تحت ہے: ’’ یعنی لوگوں کے شر سے بچنے اور اُن کے اِحسانات سے بے نیاز ہونے کے لیے اُس ربّ پر بھروسہ کرو جو ہمیشہ سے زندہ ہے اور اُسے کبھی موت نہیں آئے گی۔ وہی اِس بات کا حقیقی مستحق ہے کہ اُس پر توکل کیا جائے کیونکہ اُس کے علاوہ باقی سب کوموت آنی ہے، جب وہ مرجائیں گے تواُن پر توکل کرنے والابھی برباد ہوجائے گا۔ توکل کی اصل یہ ہے کہ بندہ اِس بات پر یقین رکھے کہ تمام اُمور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حکم سے صادر ہوتے ہیں ، اُس کے علاوہ کوئی اور اُنہیں ایجاد نہیں کرسکتا۔ اِس لیے اپنی تمام حاجات اُسی کے سِپُرد کی جائیں ۔ یہ عقیدہ رکھنا فرض اور اِیمان کی شرط ہے۔ ‘‘ ([2])
(4) اللہ عَزَّ وَجَلَّہی پر بھروسہ کرنا چاہیے
اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآن مجید میں ارشادفرماتا ہے:
وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ (۱۱) (پ۱۳، ابراھیم:۱۱)
ترجمہ ٔ کنزالایمان:اورمسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہیے۔
تفسیر رُوح البیان میں ہے : ’’ یعنی مسلمانوں پرلازم ہے کہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کہ علاوہ کسی پر توکل نہ کریں ۔ جب دُشمن مخالفت و دُشمنی کریں توصبر کریں اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر ہی بھروسہ کریں ۔ ‘‘ ([3])
(5) مشورہ کرنا توکل کے خلاف نہیں
ارشاد باری تعالی ہے:
فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِؕ- (پ۴، آل عمران:۱۵۹)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: اور جو کسی بات کا ارادہ پکا کرلو تو اللہ پر بھروسہ کرو۔
تفسیرِ خازن میں ہے: ’’ اور جب تم کسی کام کاپختہ اِرادہ کرلو توپھر تمام معاملات میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے مدد چاہو اور اُسی پر بھروسہ کرو، اُس کے سوا کسی پر اِعتماد نہ کرو۔ بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی مدد فرمانے والا، حفاظت کرنے والا اور سیدھی راہ پر چلانے والا ہے۔ اِس آیت کا مقصد یہ ہے کہ بندہ اپنے تمام معاملات میں اللہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع